آن لائن فراڈ: ایمازون کا گفٹ واؤچر جو انڈین خاتون کو 51 لاکھ روپے سے محروم کر گیا

بی بی سی اردو  |  Mar 07, 2025

Getty Imagesگریٹر نوائیڈہ سے تعلق رکھنے والی مینو رانی نامی خاتون کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا تھا جنھوں نے انھیں مفت ایمازون واؤچر پیش کر کے ان کا اعتماد حاصل کیا

انڈیا میں آن لائن فراڈ کے ایک نئے واقعے میں گریٹر نوئیڈا کی ایک خاتون نے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے گئے بظاہر بے ضرر ایمازون گفٹ واؤچر استعمال کرنے پر 51 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم گنوا لی ہے۔

گریٹر نوائیڈہ سے تعلق رکھنے والی مینو رانی نامی خاتون کو مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا تھا جنھوں نے انھیں مفت ایمازون واؤچر پیش کر کے ان کا اعتماد حاصل کیا۔

متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ انھیں ای کامرس ویب سائٹ ایمازون کے گفٹ واؤچر کا جھانسہ دے کر 51 لاکھ روپے فراڈ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

آن لائن فراڈ کا نشانہ بننے والی مینو رانی نے سنیچر کے روز سائبر کرائم پولیس سٹیشن میں ایک شخص کے خلاف آن لائن دھوکہ کے ذریعے ان سے 51 لاکھ روپے ہتھیانے کی شکایت درج کرائی۔

خاتون کے ساتھ 51 لاکھ روپے کا آن لائن فراڈ کیسے ہوا؟

انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق اس آن لائن فراڈ کی شروعات اس وقت ہوئی جب متاثرہ خاتون مینو رانی کو ہری سنگھ نامی شخص نے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا۔ انھیں ہری سنگھ نے اپنے آپ کو سٹاک مارکیٹ کی سرمایہ کاری میں 15 سال کے تجربے کے ساتھ ایک پیشہ ور سرمایہ کاری گائیڈ کے طور پر متعارف کرایا۔ اس کے بعد اس نے متاثرہ خاتون کو ایک ایسے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے پر راضی کیا جہاں ممبران سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کرتے اور اپنی کامیابی کی کہانیاں شیئر کرتے تھے۔

مینو رانی نے ہری سنگھ کے جھانسے میں آ کر سرمایہ کاری کے بارے میں جاننے اور زیادہ منافع کمانے کا ایک اچھا موقع سمجھتے ہوئے اس واٹس ایپ گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔

آن لائن کمائی اور سرمایہ کاری کا جھانسہ: پڑھے لکھے پاکستانی نوجوان فراڈ کا شکار کیسے ہو رہے ہیں؟آن لائن فراڈ میں ڈیڑھ کروڑ روپے گنوانے والی خاتون: ’میں ہر وقت خوف میں رہتی ہوں، ان کے پاس میری تمام تفصیلات ہیں‘’آپ چاہتی ہیں ریپ کا پرچہ نہ ہو تو پیسوں کا بندوبست کریں‘: فراڈ جو پاکستانیوں کو جمع پونجی سے محروم کر رہا ہےآن لائن فراڈ کا اگلا نشانہ کہیں آپ تو نہیں!

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق مینو رانی نے پولیس کو درج کروائی اپنے درخواست میں کہا کہ کچھ عرصے کے بعد واٹس ایپ گروپ میں ان کا رابطہ ارتی سنگھ نامی ایک گروپ رکن سے ہوا۔آرتی نے انھیں بتایا کہ ہری سنگھ نے ہر خاتون ممبر کی سرمایہ کاری میں مدد کرنے کے لیے 1,000 روپے کے ایمازون گفٹ واؤچر خریدے ہیں۔ یہ گفٹ واؤچر حاصل کرنے کے لیے متاثرہ حاتون کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے ایمازون اکاؤنٹ کو لاگ ان کرے۔ مینو نے جب آرتی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے ایمازون اکاؤنٹ میں لاگ ان کیا تو انھیں اپنے بیلنس میں 1000 روپے جمع ملے۔ اس سے ان کا گروپ اور اس کے ایڈمن ہری سنگھ پر اعتماد مزید بڑھ گیا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جعلسازوں نے اعتماد حاصل کرنے کے بعد متاثرہ خاتون مینو سنگھ کو لالچ دیا کہ وہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر کے ایک ماہ کے اندر تین سے پانچ گنا منافع کما سکتی ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (سائبر کرائم) پریتی یادو نےخبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو اس معاملے کے متعلق بتایاجعلساز ہری سنگھ نے مینو رانی سے ابتدا میں 50,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنے کو کہا۔ جب رانی نے فراہم کردہ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی تو اس نے اپنا 'منافع' ایک ایپ پر ظاہر ہوتا ہوا دیکھا جسے انھوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا تھا۔

