’سونے کا شہر‘ منڈلے جہاں اب موت کی بو آتی ہے

بی بی سی اردو  |  Apr 02, 2025

Reutersمیانمار کی فوج کے سربراہ کے مطابق زلزلے کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد 2700 تک پہنچ چکی ہے

منڈلے کو ماضی میں سونے کا شہر کہا جاتا تھا اور اس کی وجہ وہاں موجود چمکتے ہوئے مندر اور بدھ مت سے جُڑے افراد کی قبروں پر لگے کُتبے تھے لیکن میانمار میں آنے والے زلزلے کے بعد یہاں لاشوں کی بُو پھیلی ہوئی ہے۔

اس شہر میں جمعے کو آنے والے سات اعشاریہ سات شدت کے زلزلے کے بعد لاشوں کا ڈھیر لگ چکا ہے اور منڈلے کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ متعدد لاشوں کو ’ایک ساتھ جلانا‘ پڑا ہے۔

میانمار کی فوج کے سربراہ کے مطابق زلزلے کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد 2700 تک پہنچ چکی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ اب بھی موجود ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے دوسرے بڑے شہر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کی راتوں کی نیند اُڑ چکی ہے اور وہ کھانے اور پانی کے بغیر سڑکوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

منڈلے کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ زلزلے میں ان کی ایک آنٹی بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

23 سالہ طالب علم کا کہنا تھا کہ ’ان کی آنٹی کی لاش 30 مارچ کو دو دن بعد ملبے سے نکالی گئی تھی۔‘

خراب انفراسٹرکچر اور خانہ جنگی کے سبب میانمار میں ریسکیو کے کام میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تاریخی طور پر میانمار میں فوج قدرتی آفات کے بعد نقصانات کو کم کر کے ہی بتاتی ہے۔

زلزلے کے بعد اموات میں اضافے کا خدشہ اب بھی موجود ہے اور ریسکیو اہلکار ابھی بھی منہدم شدہ عمارات اور دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

EPA23 سالہ طالب علم کا کہنا تھا کہ 'ان کی آنٹی کی لاش 30 مارچ کو دو دن بعد ملبے سے نکالی گئی تھی'

منڈلے سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ طالب علم کا کہنا ہے کہ وہ ’نیند سے محرومی کے سبب غنودگی کی حالت‘ میں ہیں۔

منڈلے کے بہت سارے شہری سڑکوں پر خیموں میں رہ رہے اور انھیں ڈر ہے کہ شاید آفٹرشاکس کے سبب ان کے گھروں کی باقیات بھی ختم ہو جائیں۔

23 سالہ طالب علم کا کہنا ہے کہ ’میں نے مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو سڑکوں پر روتے اور بلکتے ہوئے دیکھا ہے۔‘

زلزلے کے بعد متاثرین تاحال ریسکیو اداروں کو مل رہے ہیں۔ شہر کی فائر سروس کے مطابق ان کے اہلکاروں نے گذشتہ چار دنوں میں منڈلے میں 403 افراد کو ریسکیو کیا ہے، جبکہ انھیں 259 لاشیں بھی ملی ہیں۔

تاہم مرنے والوں کی تعداد سرکار کی جانب سے بتائی گئی تعداد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

منگل کو ٹی وی پر نشر کی جانے والی تقریر میں میانمار کی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

میانمار میں زلزلہ کیوں آیا اور اس کے سبب بنکاک میں عمارت کیسے زمین بوس ہوئیزلزلے کی پیش گوئیاں غلط کیوں نکلتی ہیں؟میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلے میں کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں9.1 شدت کا زلزلہ اور تباہ کُن سمندری لہریں: 20 سال قبل آنے والی قدرتی آفت جس کا شکار بننے والے بہت سے لوگ آج بھی لاپتہ ہیں

تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت کے سبب تقریباً ’10 ہزار افراد کے ہلاک ہونے کا امکان ہے۔‘

منڈلے میں آنے والے زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوئے ہیں۔

ایک مقامی پادری نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے محلے میں ہونے والی تباہی کے سبب ان کا آٹھ سالہ بیٹا گذشتہ چند دنوں میں متعدد بار دھاڑیں مار مار کر رو چکا ہے۔

رواتے نامی پادری کا مزید کہنا تھا کہ ’جب زلزلہ آیا اس وقت میرا بیٹا اوپر اپنے کمرے میں تھا اور میری اہلیہ اپنی چھوٹی بہن سے ملاقات کر رہی تھیں، ان پر بھی کچھ ملبہ گرا۔‘

