ہر بیماری کا علاج سمجھا جانے والا شہد چھوٹے بچوں کے لیے کس طرح نقصان دہ ہو سکتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 26, 2026

Getty Imagesسعودی عرب جیسے خلیجی ممالک میں بھی بچوں کو شہد دینے کا رواج ہے

یہ دسمبر 2025 کی بات ہے جب انڈیا کے ضلع شیوا گنگا میں ایک چار سالہ بچہ پیٹ کے درد سے بے حال تھا ایسے میں جب اسے ٹوٹکے کے طور پر شہد دیا گیا تو بجائے افاقہ ہونے کے وہ بچہ بیہوش ہو گیا۔

نتن بالاسیکر نام کے اس نو عمربچے کو فوری طور شیوا گنگا کے سرکاری ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کا علاج کیا گیا۔

اس کے بعد سیوا گنگا گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ڈین سری نواسن نے صحافیوں سے ملاقات کی اور بچے کو شہد کے ذریعے پہنچنے والے نقصان سے متعلق تفصیل بتائی۔

انھوں نے بتایا کہ ’بوٹولینم نامی مادہ جو شہد میں پیدا ہوتا ہے،اس سے ایک ٹاکسن بنتا ہے جو دماغ اور اعصابی نظام کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ اس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور خون کی گردش فوری طور پر متاثر ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’بچے کا علاج مصنوعی تنفس کے ذریعے کیا گیا جبکہ امیونوگلوبلین بھی دی گئی۔‘

یاد رہے کہ پیدائش کے فوراً بعد یا دودھ پلانے سے پہلے بچوں کو شہد دینا پاکستان اور انڈیا سمیت اکثر جنوبی ایشیائی ممالک میں ایک عام رواج رہا ہے۔

یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک میں بھی بچوں کو شہد دینے کا رواج ہے۔

اسی مناسبت سے سعودی عرب میں مقیم ماؤں کے 2022 میں کروائے گئے ایک آن لائن سروے کے دوران 52 فیصد خواتین نے کہا تھا کہ انھیں اپنے بچوں کو شہد دینے کی عادت ہے۔

تحقیق کے ذریعے خبردار کیا گیا ہے کہ چھوٹے یا نوزائیدہ بچوں کو شہد دینا ہاضمے کے نظام سے لے کر سانس تک کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

ہم نے اس مضمون میں ان سوالوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ آیا شہد بچوں کو، خاص طور پر شیر خوار بچوں کو دیا جا سکتا ہے اور شہد کے آلودہ ہو جانے سے کن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

’بچوں کو شہد براہ راست نہ دیا جائے‘

تحقیق کے مطابق نوزائیدہ بچوں کو شہد دینے سے انھیں متلی، الٹی اور کھانے میں دشواری جیسی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس تحقیق میں شہد دینے کی صورت میں بچوں کو لاحق دیگر مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق چھوٹے بچوں کو شہد دینا چہرے کے پٹھوں کے سکڑاؤ یا کھنچاؤ، آنتوں کے مسائل، دماغی نقصان یا جسم کے درجہ حرارت میں کمی کا باعث بھی بن ہو سکتا ہے۔

Getty Imagesتحقیق کے مطابق نوزائیدہ بچوں کو شہد دینے سے انھیں متلی، الٹی اور کھانے میں دشواری جیسی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کا کہنا ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد پلانے سے بوٹولزم نامی سنگین بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق بچوں کو شہد براہ راست نہ دیا جائے بلکہ ڈاکٹر کے مشورے سے بچوں کو دی جانے والی خوراک، پانی اور مائع غذا میں شامل کیا جائے۔

ماہر اطفال ودیا کے مطابق ’بچوں کو چھ ماہ کے ہونے تک ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہیں دینا چاہیے، حتیٰ کہ پانی بھی نہیں۔ کچھ لوگ پریشان ہوتے ہیں کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے کافی نہیں ہے، یہی چیز بوٹولزم کا سبب بنتی ہے۔‘

اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’چھوٹے بچوں کا مدافعتی نظام ناپختہ ہوتا ہے۔ اس میں کھانا ہضم کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔ ہسپتالوں میں واضح وضاحت کی جاتی کہ بچوں کی خوراک پر نظر رکھی جائے۔‘

بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال اسے کیا کھلایا جائے’فارمولا مِلک استعمال نہ کریں۔۔۔‘ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے سے متعلق سات مفروضےکیا چینی کے بجائے شہد کا استعمال صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے؟ڈریسنگ ٹیبل پر سجا میک اپ بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کا کہنا ہے کہ شہد کو نامناسب طریقے سے رکھنے کے باعث اس میں نقصان دہ بیکٹیریا کی اقسام (Clostridium botulinum spores) پل بڑھ سکتی ہیں جس سے بچے کی آنتوں میں زہریلے مواد پیدا ہو سکتے ہیں جو کہ بچوں میں ایک مخصوص فالج انفینٹ بوٹولزم کی سنگین بیماری کا باعث بن سکتے ہیں۔

یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انفینٹ بوٹولزم ایک جان لیوا بیماری ہے۔ مطالعے کے مطابق یہ سنگین اعصابی مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر ودیا کہتی ہیں کہ مشکل یہ ہے کہ اس انفیکشن کی فوری شناخت کرنا بھی مشکل ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے متاثرہ بچے کوچند گھنٹوں میں ہی علاج اور طبی امداد فراہم کی جانا چاہیے۔

ڈاکٹر ودیا کے مطابق ’انفیکشن بچوں کی آنتوں کو متاثر کرتا ہے۔ ابتدائی علامات میں بچوں کا تھک جانا، دودھ نہ پینا، اور پیٹ میں پھولن شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک بچے کی آنتوں اور نظام انہضام کو درست طریقے سے تیار ہونے میں 12 ماہ لگتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو شہد نہ دینے کی تاکید کرتا ہے۔

Getty Imagesپاکستان میں 2012 کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پیدائش کے فوراً بعد 15.6 فیصد بچوں کو ماں کے دودھ سے پہلے شہد پلایا جاتا تھا

پاکستان میں 2012 کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پیدائش کے فوراً بعد 15.6 فیصد بچوں کو ماں کے دودھ سے پہلے شہد پلایا جاتا تھا۔ مطالعے کے مطابق گھر کے بزرگ اس روایتی فیصلے کے ذمہ دار تھے۔

اسی طرح انڈیا میں کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ماؤں اوربزرگ افراد کا خیال ہے کہ دودھ پلانے سے پہلے پیدائش کے دو گھنٹے کے اندر بچوں کو شہد دیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ودیا نے کہا کہ ’بوٹولزم ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے لیکن اس کا نقصان بچوں کو زیادہ ہو سکتا ہے۔ غیر صحت بخش شہد کھانے سے کوئی بھی متاثر ہو سکتا ہے لیکن بچے اس سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں چاہے وہ صحت بخش شہد کھائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو شہد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شہد ایک صحت بخش شوگر ہے۔ ہم اس بیماری کی کھوج اسی صورت میں لگا پاتے ہیں جب والدین اس کی اطلاع دیتے ہیں، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔‘

بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال اسے کیا کھلایا جائےڈریسنگ ٹیبل پر سجا میک اپ بچوں کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟’فارمولا مِلک استعمال نہ کریں۔۔۔‘ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے سے متعلق سات مفروضے’جادوئی خصوصیات کا حامل‘ بریسٹ مِلک کیا واقعی باڈی بلڈنگ میں مدد دیتا ہے؟کیا چینی کے بجائے شہد کا استعمال صحت کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے؟بچوں کو ’خوبصورت‘ بنانے کے ٹوٹکے جو خطرناک ہو سکتے ہیں: ’ایک خاتون نے مشورہ دیا کہ 12 دن کی بچی کی ویکسنگ کر دو‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More