ایپ پر منافع ظاہر ہوتے دیکھ مینو کو مزید پیسہ لگانے کا اور اپنے خاندان کے افراد کے فنڈز کا استعمال کرنے کا حوصلہ ملا۔

Getty Imagesپریس ٹرسٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جعلسازوں نے اعتماد حاصل کرنے کے بعد متاثرہ خاتون مینو سنگھ کو لالچ دیا کہ وہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر کے ایک ماہ کے اندر تین سے پانچ گنا منافع کما سکتی ہے

ان کے مطابق اس سرمایہ کاری سکیم کو جائز ظاہر کرنے کے لیے، جعلسازوں نے متاثرہ خاتون کو ایک موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کی جس میں ان کی اصل سرمایہ کاری دکھائی گئی اور بظاہر بڑھتے ہوئے منافع کو ظاہر کیا گیا۔

پریتی یادو کے مطابق دھوکہ بازوں نے سرمایہ کاری میں منافع ظاہر کرنے کے لیے ایک جعلی ایپ کا استعمال کیا، اور متاثرہ خاتون کو مزید سرمایہ لگانے کا لالچ دیا۔

جعلسازوں نے انتہائی ہوشیاری سے مینو رانی کے اعتماد اور مالی خواہشات کا استحصال کیا، جس کی وجہ سے وہ سرمایہ کاری میں ممکنہ خطرات کو نظر انداز کرتی گئی۔

مینو رانی نے اس سرمایہ کاری سکیم پر یقین کرتے ہوئے اپنے شوہر، ساس اور دیگر رشتہ داروں سے سکیم میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے پیسے لیے۔

مینو رانی کو اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا احساس اس وقت ہوا جب اس نے سرمایہ کاری مزید بڑھانے کے لیے ایک جاننے والے سے قرض کے لیے رابطہ کیا، جس نے اسے دھوکہ دہی والی سکیم کے بارے میں خبردار کیا۔ جب اس نے اپنی رقم واپس لینے کے لیے جعلسازوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے تمام رابطے منقطع کر دیے۔

پولیس کے مطابق رانی کے معاملے میں یہ آن لائن فراڈ اس وقت سامنے آیا جب اس نے سرمایہ کاری کے لیے اپنے عزیزوں سے اضافی رقم قرض مانگی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مینو رانی نے زیادہ منافع کے لالچ میں اس سکیم میں 51 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ جبکہ سائبر کرائم پولیس نے اس معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کی سرمایہ کاری کی گئی کل رقم میں سے 4,80,000 روپے کو فریز کر لیا ہے جبکہ باقی رقم کی ریکوری کی کوشش جاری ہے۔

انڈیا میں آن لائن فراڈ کا بڑھتا رجحانGetty Imagesآن لائن جعلساز اکثر سوشل میڈیا یا میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح کے فراڈ دلی سمیت ملک کے یگر شہروں میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں

انڈیا میں آن لائن مالیاتی فراڈکا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ، ایسا لگتا ہے کہ دھوکہ باز لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے نئے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں، جعلسازوں نے متاثرہ خاتون کو ایمازون کا ایک مفت واؤچر دیا تاکہ اس کا اعتماد جیت سکیں اور اسے اپنی 'جعلی' ایپ میں پیسہ لگانے کے لیے پھانسہ جا سکے جو کہ شاید لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے بنائی گئی ایک فشنگ ایپ تھی۔

