Getty Imagesپتنگوں کو اب تفریح کی ایک شکل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن ایک زمانے میں یہ جنگ میں بھی استعمال ہوتے تھے
پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر لاہور میں چھ، سات اور آٹھ فروری کو دو دہائیوں بعد بسنت کا میلہ منایا جا رہا ہے۔ اس میلے کی اجازت وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دی مگر ساتھ ہی انھوں نے متعدد شرائط بھی رکھیں تاکہ یہ میلہ کسی کے لیے وبال جان نہ بنے۔
انڈیا میں بسنت کا یہ میلہ جسے مکر سنکرانتی یا اترائین کہا جاتا ہے 14 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ بھی انڈیا کے بیشتر حصوں میں پتنگ بازی کا جشن منایا گیا اور آسمان رنگوں سے بھر گیا۔
انڈیا کے شہر احمد میں اس برس کا بین الاقوامی پتنگ میلہ 10 سے 14 جنوری تک منعقد ہوا، جس میں روس، یوکرین، اسرائیل، اردن، آسٹریلیا اور انڈونیشیا سمیت 50 ممالک کے 135 پتنگ بازوں نے حصہ لیا۔
شرکا کی سب سے بڑی تعداد چلی، کولمبیا اور جنوبی کوریا سے آئی۔ ہر ملک سے چھ پتنگ باز تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پتنگ بازی کا جوش انڈیا میں اتنا ہی مضبوط ہے جتنا کہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں ہے۔
پتنگ کو عالمی جنگوں سے لے کر ہوائی جہازوں کی ترقی تک ہر چیز میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ فی الحال پتنگوں کو تفریح کی ایک شکل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
لیکن اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ پتنگ کی اہمیت تھی اور اس کی وجہ سے کتنی بڑی ایجاد ہوئی۔
شاعروں نے پتنگوں کی آزاد پرواز سے لے کر ان کی تاروں تککے متعلق بے شمار نظمیں لکھی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید مکر سنکرانتی ایک مذہبی تہوار ہو سکتا ہے، مگر پتنگ بازی ایک عام رواج ہے۔
پتنگ بازی صرف پاکستان اور انڈیا تک محدود نہیں ہے، دنیا کے کئی ممالک میں پتنگ بازی کا رواج ہے۔
Getty Imagesبہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پتنگ چین میں ایجاد ہوئی تھی پتنگ کہاں بنی؟
اب اگرچہ پتنگ بازی دنیا بھر میں مشہور ہو چکی ہے لیکن اس کی ابتدا پاکستان کے پڑوسی ملک چین سے ہوئی۔
امریکن کائٹ فلائر ایسوسی ایشن کے مطابق بہت سے سکالرز کا خیال ہے کہ پتنگوں کی ابتدا چین سے ہوئی ہے۔ تاہم، کچھ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ ملائیشیا، انڈونیشیا اور جنوبی بحرالکاہل کے لوگ بھی پتوں اور سرکنڈوں جیسے قدرتی مواد سے پتنگیں بناتے تھے اور انھیں ماہی گیری کے لیے استعمال کرتے تھے۔
450 قبل مسیح میں مشہور چینی فلسفی موزی نے لکڑی سے پرندے جیسی چیز بنانے کے لیے تین سال تک محنت کی جسے تار سے اڑایا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پتنگ تھی، لیکن یہ ایک متنازع بات ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پتنگوں کے سب سے پرانے تحریری ثبوت 200 قبل مسیح کے ہیں جو چین میں پائے جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ہان خاندان کے ایک جنرل ہان زن نے ایک شہر کی دیواروں پر حملہ کرتے ہوئے پتنگ اڑائی۔ اس سے اسے سرنگ کی لمبائی کی پیمائش کرنے میں مدد ملی جو اس کی فوج کو دیوار کے نیچے کھودنی تھی۔
