حساس اداروں نے پروفیسر عثمان قاضی اور میر خان لہڑی کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر مربوط انٹیلیجنس آپریشن کر کے بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے کی دہشتگردی کی منصوبہ بندی ناکام بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کو اب تک طلبہ یا جبری طور پر لاپتہ افراد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تاہم تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ وہ کالعدم بی ایل اے کی مجید بریگیڈ سے وابستہ خودکش حملہ آور تھے اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے سیٹلائٹ فونز اور تھُرایا کال ریکارڈز نے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" سے ان کے براہِ راست رابطے کو بھی ثابت کر دیا۔
انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق کے مطابق گرفتار دہشتگرد بلوچستان میں دو بڑے خودکش دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جنہیں بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ آپریشن کے دوران ملنے والی یو ایس بی فائلز اور سیٹ آئی پیز لاگز سے فنڈنگ اور تربیت کے ذرائع بے نقاب ہوئے اور اس کے ساتھ پورے کمانڈ چین کا سراغ بھی حاصل کر لیا گیا۔
یہی نوجوان بعد میں بی وائی سی نامی تنظیم کے "جبری گمشدگی" پوسٹرز پر انسانی حقوق کے مظلوم چہروں کے طور پر پیش کیے گئے جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح ایک ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے دہشتگردی کو سیاسی مظلومیت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی۔
اس آپریشن کے بعد ریاست نے ایک بار پھر واضح پیغام دیا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے اس نیٹ ورک کی کمر توڑ دی گئی ہے اور کالعدم بی ایل اے اور را کا گٹھ جوڑ مزید کسی پردے میں چھپا نہیں رہا۔