آن لائن جعلساز اکثر سوشل میڈیا یا میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح کے فراڈ دلی سمیت ملک کے یگر شہروں میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ متاثرین کو جعلی ایپس اور دھوکہ دہی والے مشیروں کے ذریعے گمراہ کیا جاتا ہے۔

سائبر کرائم یونٹ دلی پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر فیک شاپنگ ویب سائٹ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'یہ نسبتاً نیا طریقہ کار ہے جسے سائبر فراڈ کرنے والوں نے لوگوں کو آن لائن دھوکہ دینے کے لیے اپنایا ہے۔ اس سائبر فراڈ کی کئی قسمیں ہیں۔'

سائبر کرائم یونٹ کے مطابقآن لائن فراڈ کی ایک قسم میںدھوکہ باز کسی معروف برانڈ یا یہاں تک کہ کسی موبائل فون کمپنی وغیرہ کی حقیقی نظر آنے والی ویب سائٹ بناتے ہیں اور سستی مصنوعات پیش کرتے ہیں۔ وہ صارفین کو آن لائن ادائیگی کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور ایک بار ادائیگی ہوجانے کے بعد، صارف کو کبھی بھی آرڈر شدہ پروڈکٹ نہیں ملتا ہے۔

دوسری قسم وہ ہے جس میں دھوکہ باز کسی دوسری کمپنی یا ویب سائٹ کی نقل نہیں کرتے بلکہ ایک نئی ویب سائٹ بناتے ہیں جس پر مصنوعات بہت سستے داموں فروخت ہوتی ہیں۔ مگر اس میں بھی صارفیں کو آرڈر شدہ پروڈکٹ کبھی نہیں ملتا۔'

جبکہ ایمازون سمیت دیگر بڑی آن لائن کمپنیوں نے بھی اپنے پلیٹ فارمز پر صارفین کو آن لائن فراڈ سے آگاہی دینے کے لیے انتباہی پیغامات شائع کر رکھے ہیں۔

ایمازون نے اپنی ویب سائٹ پر گفٹ واؤچرز کے ذریعےفراڈ کے بارے میں پہلے ہی انتباہی پیغام شائع کر رکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'مختلف قسم کی دھوکہ دہی پر مبنی سکیمیں آن لائن موجود ہیں، جہاں لوگوں سے ای میل، فون یا ٹیکسٹ کے ذریعے ادائیگی یا اکاؤنٹ کی تفصیلات یا او ٹی پی کے ذریعے سرمایہ کاری کا منافع دوگنا کرنے والی سکیموں میں حصہ لینے کو کہا جاتا ہے۔ فراڈ کرنے والے دھوکے کے لیے بہت سے طریقے استعمال کرتے ہیں، بشمول ادائیگی کے لیے معروف برانڈز سے گفٹ کارڈز کی درخواست کرنا۔ جبکہ ایمازون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ کی دلچسپی کے تحفظ کے لیے بہترین پروڈکٹ کنٹرولز کو لاگو کیا جائے، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ آپ ان فراڈ سکیموں سے واقف ہوں جو ایمازون پر گفٹ واؤچرز کے ذریعے ادائیگی کی درخواست کر سکتے ہیں اور اگر آپ کو کسی ممکنہ فراڈ یا جعلسازی کا سامنا ہو تو ہوشیاری سے کام لیں۔'

آن لائن کمائی اور سرمایہ کاری کا جھانسہ: پڑھے لکھے پاکستانی نوجوان فراڈ کا شکار کیسے ہو رہے ہیں؟آن لائن فراڈ میں ڈیڑھ کروڑ روپے گنوانے والی خاتون: ’میں ہر وقت خوف میں رہتی ہوں، ان کے پاس میری تمام تفصیلات ہیں‘آن لائن فراڈ کا اگلا نشانہ کہیں آپ تو نہیں!’آپ چاہتی ہیں ریپ کا پرچہ نہ ہو تو پیسوں کا بندوبست کریں‘: فراڈ جو پاکستانیوں کو جمع پونجی سے محروم کر رہا ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More