13ویں صدی تک چینی تاجر کوریا، ہندوستان اور ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں پتنگیں لے آئے تھے۔ تاہم، ہر علاقے کے لوگوں نے پتنگوں کی اپنی مختلف قسمیں تیار کیں اور انھیں مختلف مواقع پر اڑایا۔
Getty Imagesانڈیا کے شہر احمد میں اس برس کا بین الاقوامی پتنگ میلہ 10 سے 14 جنوری تک منعقد ہوا، جس میں روس، یوکرین، اسرائیل، اردن، آسٹریلیا اور انڈونیشیا سمیت 50 ممالک کے 135 پتنگ بازوں نے حصہ لیا۔پاکستان اور انڈیا میں پتنگیں کیسے آئیں؟
کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں پتنگ بازی کی تاریخ مغل دور سے شروع ہوئی ہے۔ اس کا ثبوت 1500 عیسوی کی چھوٹی پینٹنگز سے ملتا ہے۔
ان پینٹنگز میں ایک نوجوان کو پتنگ کے ذریعے اپنے محبوب کو پیغام بھیجتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ محبوبہ بہت سی پابندیوں کا شکار تھی اس لیے اسے پتنگ کے ذریعے پیغام ملا۔
گجرات ٹورازم کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق پتنگیں سب سے پہلے یا تو مسلمان تاجروں یا چینی بدھ زائرین نے ہندوستان میں متعارف کروائی تھیں۔
چینی یاتری بدھ مت سے متعلق کتابوں کی تلاش میں ہندوستان آتے تھے۔
دو دہائیوں کے انتظار کے بعد لاہور میں ’بو کاٹا‘ کا شور: بسنت کو کیسے محفوظ بنایا جا رہا ہے 25 سال بعد لاہور میں بسنت کن شرائط پر منانے کی اجازت دی گئی ہے؟’کسی شخصیت کی تصویر والی پتنگ نہیں اڑ سکتی‘: لاہور میں بسنت کے حوالے سے مزید نئے قواعد و ضوابط متعارفبسنت: اندرون لاہور میں گونجتی ’بو کاٹا‘ کی آوازیں جو کیمیکل ڈور کی نذر ہو گئیں
ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل سنتنامبے نامی موسیقار نے اپنی کمپوزیشن میں پتنگوں کا ذکر کیا۔ مزید برآں، اس دور کی بہت سی قدیم چھوٹی پینٹنگز میں لوگوں کو پتنگ اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
گجرات ہندوستان کے سب سے مغربی سرے پر واقع ہے۔ یہاں مسلم اور ہندو ثقافتوں کا ملاپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے لائی گئی پتنگیں ہندو تہواروں جیسے اترائین منانے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔
مراکل کائٹس کے مطابق پتنگیں اصل میں ہندوستان میں ایک مذہبی علامت کے طور پر تیار کی گئی تھیں۔ لوگ انھیں نمازوں یا رسومات کے دوران خدا تک اپنی خواہشات اور دعائیں پہنچانے کے لیے اڑاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی مقبول ہوتی گئی اور آخرکار پتنگ میلے اور مقابلے منعقد ہونے لگے۔
جنگ کے دوران پتنگوں کا استعمال کیسے ہوتا تھا؟Getty Images 1915 کی ایک فرانسیسی جنگی پتنگ جس میں کیمرے لگے ہوئے تھے
امریکن کائٹ فلائیرز ایسوسی ایشن کے مطابق جنگ کے دوران پتنگیں بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ پہلی عالمی جنگ (1914-1918) کے دوران برطانوی، فرانسیسی، اطالوی اور روسی فوجوں نے پتنگ بازی کے خصوصی یونٹ بنائے۔
