نئی اور جدید سرحدی ’دیوار‘ جو یورپ کو ممکنہ روسی حملے سے بچانے میں مدد کرے گے

بی بی سی اردو  |  Aug 29, 2025

Getty Images

سنہ 1946 میں ونسٹن چرچل نے اعلان کیا کہ ’بالٹک میں سٹیٹن سے ایڈریاٹک میں ٹریسٹ تک‘ پورے یورپ میں ایک ’لوہے کی باڑ لگا دی گئی‘ ہے۔ اب یہ مغرب ہی ہے جو رکاوٹوں کو بڑھا رہا ہے۔

ہر یورپی ملک جو روس اور اس کے اتحادی بیلاروس کی سرحدوں سے متصل ہے ممکنہ روسی جارحیت اور اپنے دفاع کے لیے سینکڑوں کلومیٹر طویل سرحدی دیواریں بنانے کے منصوبوں کو تیز کر رہا ہے۔

ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کی وجوہات واضح ہیں۔ سرد جنگ کے بعد یورپ کا حفاظتی یا سکیورٹی ڈھانچہ جو بین الاقوامی اداروں اور تجارت کی مضبوطی، نیٹو کی توسیع اور امریکی فوجی ضمانتوں پر مبنی تھا، اب ختم ہو رہا ہے۔

فن لينڈ

روس کے ساتھ 1340 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ فن لینڈ نے سنہ 2023 میں ایک دیوار تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جو 400 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کی لاگت سے اس کی سرحد کے 15 فیصد حصے پر تعمیر کی جائے گی اور اُمید ہے کہ یہ سنہ 2026 تک مکمل ہوجائے گی۔

سنہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کی وجہ سے فن لیڈ میں اس منصوبے کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور اس پر کام کا آغاز کر دیا گیا تھا، لیکن اس دیوار کی تعمیر کی صرف یہی ایک وجہ نہیں تھی بلکہ ایک یہ بھی تھی کہ روس سے فرار ہو کر فن لینڈ آنے والے اُن افراد کے داخلے کو بھی روکا جا سکے کہ جو روسی فوج میں زبردستی بھرتی کے ڈر سے اپنا مُلک چھوڑ رہے تھے۔

Getty Images

فن لینڈ کی حکومت نے جولائی سنہ 2023 میں مضبوط اور لمبی باڑیں بنانے کے لیے ایک قانون منظور کیا تھا کیونکہ اس سے قبل لکڑی کی باڑ صرف مویشیوں کو سرحد کے اس پار آنے سے روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ملک کے جنوب میں بڑی رکاوٹوں کے علاوہ آٹھ سرحدی گزرگاہیں (آرکٹک سرکل کے شمال میں ایک) تعمیر کی گئیں۔

یہاں تک کہ شمال مشرقی فن لینڈ کے دور دراز علاقوں میں بھی دفاعی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

شمالی کوریا اپنی سرحد پر باڑ کیوں تعمیر کر رہا ہے؟پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑیں اور چوکیاںدیوارِ ٹرمپ دیگر دیواروں کے سامنے کیسی؟سرحد پار جمی نظریں اور ’کوریئر‘ کا انتظار: انڈیا کا نیا اینٹی ڈرون نظام جو ’چٹا‘ کی سمگلنگ روکنے کے لیے بنایا گیا ہےایسٹونیا، لٹویا، لیتھوانیا اور پولینڈ

تاہم فن لینڈ ایسا کرنے والا پہلا ملک نہیں ہے (یعنی باڑ کی تعمیر کرنے والا)۔ اگست 2015 میں ایسٹونیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی روس کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد پر باڑ لگائے گا۔

سنہ 2024 میں بالٹک ریاستوں اور پولینڈ نے دفاعی دیوار کے ساتھ اپنی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے کی تجویز پیش کی۔ یہ تقریباً 700 کلومیٹر پر محیط ہوگا اور اس پر دو ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔

اب تعمیراتی منصوبوں میں تیزی لائی جا رہی ہے کیونکہ بالٹک مُمالک کے رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے امکان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ماسکو ان کے خلاف اپنی فوج کو ری ڈائریکٹ یعنی اُن کی سمت موڑ دے۔

Getty Images

لٹویا روس کے ساتھ اپنی 386 کلومیٹر طویل سرحد کو مضبوط بنانے کے لیے اگلے چند سالوں میں تقریباً 35کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جبکہ لتھوانیا ممکنہ روسی حملے کے خلاف 48 کلومیٹر کی دفاعی لائن کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پولینڈ نے ماسکو کے ممکنہ اتحادیوں کے خلاف اپنے دفاع کے حصے کے طور پر بیلاروس کے ساتھ اپنی سرحد پر مستقل باڑ کی تعمیر شروع کردی ہے۔

ان دیواروں کے ساتھ دیگر رکاوٹیں بھی ہوں گی جیسے ٹینک شکن مورچے، 15 ٹن وزنی سیمنٹ سے بنی رکاوٹیں جنھیں ’کنکریٹ ڈریگنز ٹیتھ‘ بھی کہا جاتا ہے (جو روسی ٹینکوں کی پیش قدمی کو روک سکتے ہیں)، بڑے کنکریٹ بلاکس، سڑک پر رکھی جانے والی رکاوٹیں اور بارودی سرنگیں۔

