Getty Images
عالمی سطح پر سونے کی قیمت تاریخ میں پانچ ہزار ڈالر فی اونس سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس قیمتی دھات میں آنے والی تاریخی بلندی سنہ 2025 سے جاری ہے جس دوران 60 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔
ادھر پاکستان میں پیر کے روز سونے کی قیمت میں 10 ہزار 900 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اب فی تولہ سونا پانچ لاکھ 32 ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی قیمت 10 ہزار 900 اضافے کے بعد پانچ لاکھ 32 ہزار 62 روپے فی تولہ ہو گئی ہے جو حالیہ ہفتوں میں ایک دن میں ہونے والے بڑے اضافوں میں سے ایک ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ نو ہزار 345 روپے بڑھ کر چار لاکھ 56 ہزار 157 روپے پر پہنچ گئی ہے۔
ماہرین نے صحافی تنویر ملک کو بتایا کہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں عموماً عالمی نرخوں سے تقریباً 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی جاتی ہیں۔ اس اضافی قیمت میں زرِ مبادلہ کی صورتحال، درآمدی اخراجات اور مقامی مارکیٹ کے عوامل شامل ہوتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا اثر مقامی مارکیٹ میں مزید بڑھ جاتا ہے۔
دوسری طرف چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا جو سونے کے رجحان کے مطابق رہا۔ فی تولہ چاندی کی قیمت 627 روپے بڑھ کر 11 ہزار 428 روپے ہو گئی جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 537 روپے اضافے کے بعد 9 ہزار 797 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اس اضافے کے ساتھ چاندی کی قیمتیں بھی مقامی اور عالمی سطح پر نئی بلند ترین سطح پر آ گئی ہیں۔
اٹک میں 700 ارب روپے مالیت سونے کا دعویٰ: کیا پاکستان میں سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں؟کراچی کے شیرشاہ بازار میں کمپیوٹر کے کچرے سے ’خالص سونے کی تلاش‘فی تولہ 357,800 روپے: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، یہ قیمتی دھات کون خرید رہا ہے اور کیا یہ سب سے محفوظ سرمایہ کاری ہے؟سونا اصلی ہے یا نقلی، پہچان کیسے کی جائے؟Getty Imagesسونے کی قیمت میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
سونے کی قیمت میں حالیہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور نیٹو کے درمیان گرین لینڈ کے تنازعے نے مالیاتی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی پیدا کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں بھی منڈیوں میں ہلچل کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ انھوں نے سنیچر کو دھمکی دی تھی کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا تو وہ اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیں گے۔
سونا اور دیگر قیمتی دھاتیں عموماً محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہیں جنھیں سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں خریدتے ہیں۔ جمعے کو چاندی کی قیمت بھی پہلی بار فی اونس 100 ڈالر سے اوپر گئی۔ چاندی کی قیمت میں 2025 کے دوران 150 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
قیمتی دھاتوں کی مانگ میں اضافہ دیگر متعدد عوامل سے بھی متاثر ہوا ہے، جن میں معمول سے زیادہ مہنگائی، کمزور امریکی ڈالر، دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے خریداری اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں مزید کمی شامل ہیں۔
یوکرین اور غزہ کی جنگوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی جانب سے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف آپریشن نے بھی سونے کی قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں کردار ادا کیا ہے۔
سونے کی سب سے بڑی کشش اس کی نسبتاً کم دستیابی ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق آج تک دنیا میں 216,265 ٹن کے قریب سونا نکالا جا چکا ہے جو صرف تین سے چار اولمپک سائز کے سوئمنگ پول بھرنے کے لیے کافی ہے۔