’گذشتہ روز ہم نے (ریسکیو اہلکاروں کو) اپنے محلے میں منہدم شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی لاشوں کو باہر نکالتے ہوئے دیکھا۔‘

رواتے کہتے ہیں کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے۔ میانمار پر بہت ساری آفتیں آ چکی ہیں، کچھ قدرتی اور کچھ انسانوں کی طرف سے۔ اب سب تھک چکے ہیں اور ہم خود کو بے امید اور بے یارومددگار محسوس کرتے ہیں۔‘

منڈلے میں ایک سکائی وِلا نامی عمارت بھی تھی جو پہلے 12 مزلہ تھی مگر زلزلے کے بعد اب اس کی صرف چھ منزلیں باقی رہی ہیں۔ اس کے ایک رہائشی راہب کہتے ہیں کہ ان کی عمارت سے کچھ لوگوں کو زندہ بھی نکالا گیا ہے لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں میں وہاں سے ’صرف لاشیں ہی نکلی ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ آفت جلد ختم ہو جائے گی۔ ابھی بھی ملبے تلے لاشیں دبی ہیں، میرے خیال سے ان کی تعداد 100 سے زیادہ ہو گی۔‘

منڈلے کے قریب واقع تمام شمشان گھاٹ پر بہت رش ہے اور حکام کے پاس کفن بھی کم پڑ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں نہ ہی پانی ہے اور نہ پینے کا پانی ہے۔

شہر کے اطراف میں تباہ شدہ سنہرے میناروں لا ملبہ جگہ جگہ پڑا ہوا نظر آتا ہے۔

منڈلے برسوں سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے لیکن یہاں حالیہ برسوں میں غربت تیزی سے بڑھی ہے۔

گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے سے تھائی لینڈ اور چین بھی متاثر ہوئے ہیں لیکن میانمار میں زیادہ تباہی ہوئی ہے جو کہ سنہ 2021 میں اقتدار پر فوج کے قبضے کے بعد پہلے سے ہی خانہ جنگی غربت اور معاشی بحران کا شکار تھا۔

منگل کو میانمار میں زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ ملک میں حکمرانوں نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں اس دوران پرچم سرنگوں رہےگا اور میڈیا کی نشریات بھی روک دی جائیں گی۔

میانمار میں زلزلے سے قبل بھی تقریباً 35 لاکھ لوگ بے گھر تھے اور ہزاروں مزید افراد فوج میں جبری بھرتی سے بچنے کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زلزلے کے بعد ملک میں ریسکیو کے لیے کام کرنے والے افراد کی کمی ہو گئی ہے۔

روس اور چین ان ممالک میں سے ہیں جنھوں نے میانمار امداد بھی بھیجی ہے اور سپیشلسٹ بھی بھیجے ہیں۔

لیکن 23 سالہ طالب علم کہتے ہیں کہ اس سب کے باوجود بھی امدادی کام بہت سُست ہے۔ ’میرے خیال میں ریسکیو ٹیمیں چار دنوں سے بنا رُکے کام کر رہی ہیں۔وہ تھک چکے ہیں اور انھیں آرام کی ضرورت ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’چونکہ نقصانات بہت زیادہ ہیں اور ہمارے پاس وسائل بھی کم ہیں اسی لیے ریسکیو اہلکاروں کے لیے کام کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔‘

میانمار میں فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرف سے آنے والی امداد کو خوش آمدید کہیں گے لیکن امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ انھیں زلزلے سے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ساگاینگ زلزلے کا مرکز تھا اور مقامی میڈیا کے مطابق وہاں فوجی حکام نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کہ وہاں امدادی کام کرنے والے اداروں اور کارکنان کو جانے کے لیے پہلے اجازت لینا ہوگی۔

متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں بشمول ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل فوجی حکام سے درخواست کر چکی ہیں کہ امدادی کارکنان کو ہر جگہ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ڈپٹی ایشیا ڈائریکٹر برائیونی لو کہتی ہیں کہ ’میانمار کی فوجی حکومت اب بھی ڈرا رہی ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب قدرتی آفت میں ہزاروں افراد زخمی اور ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنا ماضی کا رویہ ترک کر دیں اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد کو پہنچنے دیں۔‘

تاریخ کا سب سے شدید زلزلہ، جس نے زمین کا جغرافیہ بدل کر رکھ دیا پاکستان میں زلزلہ: کیا زلزلوں کی پیشگوئی کرنا ممکن ہے؟بنکاک میں 30 منزلہ عمارت زمین بوس: ’ہم بھاگو، بھاگو چیخ رہے تھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بھاگنے کو کہہ رہے تھے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More