کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟

بی بی سی اردو  |  Feb 03, 2026

کس ٹیم کے پاس وہ سِپنرز ہیں جو میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں؟ انڈیا اور سری لنکا کی وکٹوں پر کون سی ٹیم واقعی اپنا جادو چلا پائے گی؟

ٹی 20 ورلڈ کپ کچھ ہی دنوں میں شروع ہونے والا ہے لیکن ان پہلوؤں پر بات ہونے کے بجائے گفتگو یہ ہو رہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری تناؤ اس ٹورنامنٹ اور عالمی سطح پر کرکٹ کے کھیل کو کس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اگرچہ پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے مگر اس نے انڈیا کے ساتھ 15 فروری کے گروپ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ آئی سی سی نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان باہمی طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے کام کرے گا۔

ایک بیان میں آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ پی سی بی ’اپنے ملک میں کرکٹ کے لیے اس فیصلے کے اہم اور طویل المدتی اثرات پر غور کرے گا کیونکہ اس کا اثر عالمی کرکٹ کے اُس نظام پر بھی پڑے گا جس کا پاکستان خود ایک حصہ ہے۔‘

ایسا نہیں کہ کرکٹ کبھی سیاست سے الگ رہی ہو۔ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کا اثر ہمیشہ میدان تک پہنچا ہے۔ جب حالات بہتر ہوں تو دونوں ملکوں کے سربراہان سٹیڈیم میں بیٹھ کر خوش گپیاں لگاتے دکھائی دیے اور جب کشیدگی حدیں پار کر جائے تو ہاتھ نہ ملانے جیسے عجیب مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔

یوں تو یہ کھیل جنوبی ایشیا میں اربوں لوگوں کی دل کی دھڑکن ہے مگر حالیہ برسوں میں کرکٹ کا شور کم اور سیاست کی آواز زیادہ سنائی دینے لگی ہے۔ اور اب بات صرف پاکستان اور انڈیا تک محدود نہیں رہی۔

Getty Imagesبات یہاں تک کیسے پہنچی؟

آئی سی سی کے ایونٹس میں حالیہ برسوں کے دوران تنازعے کوئی نئی بات نہیں اور عموماً پاکستان اور انڈیا ہی سرخیوں میں ہوتے ہیں۔ مگر اس بار کہانی بنگلہ دیش کی تھی۔

بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے انڈیا جانے سے انکار کیا، جس کے بعد آئی سی سی نے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کرتے ہوئے سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔

کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو سے وابستہ صحافی دانیال رسول کے مطابق بنگلہ دیشی کھلاڑی خود ورلڈ کپ سے باہر نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اُن کے خیال میں ٹی 20 ورلڈ کپ خود کو دنیا کے سامنے دکھانے کا بڑا پلیٹ فارم ہوتا ہے اور اسی سے عالمی لیگز اور مستقبل کے راستے کُھلتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دانیال رسول کا کہنا تھا کہ ’سیاست نے جنوبی ایشیا کی کرکٹ میں اتنی مرکزی جگہ لے لی ہے کہ اب کھلاڑیوں کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔

’کھلاڑی اپنی بات کہنے سے گھبراتے ہیں۔ جب بورڈز ہدایت دیتے ہیں کہ ہاتھ نہ ملاؤ، تو کھلاڑی عوامی طور پر ان فیصلوں کا دفاع کرتے ہیں، چاہے نجی طور پر وہ اس سے اتفاق نہ کریں۔‘

پاکستان کا انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ، ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازتانڈیا نے اپنے سفارتکاروں کے اہلخانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بُلا لیا: ’اگر وہ ہمیں پاکستان کے زمرے میں رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا فیصلہ ہے‘ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا میں کھیلنے سے انکار بنگلہ دیش کو کتنا مہنگا پڑے گا؟آئی سی سی نے سکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شامل کرلیا: پاکستان کا بنگلہ دیش کی حمایت کا اعلان، ایونٹ میں شمولیت حکومتی اجازت سے مشروط

گذشتہ سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ کشیدگی کے بعد ستمبر میں ایشیا کپ آیا جہاں میدان میں سیاست صاف دکھائی دی۔ دونوں ٹیموں نے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، ٹرافی کی تقریب پر تنازع کھڑا ہوا، اور بعض کھلاڑیوں کے اشارے ایسے محسوس ہوئے جیسے جنگی فتح کا جشن منایا جا رہا ہو۔

لیکن بات یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی کے اثرات بھی دیکھنے کو ملے جب افغانستان نے گذشتہ سال نومبر میں پاکستان آ کر سہ فریقی سیریز کھیلنے سے انکار کر دیا۔

ادھر 2024 میں شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناؤ بڑھا۔ کچھ عرصہ پہلے انڈین کرکٹ بورڈ کی ہدایت پر انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیش کے مستفیض الرحمٰن کو ٹیم سے نکال دیا جس کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔ یہی واقعہ آگے چل کر اس ورلڈ کپ تنازعے کی ایک اہم کڑی بنا۔

انڈیا کی معروف سپورٹس رائٹر شاردا اوگرا کا ماننا ہے کہ 2023 ورلڈ کپ کے بعد سے کھیل میں سیاست کا عمل دخل بڑھنے لگا اور اُن کے مطابق ’جو ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ کرکٹ پر سیاست کا قبضہ ہے۔‘

