چینی کمپنی کے سستے مسافر طیارے جو بوئنگ اور ایئر بس کی اجارہ داری ختم کر سکتے ہیں

بی بی سی اردو  |  Feb 04, 2026

Getty Images

یہ منظر سنگاپور ایئر شو کا ہے جہاں نمائشی ہالز میں ہوائی جہازوں کے ماڈل، کاک پٹ کے فرضی ڈھانچے اور انٹرایکٹو ڈسپلے رکھے گئے ہیں۔ یہاں جدید کمرشل ہوائی جہازوں سے لے کر ہوا بازی کی ٹیکنالوجی تک، سبھی کچھ موجود ہے۔

سنگاپور ایئر شو میں ایک بوتھ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جو کہ مسافر طیارے بنانے والی چین کی سرکاری کمپنی کومیک کا ہے۔

اس ادارے کے تیار کردہ مسافر طیارے سی 919 نے دو سال پہلے سنگاپور کی طرف پہلی اُڑان بھری تھی۔

یہ طیارہ ایئر بس اے 320 نیو اور بوئنگ 737 میکس سے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور چین سے باہر کی منڈیوں کو بھی اپنا ہدف بنا رہا ہے۔

ایشیا پیسیفک کا خطہ ہوابازی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی ہے۔ ایسے وقت میں جب فضائی کمپنیاں ترسیل میں تاخیر اور سپلائی چین کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، کومیک کے لیے یہ ایئر شو ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایشیا پیسیفک میں ایئر بس اور بوئنگ کا ممکنہ حریف ثابت کر سکے۔

بین الاقوامی ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کے ڈائیریکٹر جنرل ولی والش نے بی بی سی کو بتایا: ’میرا خیال ہے ایک وقت میں کومیک دنیا بھر کو ٹکر دے گا لیکن اس میں وقت لگے گا۔

’آج سے 10، 15 سال بعد ہم بوئنگ، ایئر بس اور کومیک کی بات کر رہے ہوں گے۔ بلاشبہ وہ مستقبل کے اہم کھلاڑی ہوں گے۔‘

Getty Imagesسنگاپور ایئر شو ایشیا پیسیفک خطے میں ایک اہم تجارتی نمائش ہے

والش کہتے ہیں کہ طیارے دستیاب ہوئے تو ہی ایشیا پیسیفک کی فضائی کمپنیاں سنہ 2026 میں دو ہندسوں کی شرح سے ترقی دیکھ سکتی ہیں۔ اُن کے مطابق ’یہ فضائی کمپنیوں کے لیے انتہائی پریشان کن ہے، طیارے کا آرڈر دینے اور اسے حاصل کرنے کے درمیان تقریباً سات سال کا وقت لگتا ہے۔‘

یہی وجہ ہے کہ کومیک ایشیا پیسیفک کی فضائی کمپنیوں کے لیے ایک اور انتخاب کے طور پر ابھر رہی ہے۔

اس وقت چین میں 150 سے زیادہ کومیک طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لاؤس، انڈونیشیا اور ویتنام میں بھی کومیک کے طیارے اڑانیں بھر رہے ہیں۔ برونائی کی کمپنی گیلپ ایئر نے کومیک طیاروں کا بڑا آرڈر دیا ہے اور کمبوڈیا بھی 20 کے قریب طیارے خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ایشیا پیسیفک ایئرلائنز ایسوسی ایشن کے ڈائیریکٹر جنرل سبھاس مینن کہتے ہیں کہ ’سامان فراہم کرنے والوں کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ سپلائی چین میں رکاوٹ نہ آئے۔ اس صنعت کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ سپلائی چین پر چند کمپنیوں کی اجارہ داری ہے اور بعض اوقات صرف دو کمپنیوں کی بھی۔‘

55 ارب ڈالر سے تیار ہونے والا ’بی 29‘ طیارہ: انجینیئرنگ کا شاہکار ’خوفناک ہتھیار‘ جس نے پہلی بمباری میں ’ایک لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ‘ اُتارا15 برسوں میں ایک ارب مسافروں کو منزل پر پہنچانے والا ’787 ڈریم لائنر‘: ’محفوظ ترین‘ سمجھے جانے کے باوجود اس طیارے سے متعلق خدشات کیوں ہیں؟امریکہ کے ’مہلک ترین‘ جنگی طیارے ایف 47 کا اربوں ڈالر کا نیا معاہدہ: ’اتحادی اسے خریدنے کے لیے بار بار کالز کر رہے ہیں‘پروازوں کی ہیکنگ: کیا جی پی ایس کی جگہ ایٹمی گھڑیاں طیاروں کو محفوظ بنا سکیں گی؟

اُنھوں نے مزید کہا: ’ہم طویل عرصے سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کومیک ایک خوش آئند اضافہ ہے۔ ہمیں زیادہ سپلائرز کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایشیا پیسیفک میں۔‘

کمپنی ایک اچھے مقام پر ہے۔ ابھرتی ہوئی منڈیوں میں کومیک کو دستیاب سرکاری حمایت اور قدرے سستے طیارے اسے محدود سرمایے کی حامل فضائی کمپنیوں کے لیے پُرکشش بناتی ہے۔

