سانولی رنگت پر مذاق اڑاتے تھے اور۔۔ 27 سالہ لڑکی قابل لڑکی نے اپنی جان کیوں لی؟ ماں باپ دکھ سناتے ہوئے رو پڑے

ہماری ویب  |  Aug 29, 2025

"شادی کے وقت پروین کے اہل خانہ نے 15 لاکھ روپے نقد، 150 گرام سونا اور گھریلو سامان مانگا تھا، جو ہم نے دیا۔ مگر شادی کے بعد بھی وہ مزید رقم اور قیمتی اشیاء کا تقاضا کرتے رہے۔ چھ ماہ پہلے کاروبار کے بہانے انہوں نے مزید 5 لاکھ روپے مانگے، ہم نے وہ بھی دیے، لیکن ان کے مطالبات بڑھتے ہی گئے۔ وہ اکثر ہماری بیٹی کی رنگت کا مذاق اڑاتے تھے، ساس کہتی تھی تم سانولی ہو، میرے بیٹے کے قابل نہیں، اسے چھوڑ دو تاکہ ہم اس کے لیے بہتر دلہن ڈھونڈ سکیں۔"

بھارت کی ٹیکنالوجی ہب کہلانے والے شہر بنگلورو میں ایک اور دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا جہاں جہیز کے لالچ اور مسلسل ذہنی اذیت نے ایک جوان خاتون کی زندگی چھین لی۔ 27 سالہ شلپا، جو خود ایک کامیاب سافٹ ویئر انجینئر تھیں، اپنے ہی گھر میں پھندا لگا کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

شلپا کی شادی ڈھائی سال قبل پروین نامی انجینئر سے ہوئی تھی۔ دونوں کا ایک ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی ہے۔ شادی کے بعد شروع ہونے والا لالچ اور طعنے ختم ہونے کے بجائے بڑھتے گئے۔ کبھی سونا اور نقدی مانگی جاتی، کبھی کاروبار کے لیے نئی رقم۔ والدین اپنی بیٹی کی خوشی کے لیے بار بار قربانی دیتے رہے، لیکن سسرال والوں کے مطالبے رکنے کا نام نہ لیتے۔

رنگت پر جملے اور بار بار کی تضحیک نے شلپا کی خود اعتمادی کو توڑ دیا۔ والدین کے مطابق روز روز کی یہ کڑوی باتیں اور رقم لانے کا دباؤ ہی وہ زخم تھے جنہوں نے شلپا کو انتہائی قدم پر مجبور کر دیا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ یہ سانحہ بھارت میں جہیز کے عذاب اور معاشرتی رویوں کی سنگینی کو ایک بار پھر اجاگر کر گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More