ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد، ان کی تجارتی پالیسیوں میں کئی بڑی تبدیلیاں آئیں، جو نہ صرف امریکی معیشت پر اثرانداز ہوئیں بلکہ عالمی تجارتی تعلقات میں بھی اہم تبدیلیاں لائیں۔ ان کی پالیسیوں نے عالمی سطح پر تجارتی جنگوں کو جنم دیا، خاص طور پر چین، کینیڈا، اور یورپی یونین کے ساتھ۔ ان اقدامات کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا:
"ہم امریکہ کے مفادات کو مقدم رکھیں گے، اور ہم اپنے تجارتی خسارے کو ختم کرنے کے لیے ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو ضروری ہے۔"
1. ٹرمپ کے تجارتی فیصلے اور ٹیرف
ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے کے تحت امریکہ کی درآمدات پر ٹیرف (درآمدی ٹیکس) بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقصد امریکی صنعتوں کو تحفظ دینا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق، "امریکہ بہت زیادہ رقم دوسرے ممالک کو بھیج رہا ہے، اور یہ اب ختم ہوگا۔"
چین:
امریکہ نے چین پر ٹیرف عائد کیے، اور چین نے بھی جواب میں امریکہ کی درآمدات پر 34% تک ٹیرف لگایا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا آغاز تھا، جس نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی۔ چینی ٹیرف کے ردعمل میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بڑی کمی آئی۔ ٹرمپ نے چین کے بارے میں کہا: "ہم چین سے غیر منصفانہ تجارت کو ختم کریں گے، اور یہ ہماری معیشت کو فائدہ پہنچائے گا۔"
کینیڈا اور یورپی یونین:
ٹرمپ نے کینیڈا اور یورپی یونین کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات پر نظرثانی کی۔ کینیڈا نے امریکہ کی گاڑیوں پر 25% جوابی ٹیرف عائد کیا، اور یورپی یونین نے امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگانے کی حکمت عملی اپنائی۔ ٹرمپ نے یورپی یونین کے بارے میں کہا: "ہم یورپ کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں، لیکن جب تک ہمارے تجارتی خسارے کو کم نہیں کیا گیا ، ہم اپنے مفادات کی حفاظت کریں گے۔"
ویتنام:
ویتنام کے ساتھ بھی تجارتی مذاکرات ہوئے، جہاں ویتنام نے امریکی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو کم کرنے کا وعدہ کیا بشرطیکہ دونوں ممالک ایک معاہدے پر پہنچیں۔
نورفولک جزیرہ
ایک چھوٹا جزیرہ، نورفولک آئی لینڈ، جس کی آبادی صرف 2,100 ہے، بھی عالمی تجارتی کشیدگی سے متاثر ہوا۔ اگرچہ یہ جزیرہ چھوٹا ہے، لیکن یہ عالمی تجارتی راستوں کا حصہ ہے، اور تجارتی جنگ اور ٹیرف کے اثرات نے یہاں بھی معاشی اثرات مرتب کیے۔ جزیرے نے اپنے تجارتی معاہدوں کو نئے سرے سے جائزہ لینا شروع کیا۔
2. امریکی ملازمتوں کی صورتحال
ٹرمپ کے تجارتی فیصلوں نے امریکی معیشت اور ملازمتوں پر بھی اثرات مرتب کیے۔ امریکی محکمہ امورِ سابق فوجیوں (ویٹرنز افیئرز) نے اپنے ملازمین کو مستعفی ہونے کا آپشن دیا اور ٹیکس اتھارٹی (IRS) کے سول رائٹس آفس کو بند کر دیا، جس سے 75% ملازمین فارغ ہو گئے۔ اس کے علاوہ، وفاقی حکومت میں ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ ان فیصلوں کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا: "ہم امریکی عوام کو ان کی روزگار کے مواقع دیں گے اور ہمارے تجارتی فیصلے ان کے فائدے کے لیے ہوں گے۔"
3. نئے معاہدے اور عالمی ردعمل
ٹرمپ نے مختلف ممالک سے نئے معاہدے کرنے کی کوشش کی۔ ان میں ایک اہم معاہدہ ویتنام کے ساتھ تھا، جس میں دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ چین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ٹرمپ نے چین کے بارے میں کہا: "چین سے ہمارے تجارتی تعلقات اب تک غیر منصفانہ تھے، اور ہم اسے درست کرنے جا رہے ہیں۔"
4. ٹیرف کے اثرات
ٹرمپ کے تجارتی اقدامات نے عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خطرات کو بڑھا دیا۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی، جس میں ڈاؤ جونز انڈیکس 2,200 پوائنٹس گر گیا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے بھی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ ان ٹیرف پالیسیوں کے اثرات امریکی معیشت پر منفی پڑ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کے جواب میں کہا: "ہمیں اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، اور اس کے لیے ہمیں سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔"
5. منافع اور نقصان
اگرچہ ٹرمپ کے تجارتی فیصلوں کا مقصد امریکہ کی معیشت کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن ان اقدامات نے عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی میں اضافہ کیا۔ چین، کینیڈا، اور یورپی یونین نے امریکہ کے اقدامات کا جواب دیا، جس کے نتیجے میں دونوں طرف کی معیشتوں پر اثرات مرتب ہوئے۔ ان کے مطابق: "ہم اپنے مفادات کے لیے لڑیں گے، اور دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کسی کی نظروں میں نہیں آئے گا۔"
6. مستقبل کی پیش گوئیاں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کی پالیسیوں کا تسلسل رہا تو امریکی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اور عالمی سطح پر تجارتی جنگوں کے نتیجے میں کساد بازاری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس کے بارے میں کہا: "ہم جانتے ہیں کہ اس راستے پر چلنا آسان نہیں، لیکن ہمیں اس سے حاصل ہونے والے فوائد کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔"
7. نیا تجارتی ماحول
ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی تجارتی تعلقات کو نیا رخ دیا۔ ان کے فیصلوں کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی، اور کچھ ممالک نے امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنے کی کوشش کی۔ "ہم دنیا کو یہ دکھا دیں گے کہ امریکہ ہمیشہ اپنے حقوق کا دفاع کرتا ہے۔"
ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی معیشت میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کی۔ ان کا مقصد امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، لیکن ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی تجارتی کشیدگی بڑھ گئی اور امریکی معیشت کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ نے کہا: "ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ امریکہ اپنی قیمت پر ہر فیصلے کو کرے گا، اور یہ امریکہ کے مفادات کے لیے ہے۔"