مستقل دوست یا دشمن کوئی نہیں صرف مفادات مستقل، انڈین وزیر دفاع کا ’خود انحصاری‘ پر زور

اردو نیوز  |  Aug 30, 2025

انڈین وزیر دفاع نے جنگی بحری جہاز کی پیداوار میں خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک مستقل دوست یا دشمن نہیں ہے، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق این ڈی ٹی وی دفاعی سمٹ 2025 سے خطاب میں وزیر دفاع راجنتھ سنگھ نے کہا کہ ’خود انحصاری کو مدنظر رکھتے ہوئے (ہماری) قوم اب تمام جنگی بحری جہاز مقامی سطح پر تیار کر رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’نیوی نے عہد کیا ہے کہ کسی اور ملک سے وار شپس نہیں خریدیں گے بلکہ انڈیا میں تیار کریں گے۔‘

اس کے ساتھ ہی راجنتھ سنگھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ انڈیا کا مقامی سطح پر تیار کیا گیا دفاعی نظام جلد حقیقت بننے جا رہا ہے۔

انہوں نے انڈیا کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو بھی واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی بھی مستقل دوست یا دشمن نہیں بلکہ مستقل صرف مفادات ہیں۔‘

وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایک طرف انڈیا کی امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے تو دوسری جانب نیو دہلی چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آج چین روانہ ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکہ درآمد ہونے والی انڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔

اسی تناظر میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’عالمی سطح پر اس وقت تجارت کے میدان میں جنگ جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ترقی یافتہ ممالک پروٹیکشنسٹ بنتے جا رہے ہیں، لیکن انڈیا اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

’انڈیا کسی کو بھی اپنا دشمن نہیں سمجھتا لیکن اپنے عوام کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’خود انحصاری سے نہ صرف فائدہ ہے بلکہ ضرورت بھی بن گیا ہے۔ آج کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ دفاع کے میدان میں بیرونی انحصار اب آپشن نہیں رہا۔‘

’موجودہ صورتحال میں خودانحصاری ہماری معیشت اور سلامتی کے لیے ضرورت بن گئی ہے۔‘

راجنتھ سنگھ نے کہا کہ انڈیا کی دفاعی برآمدات 700 کروڑ انڈین روپے سے بڑھ کر 2014 میں 24 لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی ہیں جس سے یہ ظاہر ہے کہ انڈیا درآمد کے بجائے ابھرتا ہوا برآمداتی ملک بن رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More