Getty Imagesوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پہلے پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب میں کہا کہ ڈیجیٹیل بینکنگ فروغ پا رہی ہے اور کرپٹو کرنسی کا غیر رسمی مارکیٹوںمیں استعمال ہو رہا ہے
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت تو حاصل نہیں لیکن حکومت ڈیجیٹل کرنسی میں اب کافی دلچسپی لیتی ہوئی نظر آ رہی ہے جس کا ثبوت ملک میں کرپٹو کونسل کا قیام ہے۔
حکومت کی جانب سے کرپٹو کونسل بنانے کا مقصد کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے تجاویز اوران پر غور وفکر کے لیے کرپٹو ٹریڈ کی بلاک چین ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے ویب تھری شعبے کے مشیر اور انویسٹر بلال بن ثاقب کو پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے۔
گزشتہ دس دن میں پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے شعبے میں بہت تیزی سے ہونے والی پیشرفت ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہی ہے، جب پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا کاروبار تو ہو رہا ہے لیکن اسے کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے چیف ایڈوائزر بلال بن ثاقب نے اپنی تقرری کے بعد کہا کہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو تیزی سے کرپٹو کرنسی کو اپنا رہے ہیں اور جہاں اس شعبے میں مزید جدت لانے کی گُنجائش بھی باقی ہے۔
انھوں نے کرپٹو کونسل کے قیام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ اس کونسل کا مقصد ایک متوازن فریم ورک بنانا ہے جو اس شعبے میں پاکستان کو ترقی دے سکے۔
اس سے قبل پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ مہینے کراچی میں پہلے پاکستان بینکنگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ڈیجیٹیل بینکنگ فروغ پا رہی ہے اور کرپٹو کرنسی کا غیر رسمی مارکیٹوںمیں استعمال ہو رہا ہے۔
انھوں نے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ کرپٹو کرنسی کے شعبے کو کھلے ذہن سے دیکھے اور کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک کی ضرورت پر غور کرے۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کی تقریر کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سےکرپٹو کونسل کے قیام کی جانب کام کرنے کے لیے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کونسل کا قیام کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس سے کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر کیا اثر پڑے گا اس سلسلے میں بی بی سی اردو نے کرپٹو کرنسی کے شعبے سے منسلک افراد سے بات چیت کی ہے۔
ان کے مطابق کرپٹو کرنسیکے کاروبار کے ریگولیٹری فریم ورک نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے کے ذریعے غیر قانونی کاموں کے لیے ادائیگی ہو رہی ہے۔
کرپٹو کونسل کے قیام کا مقصد
حکومت کی جانب سے کرپٹو کونسل کے قیام کے اعلان اور اس کے مقصد کے بارے میں بلال بن ثاقب نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس کونسل کے قیام کا مقصد ایک خصوصی ایڈوائزری باڈی کو تشکیل دینا ہے جو پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے لیے جامع پالیسی اور قواعد و ضوابط بنائے۔
انھوں نے کہا کہ کونسل پاکستان میں کرپٹو سے متعلق بے یقینی کی صورتحال کو دیکھے گی تاکہ پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ڈیجیٹیلائزیشن، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغاور نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
ایک بٹ کوائن کی قیمت 69 ہزار ڈالر سے زیادہ: بٹ کوائن کیا ہے اور یہ ڈیجیٹل کرنسی کیسے کام کرتی ہے؟’کرپٹو کی دنیا کو ہلا دینے والا‘ اربوں ڈالر کا فراڈ جس میں ایک ملک کے صدر بھی ملوث ہیںکرپٹو کرنسی اور مصنوعی ذہانت سمیت سال 2025 میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں کیا کچھ ہو گا؟وہ پانچ کرپٹو کرنسیاں جنھیں ٹرمپ ’امریکی ڈیجیٹل ذخیرے‘ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کونسل کے ذریعے پاکستان کو بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈیجیٹیل معیشت سے جوڑا جائے گا اور اس کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کی گائیڈ لائنز پر بھی اس کے ذریعے عمل کیا جائے گا۔
کرنسی کے شعبے سے منسلک اور ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ نے اس سلسلے میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس کونسل کے ذریعے یہ دیکھا جائے کہ کیا کرپٹو کرنسی کا کاروبار پاکستان میں قابل عمل ہے، اس پر تجاویز دی جائیں گی اور پھر قانون سازی کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’ابھی پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں لیکن اس میں بہت زیادہ دلچسپی ہے کیونکہ اس میں لوگوں کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ گرے مارکیٹ کا بزنس بھی اس کے ذریعے ہی ہو رہا ہے جیسے پیسے کی منتقلی، اسلحے کی خریداری اور دوسرے غیر قانونی کام۔‘
کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام ضرورت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ’پاکستان کی ڈیجیٹیل اثاثہ جات مارکیٹ، جس سے دس لاکھ سے زائد پاکستانی منسلک ہیں، بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے تاہم پاکستان میں ابھی تک اس پر قانون کا واضح نہیں۔
’ایک واضح اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر پاکستان میں ڈیجیٹیل فناننس کے شبعے کی ترقی کا سفر رک سکتا ہے اور مقامی اور بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں اس شعبے میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوں گے۔ ریگولیٹری فریم ورک کے بغیر اس میں شعبے میں جو کام ہو رہا ہے اس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں نقصان ہو رہا ہے۔‘
دوسری جانب ظفر پراچہ بھی پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی اہمیت پر تو زور دیتے ہیں تاہم ان کے مطابق ’اس کے لیے کرپٹو کرنسی کونسل کی ضرورت نہیں بلکہ یہ کام سٹیٹ بینک آف پاکستان بہتر انداز میں کر سکتا ہے جو کرنسی کے شعبے میں مہارت اور تجربے کا حامل ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر کونسل کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ اس میں بیورو کریسی کا عمل دخل ہو گا اور پاکستان میں عمومی طور پر حکومتی سطح پر کونسل اور کمیٹیوں کا قیام کام میں تاخیر کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
Getty Imagesبلال ثاقب کہتے ہیں کہ ایک بہترین ریگولیٹری فریم ورک پاکستان میں ڈیجیٹیل اثاثوں کے شعبے میں غیر ملک سرمایہ کاری کو لا سکتا ہےکرپٹو کونسل کے قیام سے ملک کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بلال ثاقب کہتے ہیں کہ ایک بہترین ریگولیٹری فریم ورک پاکستان میں ڈیجیٹیل اثاثوں کے شعبے میں غیر ملک سرمایہ کاری کو لا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’دبئی میں پراپرٹی ٹوکنائزیشن (بلاک چین رئیل اسٹیٹ) میں ایک ارب ڈالر اور ہانگ کانگ میں چھ ارب ڈالر کی ٹوکنائزڈ گرین بانڈ ظاہر کرتی ہے کہ واضح ریگولیٹری فریم ورک کیسے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔‘
وزیر خزانہ کے چیف ایڈوائزر کا مزید کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں کرپٹو کرنسی میں صرف ایک سال جولائی 2023 سے جون 2024 میں تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی اور اسے قانونی حیثیت دینے سے پاکستان کو ریونیو حاصل ہوگا اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو گا۔
’اسی طرح یہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع بھی پیدا کرے گی کیونکہ ایک قانونی فریم ورک کے بعد اس میں نئی کمپنیاں داخل ہو پائیں گی۔‘
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ بھی بلال ثاقب سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان کے مطابق ’جب کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاروںکو ایکضمانت حاصل ہو گی بالکل ویسے ہی جیسے اس وقت پاکستان میں مقامی کرنسی کو حکومت کی ضمانت حاصل ہے یا پھر بین الاقوامی سطح پر مختلف کرنسیوں کو ان کی حکومت کی جانب سے گارنٹی دی جاتی ہے۔‘
’بغیر ضمانت کے سرمایہ کاری مشکل ہو گی کیونکہ ڈیجیٹل اثاثوں کی گیم میں چوری اور ہیکنگ کا بھی خدشہ رہتا ہے۔‘
پاکستان میں کرپٹو کے کاروبار سے کتنے افراد منسلک ہیں؟
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو فی الحال قانونی حیثیت حاصل نہیں تاہم اس کے باوجود لوگ اس کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خزانہ نے گزشتہ مہینے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹو کے شعبے میں غیر رسمی طور پر کام ہو رہا ہے۔
بلال ثاقب نے اس سلسلے میں بتایا کہ اندازے کے مطابق تقریباً دو کروڑ پاکستانی کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کے پاس کرپٹو کرنسی موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ مالی سال 21-2020 میں پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئی تھیں۔
ظفر پراچہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی اس شعبے سے کئی سال پہلے جڑ چکے تھے ’جب یہ کرنسی صرف ایک ڈالر کی ہوا کرتی تھی۔‘
کرپٹو کرنسی کے شوقین افراد جو نئے ملک بنانا چاہتے ہیںوہ کرپٹو ایپ جس سے ہزاروں افراد اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھےکرپٹو کرنسیجس کی مائینگ سکول کے نیچے زیر زمینڈرینیج کی جگہ کی گئی دو ’ڈیجیٹل سکے‘ جن سے ٹرمپ اور میلانیا کی دولت میں راتوں رات اربوں ڈالر کا اضافہ ہواوہ پانچ کرپٹو کرنسیاں جنھیں ٹرمپ ’امریکی ڈیجیٹل ذخیرے‘ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں