Getty Imagesہر سال تقریباً 50 ہزار انڈین شہری سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں، جو دنیا بھر میں ہونے والی کل اموات کا تقریباً نصف ہے
انڈین کسان دویندر کو آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب وہ ایک کھیت میں شہتوت توڑ رہے تھے اور ایک سانپ نے ان کے پاؤں پر اپنے دانت گاڑ دیے۔
گلوبل سنیک بائٹ ٹاسک فورس (جی ایس ٹی) کی جانب سے بنائی گئی ایک شارٹ فلم میں دویندر کہتے ہیں کہ: ’میں سانپ کے کاٹنے کے چار روز بعد اس وقت ہپستال پہنچا جب تکلیف ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ اس تاخیر کے سبب میں اپنا پاؤں کھو بیٹھا۔‘
تاہم دویندر ان چند خوش قسمت افراد میں سے ہیں جو سانپ کے کاٹنے کے باوجود زندہ بچ گئے۔ انڈیا کی حکومت کے مطابق ہر برس ملک میں تقریباً 50 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہوتے ہیں، یہ تقریباً ہر برس دنیا بھر میں ہونے والی تمام اموات کا آدھا حصہ ہے۔
کچھ اندازوں کے مطابق انڈیا میں سانپ کے ڈسنے سے ہونے والی اموات زیادہ بھی ہو سکتی ہیں۔ سنہ 2000 سے سنہ 2019 تک انڈیا میں سانپ کے کاٹنے سے تقریباً 12 لاکھ اموات ہوئی تھیں۔ سنہ 2020 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں ہر برس اوسطاً 58 ہزار افراد سانپ کے ڈسنے سے ہلاک ہوئے تھے۔
جی ایس ٹی کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا میں صحت کے شعبے سے وابستہ 99 فیصد کارکنان کو زہر مخالف ادویات (تریاق) کا استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ وہ ادویات ہیں جو جسم میں سانپ کے زہر کا خاتمہ کرتی ہیں۔
محققین نے انڈیا، برازیل، انڈونیشیا اور نائجیریا میں شعبہ صحت سے منسلک 904 افراد سے بات چیت کی اور معلوم ہوا کہ وہ تمام لوگ ایک ہی قسم کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں: خراب انفراسٹرکچر، زہر مخالف ادویات تک محدود رسائی اور ناکافی تربیت۔
ان میں سے تقریباً آدھے افراد نے بتایا کہ علاج میں تاخیر کے سبب ان کے مریضوں کو اکثر پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں اعضا کا کاٹے جانے، سرجریز اور زندگی بھر کی مفلوجی شامل ہے۔
سنہ 2017 میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ ہر برس ایک لاکھ سے زیادہ افراد سانپ کے کاٹنے کے سبب ہلاک ہوتے ہیں۔
اس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ سانپ کے کاٹنے سے غریب اور متوسط ممالک کے دیہی علاقوں میں مقیم لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
Strike Out Snakebiteدویندر شہتوت کے توڑتے ہوئے سانپ کے ڈسنے کا شکار ہوئے
جی ایس ٹی کے رکن اور چھتیس گڑہ میں کام کرنے والے ڈاکٹر یوگیش جین کے مطابق سانپ کے کاٹنے سے سب سے زیادہ اموات ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق کھیتوں میں کام کرنے والے اور غریب قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد سانپ کے کاٹنے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
سنہ 2024 میں انڈیا نے سانپ کے کاٹنے اور اس کے زہر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک نیشنل ایکشن پلان متعارف کروایا تھا، جس کا مقصد سنہ 2030تک ان اموات کی تعداد کو آدھے سے بھی کم کرنا ہے۔
اس منصوبے میں نگرانی کو بہتر بنانا، زہر مخالف ادویات کی دستیابی، طبی شعبے کی بہتری اور لوگوں میں آگاہی پھیلانا ترجیحات میں شامل ہے۔
ماہرین اس منصوبے کو درست سمت میں ایک قدم تو سمجھتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد میں تسلسل نطر نہیں آتا۔
ڈاکٹر یوگیش جین کہتے ہیں کہ ’انڈیا میں سانپوں کے کاٹنے کو غریبوں کو مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اس کے سبب ہونے والی اموات پر زیادہ غم و غصے کا اظہار نہیں کیا جاتا، جب بات سانپ کے کاٹنے کے بعد ہونے والے علاج کی آتی ہے تب ہر لمحہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ سانپ کا زہر خون میں منٹوں میں شامل ہو جاتا ہے، اعصاب پر حملہ آور ہوتا ہے اور جسم میں موجود خلیوں کے نظام کو معطل کرتا ہے۔ زہر کو مارنے کے لیے دوا اگر دیر سے دی جائے تو اس سے سانس بند ہو سکتی ہے، جسم مفلوج ہو سکتا ہے اور متعدد اعضا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس کے باوجود بھی دیہی انڈیا میں علاج میں تاخیر اب ایک عام سی بات ہو گئی ہے، یہاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور ایمبولینسز کی بھی کمی ہے۔
دنیا میں سانپوں کی دس خطرناک ترین اقسام: ’ان لینڈ پائیتھن کے منھ سے خارج ہونے والا زہر 100 لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے‘’کوبرا کے کٹے ہوئے سر نے ڈس لیا‘: کیا سانپ اپنی موت کے بعد بھی کاٹ سکتا ہے؟200 بار سانپ کے ڈسے انسان کا خون جو کئی لوگوں کی جانیں بچا سکتا ہےزہریلے مینڈکوں کا شکار کرنے والا سانپ موت کو چکما کیسے دیتا ہے؟
گذشتہ برس ستمبر میں اطلاعات کے مطابق ایک حاملہ خاتون راستے میں ہی ہلاک ہو گئی تھیں کیونکہ ان کے خاندان کو انھیں ایک جھولے میں لٹاکر ہسپتال لے جانا پڑا تھا۔ ان کا گھر ہسپتال سے پانچ کلومیٹر دور تھا اور وہاں تک کوئی گاڑی نہیں پہنچ سکتی تھی۔
ڈاکٹر یوگیش جین کہتے ہیں کہ انڈیا میں کچھ ریاستیں کوشش کر رہی ہیں کہ وہ ہیلتھ سینٹرز میں زہر مخالف ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائیں، تمام ان ادویات کا درست استعمال ایک چیلنج ہے۔
شعبہ صحت سے منسلک بہت سارے کارکنان کے پاس تربیت کی کمی ہے اور انھیں یہ خوف رہتا ہے کہ کہیں زہر مخالف ادویات سے مریضوں میں سائیڈ افیکٹس نہ نظر آنے لگ جائیں۔
ڈاکٹر یوگیش کے مطابق ’زہر مخالف دوا کو سیلین کے ساتھ مکس کر کے لگایا جاتا ہے، تاہم بہت سارے سینٹرز میں سائیڈ افیکٹس سے نٹمنے کی ٹریننگ نہیں ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ دیہی انڈیا میں اب بھی بہت سے لوگ عاملوں یا مقامی علاج پر انحصار کرتے ہیں اور صرف اس وقت ہسپتال جاتے ہیں جب ان کی حالت بگڑ جاتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔‘
کرناٹک میں انسانوں اور سانپوں کے درمیان تصادم کو کم کرنے کے لیے کام کرنے والی تنظیم دی لیانا ٹرسٹ کے شریک بانی گیری مارٹن کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ اعلیٰ معیار کے تریاق (اینٹی وینم) کی دستیابی ہے۔
فی الحال انڈیا میں صرف چار اقسام کے سانپوں کے لیے تریاق موجود ہے جنھیں ’بگ فور‘ کہا جاتا ہے: چشم دار کوبرا، کومن کریٹ، رسل وائپر اور سا-سکیلڈ وائپر۔ یہ تریاق گھوڑوں کو ان سانپوں کا زہر لگا کر تیار کیا جاتا ہے اور پھر ان کے جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز کو انسانوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
لیکن انڈیا میں درجنوں دیگر زہریلے سانپوں کی اقسام بھی موجود ہیں، جن کے لیے کوئی مخصوص تریاق دستیاب نہیں۔ ان میں شمالی ریاست ہماچل پردیش میں پایا جانے والا گرین پٹ وائپر، جنوبی ریاستوں میں ملنے والا مالابار پٹ وائپر اور ہمپ نوزڈ پٹ وائپر شامل ہیں، جبکہ شمال مشرقی علاقوں میں بھی کئی اقسام موجود ہیں۔
The Liana Trustگیری مارٹن کی تنظیم ’دی لیانا ٹرسٹ‘ علاقائی سانپوں کی اقسام کے کاٹنے کے لیے تریاق پر تحقیق کر رہی ہے
گذشتہ سال جودھپور میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ایک تحقیق میں یہ مسئلہ اجاگر ہوا۔ تحقیق میں پایا گیا کہ جب سا-سکیلڈ وائپر کے کاٹنے کے علاج کے لیے تیار کردہ تریاق 105 مریضوں کو دیا گیا (جہاں سانپ کی قسم معلوم نہیں تھی) تو دو تہائی مریضوں نے علاج پر مثبت ردعمل نہیں دیا۔ مطالعے سے یہ پتا چلا کہ مغربی انڈیا میں ’علاقائی سطح پر مخصوص تریاق‘ کی فوری ضرورت ہے۔
دی لیانا ٹرسٹ گذشتہ پانچ برس سے ’بگ فور‘ کے علاوہ دیگر سانپوں کے زہر پر تحقیق کر رہی ہے تاکہ ان کے لیے بھی تریاق تیار کیا جا سکے، لیکن مارٹن کے مطابق یہ عمل محنت طلب اور وقت لینے والا ہے، اس لیے پیش رفت سست ہے۔
انھوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ کرناٹک حکومت کے سنہ 2024 کے حکم کی تقلید کریں، جس کے تحت سانپ کے کاٹنے کے واقعات کو فوری رپورٹ کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے، یعنی صحت کے ماہرین کے لیے لازمی ہے کہ وہ ہر کیس کو حکام کو رپورٹ کریں تاکہ کم رپورٹنگ کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔
ڈاکٹر یوگیش جین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سانپ کے کاٹنے سے اموات وہاں شروع ہوتی ہیں جہاں سیاسی عزم ختم ہو جاتا ہے۔ حکومتوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ غریب عوام کو ناقص صحت کے نظام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وہ بہتر سہولتوں کے حقدار ہیں۔‘
دنیا میں سانپوں کی دس خطرناک ترین اقسام: ’ان لینڈ پائیتھن کے منھ سے خارج ہونے والا زہر 100 لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے کافی ہے‘’کوبرا کے کٹے ہوئے سر نے ڈس لیا‘: کیا سانپ اپنی موت کے بعد بھی کاٹ سکتا ہے؟200 بار سانپ کے ڈسے انسان کا خون جو کئی لوگوں کی جانیں بچا سکتا ہےزہریلے مینڈکوں کا شکار کرنے والا سانپ موت کو چکما کیسے دیتا ہے؟سانپ پکڑنے کے ماہر کی لاپرواہی اور موت: ’کوبرا کا زہر آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے‘’اوپر کوبرا تھا اور نیچے 10 فٹ پانی‘: سیلاب سے بچاؤ کے لیے 24 گھنٹے درخت پر گزارنے والے شخص کی کہانی