وہیں کھاتی ہے اور سو بھی جاتی ہے۔۔ آخر یہ لڑکی غسل خانے میں کیوں رہ رہی ہے؟ ویڈیو دیکھ کر لوگ ہکا بکا رہ گئے

ہماری ویب  |  Apr 03, 2025

"یہ کیسے ممکن ہے؟ کوئی بھی ٹوائلٹ میں نہیں رہ سکتا، یہ تو صرف مشہور ہونے کا ڈرامہ لگتا ہے!"

"اگر کوئی اتنی ہمت کر سکتا ہے تو میں اس کی جدوجہد کی عزت کرتا ہوں۔ دنیا میں رہنے کے حالات اتنے مشکل ہو چکے ہیں کہ لوگ اب بیت الخلا میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں!"

"یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے، لیکن اگر سچ ہے تو حکومت کو کچھ کرنا چاہیے۔ کوئی بھی انسان ایسی حالت میں نہیں رہنا چاہیے۔"

"یہ لڑکی محض کفایت شعاری نہیں، بلکہ بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہمیں مذاق بنانے کے بجائے اس کے حالات پر غور کرنا چاہیے۔"

ٹوائلٹ سے بنا "گھر"—ایک مجبور لڑکی کی کہانی

چین کی ایک 19 سالہ لڑکی نے دنیا کو حیران کر دیا جب اس نے اپنی رہائش کی حقیقت سوشل میڈیا پر شیئر کی—یہ کوئی اپارٹمنٹ، کمرہ یا جھونپڑی نہیں، بلکہ ایک 6 مربع فٹ کا ٹوائلٹ تھا، جو کسی فیکٹری میں غیر استعمال شدہ حالت میں موجود تھا۔

"میں ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں 800 یوآن (تقریباً 110 امریکی ڈالر) کا ماہانہ کرایہ ادا کر سکوں، اس لیے میں نے اپنے دفتر میں رہنے کی اجازت لے لی۔"

زندگی آسان نہیں تھی، لیکن وہ کسی نہ کسی طرح گزر بسر کر رہی تھی۔ وہیں سوتی، وہیں کھانا کھاتی اور دن گزارتی، جبکہ اس کا باس اس پر حیران تھا۔

"میں اس سے پانی اور بجلی کا بل لینے کا سوچ رہا تھا، لیکن وہ خود اصرار کر رہی تھی کہ میں اسے 50 یوآن اضافی ادا کرنے دوں!"

حقیقت یا محض شہرت کا حربہ؟

جب اس کی کہانی وائرل ہوئی تو کئی لوگ حیران رہ گئے، جبکہ کچھ نے اسے جھوٹ قرار دیا۔ لیکن اس کے باس نے خود تصدیق کی کہ وہ واقعی ٹوائلٹ میں رہ رہی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا واقعی یہ صرف کفایت شعاری کی انتہا تھی یا پھر اس کے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا؟ لاکھوں لوگ اس وقت کرایوں اور مہنگائی کی وجہ سے بے گھر ہو رہے ہیں۔ کیا یہ صرف ایک لڑکی کی کہانی ہے یا اس کے پیچھے ایک بڑا معاشرتی مسئلہ چھپا ہوا ہے؟

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More