Getty Imagesپہلے کے مقابلے میں اس بار سیاست کا اثر کرکٹ پر مختلف کیوں ہے؟

جنوبی ایشیا میں کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایسی چیز ہے جس سے کروڑوں لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ ہر بڑے میچ کے ساتھ جذبات بھی میدان میں اتر آتے ہیں اور جہاں اتنی نظریں ہوں وہاں سیاست کا پہنچ جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔

اسی لیے اس خطے میں کرکٹ کی تاریخ ہمیشہ سیاست کے سائے میں رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اب کیا مختلف ہو گیا ہے؟

کھیلوں پر لکھنے والی صحافی شاردا اوگرا نے اتفاق کیا کہ سیاست کرکٹ گورننس میں ہمیشہ رہی ہے مگر اُن کے خیال میں ’اب فرق یہ ہے کہ حکومتوں کی براہ راست مداخلت بڑھ گئی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومتیں کرکٹ کو پالیسی پیغامات اور بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔‘

اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیئرمین جے شاہ ہیں جو انڈین وزیر داخلہ امِت شاہ کے بیٹے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں وزیر داخلہ محسن نقوی ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں۔

اسی کا حوالہ دیتے ہوئے شاردا اوگرا کا کہنا تھا کہ ’سیاسی طاقت اور کرکٹ انتظامیہ کے اس ملاپ نے یہ فرق مٹا دیا ہے کہ حکومتی ایجنڈا کیا ہے اور کھیل کو کیا چاہیے۔‘

جہاں شاردا اوگرا اسے سیاسی طاقت اور کرکٹ انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کے طور پر دیکھتی ہیں وہیں دانیال رسول کا کہنا ہے کہ کہانی کا دوسرا بڑا پہلو پیسہ ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف سیاست کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عالمی کرکٹ میں ’مالی طاقت کس کے پاس ہے۔‘

دانیا رسول نے آئی سی سی کے ریونیو ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کے’انڈیا آئی سی سی کی آمدن کا تقریباً 80 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔ اگر باقی تمام بورڈز اکٹھے ہو بھی جائیں تو وہ عالمی کرکٹ کی آمدن کے صرف پانچویں حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘

اسی عدم توازن کی وجہ سے، دانیال رسول کے مطابق، باقی ممالک کے پاس حقیقی آپشنز بہت کم رہ جاتے ہیں اور انڈیا کے پاس دوسرے کرکٹ بورڈز پر ’دباؤ ڈالنے کے کئی طریقے میسر ہو جاتے ہیں۔‘

Getty Imagesجنوبی ایشیا کی کرکٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟

ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ایشیا کی مشترکہ ٹیمیں بنتی تھیں اور سچن تندولکر اور وسیم اکرم ایک ہی جرسی میں، ایک ہی ٹیم کے لیے کھیل رہے ہوتے تھے۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو یہ سب کچھ غیر حقیقی سا محسوس ہوتا ہے جیسے کرکٹ واقعی کسی اور دنیا میں کھیلی جاتی ہو۔

شاردہ اوگرا کے مطابق جو خطہ کبھی ایک یونٹ کی طرح چلتا تھا اب وہ بکھر چکا ہے۔

’کچھ ٹیموں کو باہر کرنے اور مقابلوں کو سیاسی بنانے کی ضد نے تقسیم کو جنم دیا ہے۔‘

بنگلہ دیش اور افغانستان ہی نہیں بلکہ اُن کے خیال میں ابھرتی ہوئی ٹیمیں بھی اسی سیاست سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ’اب شفاف فیصلوں کے بجائے مبہم ہدایات اور سیاسی اشارے نظر آتے ہیں۔‘

اس صورتحال سے کیسے نکلا جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں شاردا اوگرا کا کہنا تھا کہ ’اس کے لیے مضبوط اور آزاد قیادت چاہیے جو اس وقت نظر نہیں آتی۔'امید پھر بھی باقی ہے کیونکہ کرکٹ لوگوں کے لیے بہت اہم ہے اور اسے آسانی سے چھوڑا نہیں جا سکتا، مگر اس نقصان سے نکلنے میں بہت وقت لگے گا۔‘

دانیال رسول بھی جنوبی ایشیا کی کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا کوئی واضح حل نظر نہیں آتا۔

دانیال کے مطابق اس وقت جنوبی ایشیا کے تقریباً ہر کرکٹنگ ملک میں سیاست کرکٹ میں حاوی ہے۔ انڈیا بنگلہ دیش پر دباؤ ڈال رہا ہے، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں، اور کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

انھیں مستقبل قریب میں بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب تک سیاسی حالات بہتر نہیں ہوتے معاملات سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتے جائیں گے۔‘

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: انڈیا میں کھیلنے سے انکار بنگلہ دیش کو کتنا مہنگا پڑے گا؟آئی سی سی نے سکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شامل کرلیا: پاکستان کا بنگلہ دیش کی حمایت کا اعلان، ایونٹ میں شمولیت حکومتی اجازت سے مشروطپاکستان کا انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ، ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازتانڈیا نے اپنے سفارتکاروں کے اہلخانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بُلا لیا: ’اگر وہ ہمیں پاکستان کے زمرے میں رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا فیصلہ ہے‘ٹاس کے دوران ’نو ہینڈ شیک:‘ انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل تنازع جس پر بنگلہ دیش بورڈ کو وضاحت دینی پڑیآٹھ گیندوں پر آٹھ چھکے اور صرف نو منٹ میں نصف سنچری بنانے والے انڈین کھلاڑی کون ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More