ان میں سے زیادہ تر ذخائر 1950 کے بعد نکالے گئے جب کان کنی کی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی اور نئے ذخائر دریافت ہوئے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کا اندازہ ہے کہ زیرِ زمین مزید 64,000 ٹن سونا نکالا جا سکتا ہے لیکن آنے والے برسوں میں اس کی سپلائی مستحکم یا کم ہونے کی توقع ہے۔
اے بی سی ریفائنری کے عالمی سربراہ نکولس فریپل نے کہا کہ ’جب آپ سونا رکھتے ہیں تو یہ کسی دوسرے اثاثے کی طرح قرض سے منسلک نہیں ہوتا، جیسا کہ بانڈز یا شیئرز میں ہوتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ انتہائی غیر یقینی کی دنیا میں بہت بہترین متبادل ہے۔‘
Getty Imagesسرمایہ کار اکثر اپنے سونے کو اس بینک میں رکھتے ہیں جو انھیں محفوظ سٹوریج فراہم کرتے ہیں2025 کے ریکارڈ سال کے بعد 2026 میں سونے کے خریدار کون ہیں؟
سونے کے لیے 2025 ایک بہترین سال ثابت ہوا جس میں 1979 کے بعد سب سے زیادہ سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سال سرمایہ کاروں نے بڑی تعداد میں قیمتی دھاتوں کی جانب رُخ کیا۔
ویلتھ کلب کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ سوزانہ سٹریٹر نے کہا کہ سونا ’سیاسی غیر یقینی کے ماحول میں کسی حد کا پابند نظر نہیں آتا‘ اور ’یہ قیمتی دھات مسلسل تیزی سے اوپر جا رہی ہے۔‘
انھوں نے ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر ٹیرف کی دھمکی کو سرمایہ کاروں میں بے چینی کا سبب قرار دیا۔
معاشی خدشات کے وقت سونے کی قیمت اکثر بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب سرمایہ کار شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقع کرتے ہیں۔
کم شرح سود کا مطلب ہے کہ بانڈز پر منافع کم ہوتا ہے، لہٰذا سرمایہ کار سونے اور چاندی جیسی اثاثوں کی طرف جاتے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو سے توقع ہے کہ وہ اس سال اپنی بنیادی شرح سود دو بار کم کرے گا۔
پیپر سٹون کے ریسرچ سٹریٹجسٹ احمد عصیری کے مطابق ’سونے کی قیمت کا تعلق الٹا ہوتا ہے کیونکہ جب سرکاری بانڈ میں پیسہ رکھنے کا فائدہ کم ہو جائے تو لوگ سونا خریدتے ہیں۔‘
گذشتہ سال دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے سینکڑوں ٹن سونا اپنے ذخائر میں شامل کیا۔ کیوالس کے مطابق ’امریکی ڈالر سے ایک واضح انحراف نظر آ رہا ہے، جس کا بھرپور فائدہ سونے کو ہو رہا ہے۔‘
سال کے آغاز میں سونے کی قیمت میں تیزی جاری ہے لیکن فریپل نے خبردار کیا کہ ’خبروں سے چلنے والی‘ یہ منڈی اچانک کسی مثبت عالمی خبر سے نیچے بھی آ سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں کوئی غیر متوقع مثبت خبر آنے کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، جو ضروری نہیں کہ سونے کے لیے فائدہ مند ہو۔‘
دنیا بھر میں بہت سے لوگ صرف سرمایہ کاری کے لیے نہیں، بلکہ ثقافتی اور روایتی وجوہات کی بنا پر بھی سونا خریدتے ہیں۔
انڈیا میں دیوالی کا تہوار قیمتی دھاتیں خریدنے کے لیے مبارک موقع سمجھا جاتا ہے۔
مورگن سٹینلے کے مطابق انڈین خاندانوں کے پاس 3.8 ٹریلین ڈالر مالیت کا سونا موجود ہے جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 88.8 فیصد کے برابر ہے۔
چین دنیا کی سب سے بڑی سونے کی منڈی ہے جہاں بہت سے لوگ سونا خریدنا خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں۔
کیوالس کے مطابق ’چینی نیا سال قریب آنے کی وجہ سے ہم طلب میں موسمی اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘
سونا اصلی ہے یا نقلی، پہچان کیسے کی جائے؟سونا جمع کرنے والا ’ساتواں بڑا ملک‘ انڈیا اتنی بڑی مقدار میں اسے کیوں ذخیرہ کر رہا ہے؟ٹرمپ، ٹیرف جنگ اور معاشی غیر یقینی: کیا اس وقت سونا ہی سب سے محفوظ سرمایہ کاری ہے؟فی تولہ 357,800 روپے: پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، یہ قیمتی دھات کون خرید رہا ہے اور کیا یہ سب سے محفوظ سرمایہ کاری ہے؟وہ گاؤں جہاں ’سمندر سونا اگلتا ہے‘’بلڈ گولڈ‘ فوجی حکومتوں کی ’بقا کا ضامن‘ اور عسکریت پسند تنظیموں کے لیے مالی فائدے کا ذریعہ کیسے بن رہا ہے؟