خیبرپختونخوا کے نوجوان انرجی ڈرنکس کے برانڈز کیوں لانچ کر رہے ہیں؟

اردو نیوز  |  Apr 02, 2025

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں مشروبات اور کولڈ ڈرنکس کے بعد اب انرجی ڈرنکس کا کاروبار عروج پر ہے اور صوبے کے بڑے سرمایہ کار کروڑوں کی سرمایہ کاری کرکے نئے نئے انرجی ڈرنکس برانڈز متعارف کررہے ہیں۔

گزشتہ ایک برس کے دوران کم ازکم تین نئے انرجی ڈرنکس لانچ کیے گئے ہیں۔

اس سلسلے کا آغاز امریکہ میں مقیم ضلع سوات کی کاروباری شخصیت شاہد انور کے برانڈ سے ہوا جنہوں نے سلاجیت کے نام سے انرجی ڈرنک لانچ کی۔

یہ مشروب متعارف کرواتے وقت انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں آبِ زم زم ، زعفران اور سلاجیت کے اجزاء موجود ہیں۔

شاہد انور نے اپنی اس نئی پروڈکٹ کی نہ صرف امریکہ اور دبئی کی مارکیٹ میں برینڈنگ کی بلکہ یہ انرجی ڈرنک اب ایمازون اور دیگر آن لائن ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہے۔ 

خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کے ایک اور نوجوان افسر افغان نے مقامی سطح پر انرجی ڈرنک زور کے نام سے بنائی ہے جس کی آج کل زور و شور کے ساتھ مارکیٹنگ ہو رہی ہے۔

اسی طرح ضلع خیبر کے ایک اور سرمایہ کار نبیل آفریدی نے مارخور انرجی ڈرنک  کو دھوم دھام کے ساتھ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نبیل آفریدی خیبرپختونخوا کی معروف کاروباری شخصیت ہیں جو  ریئل اسٹیٹ کے بعد اب انرجی ڈرنک لانچ کرنے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں مقیم سوات کی کاروباری شخصیت شاہد انور نے سلاجیت کے نام سے انرجی ڈرنک لانچ کی (فائل فوٹو: پکسابے)نبیل آفریدی نے اردو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پختون معاشرے کے نوجوان اگر اس کاروبار کی سمت جارہے ہیں تو یہ خوش آئند بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انرجی ڈرنکس بنانے کی وجوہات میں سے ایک مارکیٹ میں اس کی بہت زیادہ مانگ اور مقامی برانڈز کا نہ ہونا ہے۔ 

نبیل آفریدی کے مطابق خیبرپختونخوا میں باقاعدہ سروے کیا گیا جس سے پتا چلا کہ صوبے میں سالانہ چار ارب روپے سے زائد کے انرجی ڈرنکس کا کاروبار ہوتا ہے جن میں تمام غیرملکی انرجی ڈرنکس کی کمپنیاں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ کم قیمت میں معیاری مشروب مارکیٹ میں لائیں۔

’ہم نے متعدد انرجی ڈرنکس کے اجزا کامشاہدہ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ کچھ ڈرنکس میں کیمیکل کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ صحت کے لیے مضر ہے۔ہم نے اس سے بچنے اور معیاری ڈرنک متعارف کروانے کے لیے اس کے فارمولے پر پانچ ہزار ڈالر خرچ  کیے ہیں۔‘

نبیل آفریدی نے بتایا کہ کچھ ڈرنکس میں کیمیکل کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے (فائل فوٹو: ایسٹونین نیوز)پشاور کے معروف تجارتی مرکز پیپل منڈی کے تاجر شاہ نور خان کے مطابق انرجی ڈرنک کا سیزن سال کے 12 مہینے رہتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی ان کی مانگ ہمیشہ رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریڈ بُل، پاور بُل، سٹنگ، بوسٹر اور مونسٹر انرجی ڈرنکس مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو کہ تمام غیرملکی پروڈکٹس ہیں۔

’اس کے علاوہ غیر معروف ناموں کے ڈرنکس کے کم قیمت کنٹینرز کی بھی خرید و فروخت ہوتی ہے۔‘

شاہ نور کا کہنا تھا کہ ’نت نئے ناموں سے انرجی ڈرنکس یا بوسٹر مارکیٹ میں آ تو رہے ہیں لیکن ان کا معیار تسلی بخش نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوان شاہد انور نے انرجی ڈرنک دبئی میں لانچ کی ہے تاہم ان کی پروڈکٹ ابھی تک پاکستان کی مارکیٹ میں نہیں پہنچی ہے۔

 انہیں امید ہے کہ نئے انر جی ڈرنکس مارکیٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے تاہم اس کا بڑا انحصار ان کی مارکیٹنگ اور قیمت پر ہے۔

انرجی ڈرنکس کے مضر اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟

خیبرپختونخوا کے ماہر امراض معدہ ڈاکٹر شمس وزیر کا کہنا ہے کہ انرجی ڈرنک میں کیفین، مصنوعی مٹھاس کے لیے رنگ اور دیگر اجزاء شامل کیے جاتے ہیں، جن کا زیادہ استعمال صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، جبکہ کچھ انرجی ڈرنکس میں توانائی کو بحال رکھنے کے لیے ڈرگز کی ایسی اقسام شامل کی جاتی ہیں جنہیں پینے کے بعد اعصاب متحرک رہتے ہیں۔ 

 نئے انرجی ڈرنکس کے مارکیٹ میں جگہ بنانے کا انحصار ان کی مارکیٹنگ اور قیمت پر ہے (فائل فوٹو: فری پکس)’انہی اجزاء کی وجہ سے انرجی ڈرنک کی لت لگ جاتی ہے جو کسی نشے سے کم نہیں ہوتی‘

ڈاکٹر شمس وزیر کا کہنا ہے کہ انرجی ڈرنکس کا براہ راست اثر جگر اور گردوں پر ہوتا ہے جبکہ معدے اور دماغ پر بھی یہ ڈرنکس منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

ڈاکٹر شمس وزیر کے مطابق ’انرجی ڈرنک کا زیادہ استعمال شوگر کا باعث بن سکتا ہے، اسی طرح موٹاپا اور ہائی بلڈپریشر کا خطرہ بھی ہو جاتا ہے۔‘

’ہمارے ہاں دستیاب انرجی ڈرنکس غیرمعیاری ہیں جو کہ ناقص فارمولے کے ذریعے بنائے جارہے ہیں جو بہت زیادہ نقصان دہ ہیں۔‘

ڈاکٹر شمس نے کہا کہ گردوں اور جگر کے مختلف امراض کی بڑی وجہ یہی کولڈ ڈرنکس ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انرجی ڈرنکس کے استعمال کا رحجان بڑوں کے ساتھ کم عمر بچوں میں بھی بڑھ رہا ہے جس کے سبب صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More