ان کا استعمال دشمن پر نظر رکھنے اور پیغامات بھیجنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے دوران امریکی بحریہ نے بھیفضائی ریسکیو سے لے کر ٹارگٹ پریکٹس تک مختلف مقاصد کے لیے پتنگوں کا استعمال کیا۔
فاکس ویدر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے ورلڈ کائٹ میوزیم میں ایک کمرہ ہے جسے ’وار روم‘ کہا جاتا ہے۔ اس کمرے میں صرف جنگ میں استعمال ہونے والی پتنگیں رکھی گئی ہیں۔
میوزیم کے نائب صدر جم سیوس بتاتے ہیں کہ یہاں ایک ’بیراج پتنگ‘ ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے ابتدائی دنوں میں استعمال ہوتی تھی۔ یہ پتنگ تجارتی جہازوں سے اڑائی جاتی تھی۔ پتنگ کے ساتھ ایک تار جڑی ہوئی تھی جو جہاز سے آسمان تک پھیلی ہوئی تھی۔ اگر دشمن کا طیارہ تجارتی جہاز پر حملہ کرنے کے لیے آتا ہے، تو وہ اس تار سے ٹکرا جائے گا، جس سے جہاز کے ایلومینیم کے پروں کو کاٹ دیا جائے گا۔
جم سیوس نے 1890 کی دہائی کی پتنگ کی مثال بھی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک تکونی شکل کی پتنگ تھی جس پر ایک جرمن مال بردار طیارے کی تصویر تھی۔ اس پتنگ کو تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔‘
’یہ پتنگ جہاز سے کئی سو گز دور اڑائی گئی تھی۔ پھر جہاز پر مشین گن چلانے والے سپاہی پتنگ کو نشانہ بناتے۔ وہ پتنگ پر ہوائی جہاز کی تصویر کو دیکھ کر اس طرح مشق کرتے جیسے یہ حقیقی دشمن کا طیارہ ہو۔ اس سے انھیں نشانہ بنانا سیکھنے میں مدد ملی۔‘
ہوائی جہاز کا خیال پتنگ سے آیا؟
امریکن کائٹ فلائیرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ہوائی جہاز کے موجد ’رائٹ برادران، پتنگ اڑانے میں بہت ماہر تھے۔ پتنگ بازی کے سالوں نے انھیں ہوائی جہاز بنانے کا خیال آیا۔ ایک دن کٹی ہاک میں پتنگ اڑاتے ہوئے انھوں نے دریافت کیا کہ پتنگ میں اتنی قوت تھی کہ وہ ایک انسان کو زمین سے ہلکا سا اوپر اُٹھا سکتی تھی۔‘
اگست 1899 میں انھوں نے ایک بائپلین پتنگ بنائی۔ انھوں نے دریافت کیا کہ پتنگ کے چاروں کونوں سے جڑی چار تاروں کو مختلف طریقوں سے کھینچ کر پتنگ کے پروں کو بھی اسی طرح موڑا جا سکتا ہے جس طرح پرندے اڑتے ہیں۔
پھر سنہ 1901 میں الیگزینڈر گراہم بیل نے اپنی ٹیٹراہیڈرل پتنگ کا پہلا پروٹو ٹائپ بنایا۔ یہ خاص طور پر مضبوط پتنگ تھی۔ انھوں نے کئی چھوٹی پتنگوں کو جوڑ کر ایک بڑی پتنگ بنائی۔
گراہم بیل کی اس ٹیٹراہیڈرل پتنگ نے بعد میں 288 پاؤنڈ یعنی تقریباً 130 کلو وزن اٹھایا۔
دو دہائیوں کے انتظار کے بعد لاہور میں ’بو کاٹا‘ کا شور: بسنت کو کیسے محفوظ بنایا جا رہا ہے 25 سال بعد لاہور میں بسنت کن شرائط پر منانے کی اجازت دی گئی ہے؟’کسی شخصیت کی تصویر والی پتنگ نہیں اڑ سکتی‘: لاہور میں بسنت کے حوالے سے مزید نئے قواعد و ضوابط متعارفبسنت: اندرون لاہور میں گونجتی ’بو کاٹا‘ کی آوازیں جو کیمیکل ڈور کی نذر ہو گئیںپنجاب میں لڑکیاں ’مغلوں سے پھانسی پانے والے دُلا بھٹی‘ کے گیت کیوں گاتی ہیں؟’مذہبی و ثقافتی تہوار بیساکھی میلہ‘ جو ہزاروں انڈین سکھوں کی پاکستان یاترا کا سبب بنتا ہے