بالٹک ریاستیں روس کی سرحد سے متصل 965 کلومیٹر کے علاقے کے تحفظ میں اضافے کے لیے ایک ہزار سے زائد بنکرز، گولہ بارود کے ڈپو اور سپلائی شیلٹرز بھی تعمیر کر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ بنکرز کا سائز تقریباً 35 مربع میٹر ہوگا، جو 10 فوجیوں کو رکھنے اور روسی توپ خانے کی جانب سے ہونے والی گولہ باری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان بالٹک ممالک نے فن لینڈ اور پولینڈ کے ساتھ مل کر سنہ 2025 میں بھی اعلان کیا تھا کہ وہ اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں پر پابندی لگانے والے سنہ 1997 کے بین الاقوامی معاہدے سے دستبردار ہوجائیں گے، جبکہ لتھوانیا نے کلسٹر گولہ بارود کے استعمال کے خلاف معاہدے کی پاسداری ختم کردی تھی۔ پولینڈ نے جون 2025 میں اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے سرحدی منصوبوں ’ایسٹرن شیلڈ‘ میں بارودی سرنگوں کو شامل کیا ہے۔

Getty Imagesسرحدوں کی حفاظت کے لیے ’ڈرونز وال‘ کا استعمال

یہ سرحدی دفاع جدید ٹیکنالوجی، پیشگی وارننگ سسٹم اور توپ خانے کی یونٹس کا استعمال کریں گے۔ لیتھوانیا، لٹویا، ایسٹونیا، پولینڈ، فن لینڈ اور ناروے نے سنہ 2024 میں ریگا میں ملاقات کی تاکہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے 2977 کلومیٹر طویل ’ڈرون وال‘ تعمیر کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا جا سکے۔ (ڈرون وال یعنی سرحد کی حفاظت کے لیے ایک ایسی دیوار یا سرحد پر ایسی ڈیفینس لائن کی تعمیر کے جس میں ڈرونز، سینسرز اور اینٹی ڈرونز ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا)۔

اس ڈرون وال میں ایک سینسر نیٹ ورک ہوگا جو روسی ڈرونز کی شناخت اور انھیں تباہ کرنے کے لیے ریڈار اور الیکٹرانک وار فیئر ٹولز پر مشتمل ہوگا۔ سرحد پار کرنے والے ہدف کا سراغ لگانے کے چند سیکنڈ کے اندر اندر، ایک قریبی ڈرون جاسوسی کا نظام تعینات کیا جائے گا جو بروقت دشمن کی جانب سے دراندازی کو کامیابی سے نشانے بنائے گا۔

اس منصوبے میں شریک ہونے والے ممالک کے درمیان کافی حد تک ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔ ایسٹونیا کی کمپنیاں پہلے ہی ایسے ڈرون ڈیزائن کر رہی ہیں جو جھیلوں، دلدل اور جنگلات کے پیچیدہ علاقے میں خطرات کا پتہ لگا سکتے ہیں اور انھیں بے اثر یا نشانہ بنا سکتے ہیں جو بالٹک ریاستوں کے ساتھ روس کی سرحد پر واقع ہیں۔

تاریخی مماثلت

یورپ میں روس کی سرحد سے متصل تمام ممالک کا تعاون اور علاقے کی تفہیم دونوں میگینوٹ لائن کی ناکامی کو روکنے کے لئے اہم ہیں، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس کی تعمیر کردہ دفاعی رکاوٹوں کے ایک سلسلے کا حصہ ہے۔

اُس وقت ان کے تعمیر کے دوران یہ فرض کیا گیا تھا کہ جرمن آرڈنز فاریسٹ کو بیلجیئم میں عبور نہیں کر پائیں گے۔

Getty Images

اگرچہ میگینوٹ لائن کی فصیل نے جرمنوں کو حملے کے اپنے منصوبے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا لیکن بیلجیئم کو غیر محفوظ چھوڑ دیا گیا۔ آج یورپی اقوام کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ روسی حملے کو مکمل طور پر نہیں روک سکتے لیکن وہ ممکنہ طور پر روسی حملے کی نوعیت کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کا مقصد نہ صرف روکنا ہے بلکہ کسی بھی حملے کی پوزیشن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔

اگر یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہو جاتا ہے تو بالٹک ممالک کے رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ کریملن ان کی سرحدوں پر اپنے فوجیوں کو دوبارہ تعینات کر سکتا ہے۔

روس کی سرحد سے متصل ممالک ولادیمیر پوتن کے آئندہ کچھ بھی کرنے کے لیے ہر ممکن حد تک تیار رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑیں اور چوکیاںشمالی کوریا اپنی سرحد پر باڑ کیوں تعمیر کر رہا ہے؟دیوارِ ٹرمپ دیگر دیواروں کے سامنے کیسی؟سرحد پار جمی نظریں اور ’کوریئر‘ کا انتظار: انڈیا کا نیا اینٹی ڈرون نظام جو ’چٹا‘ کی سمگلنگ روکنے کے لیے بنایا گیا ہےانڈیا اور پاکستان کی بڑھتی کشیدگی سے پریشان سرحدی دیہات کے کسان: ’نہیں معلوم اگلی فصل لگانے کی اجازت ملے گی یا نہیں‘میکسیکو دیوار:’رقم نہیں دینی تو دورۂ امریکہ منسوخ کردیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More