فلپائن کی کم لاگت والی فضائی کمپنی سیبو پیسیفک کے چیف ایگزیکٹو مائیک سزکس نے بی بی سی کو بتایا: ’مستقبل میں آنے والی نئی کمپنیوں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہماری شدید خواہش ہے کہ اس شعبے میں مقابلہ بازی کی فضا ہو۔

’کومیک کو اپنی سرٹیفیکیشن کے عمل سے گزرنا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ سنہ 2030 کی دہائی میں کسی وقت کومیک ہمارے لیے اور دیگر فضائی کمپنیوں کے لیے پُر کشش ہو گی۔‘

Getty Imagesایئربس کی جانب سے اپنے فلیگ شپ A350-1000 طیارے کی نمائش۔ جس کی گنجائش زیادہ ہے اور طویل فاصلے تک سفر کی صلاحیت رکھتا ہے

ایشیا پیسیفک میں توسیع کے ساتھ ساتھ کومیک یورپی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ ریگولیٹر کومیک کے تیار کردہ سی 919 طیارے پر پروازیں کر کے اس کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ طیارہ کامیاب ٹھہرا تو اسے یورپی فضائی کمپنیوں کو فروخت کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

لیکن آگے کا سفر خاصا طویل ہے۔

ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ یورپی سرٹیفیکیشن ملتے ملتے سنہ 2028، حتیٰ کہ سنہ 2031 بھی آ سکتا ہے۔ اس وقت چینی پرزوں، فلائٹ کنٹرولز اور سافٹ ویئر کو مغرب کے مطابق ڈھالنا بھی بین الاقوامی آرڈرز کے لیے ایک تکنیکی پیچیدگی ہے۔

طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کا نظام کومیک کے لیے ایک اور رکاوٹ ہے، پائلٹس کی تربیت بھی۔ یہ وہ شعبے ہیں جن میں بوئنگ اور ایئر بس جیسی کمپنیوں نے کئی دہائیاں پہلے سے باقاعدہ نظام بنا رکھا ہے۔

ایشیا پیسیفک میں کومیک کو بوئنگ اور ایئر بس کے علاوہ بھی ایک اور مقابلہ درپیش ہے۔

یہ ہے برازیل کی طیارے بنانے والی کمپنی ایمبریئر جو خطے میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ سنگاپور کی کم لاگت والی ایئرلائن سکوٹ، ورجن آسٹریلیا اور جاپان کی آل نپان ایئرلائنز (اے این اے) ایمبریئر طیاروں کی خریداری کے لیے آرڈر دے رہی ہیں۔

تاہم بوئنگ اور ایئر بس کے سنگاپور ایئر شو کے ساتھ ساتھ خطے میں بھی قدم تا حال مضبوط ہیں۔ فضائی کمپنیاں جو کئی سال سے طیاروں کی ترسیل میں تاخیر سے تنگ ہیں، بوئنگ اور ایئر بس ان فضائی کمپنیوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ ترسیل کی رفتار بہتر ہونے جا رہی ہے۔

سیبو پیسیفک کے مائیک سزکس کہتے ہیں: ’یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ شاید ہم سرنگ کے آخر میں روشنی دیکھ سکیں۔‘

کومیک کی جانب سے طیاروں کی فراہمی کی تعداد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پہلے اس نے کہا تھا کہ چینی فضائی کمپنیوں نے اسے ایک ہزار سی 919 مسافر طیارے دینے کے آرڈر دے رکھے ہیں۔ لیکن ابھی تک صرف درجن بھر طیارے ہی فراہم کیے گئے ہیں۔

اس تعداد کی تصدیق کرنا بھی مشکل ہے کیوں کہ بوئنگ اور ایئر بس کے برعکس کومیک چین کی سرکاری کمپنی ہے۔ یعنی اس کے لیے اپنی پیداوار، اخراجات اور آمدن عوام کے سامنے لانا لازمی نہیں۔

جب تک کومیک ان مسائل میں سے کچھ یا سبھی مسائل حل نہیں کرتی، غالب امکان یہی ہے کہ ایشیا پیسیفک کی فضاؤں میں بوئنگ اور ایئر بس کی حکمرانی قائم رہے گی۔

انڈیا کو مزید مسافر بردار طیاروں کی طلب، مگر کیا وہ خود انھیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟پی آئی اے: ’باکمال لوگوں‘ کی ایئرلائن اپنے سنہرے دور میں کیسی تھی اور اِس نے یہ نام کیسے کمایا؟60 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ روزانہ دو ہزار پروازیں چلانے والی انڈیا کی سب سے بڑی ایئرلائن تاریخی بحران کا شکار کیسے ہوئی؟جہاز کی بلندی میں اچانک ہونے والی کمی جس کے باعثایئر بس کو اپنے ہزاروں جہازوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنا پڑابلینڈڈ ونگز: آزمائشی پرواز میں طیارے کی تباہی کے بعد 100 سال قبل ترک کیا گیا خواب کیا اب پورا ہونے کے قریب ہے؟پی کے 268: پی آئی اے کا طیارہ جو رن وے پر اُترنے کے بجائے ہمالیہ کی پہاڑی سے جا ٹکرایا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More