بیٹسی ولیئم اپنا پیشاب کو ضائع نہیں کرتیں۔ گذشتہ 12 سال سے امریکہ کی ریاست ورمونٹ کے اس دیہی علاقے میں مقامی افراد بہت احتیاط سے اپنا، اپنا پیشاب اکھٹا کرتے ہیں اور پھر کسانوں کو دے دیتے ہیں۔
لیکن ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے؟ انسانوں کا یہ پیشاب کسان کھاد کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ قدیم روم اور چین میں یہ رواج پہلے موجود ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب امریکہ کی اس ریاست میں اسے دوبارہ سے اپنایا جا رہا ہے۔
بیٹسی اسے بُرا نہیں سمجھتیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ ’ہم غذائیت سے بھرپور خوراک کھاتے ہیں اور ان میں سے بہت سے اجزا ہمارے جسم سے خارج ہو کر نئی خوراک کی تیاری میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ منطقی سی بات ہے۔‘
وہ ایک غیر سرکاری تنظیم ’رچ ارتھ انسٹیٹیوٹ‘ کے ’یورین نیوٹرینٹ ریکلیمیشن‘ پروگرام کا حصہ ہیں جس کے تحت ڈھائی سو مقامی افراد سالانہ 12 ہزار گیلن پیشاب، جو 45 ہزار لیٹر سے زیادہ بنتا ہے، ری سائیکل کرتے ہیں۔
پہلے ایک گاڑی اسے وصول کرتی ہے اور پھر ایک بڑے ٹینک میں اسی ڈگری درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک پیسچیرائزڈ ٹینک میں اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے تاکہ جب بھی کھاد کی ضرورت ہو، اس کا سپرے کر لیا جائے۔
پیشاب کا بطور کھاد استعمال
ریکارڈ سے علم ہوتا ہے کہ قدیم روم اور چین میں فصلوں کو اگانے کے عمل میں پیشاب کو استعمال کیا جاتا تھا۔
لیکن آج سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے فصل کی پیداوار دگنی کی جا سکتی ہے خصوصا پالک جیسی فصل۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں کے مطابق کم زرخیز زمین میں بھی اس طریقے سے پیداوار بہتر ہو سکتی ہے۔
پیشاب میں موجود نائیٹروجن اور فاسفورس اس کی بطور کھاد افادیت بڑھاتے ہیں اور یہی اجزا دیگر کھاد کی تیاری میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم نائٹروجن اور فاسفورس زہریلے اثرات بھی مرتب کرتی ہیں۔ لیکن بیٹسی کے مطابق اگر پیشاب کا اسعتمال کیا جائے تو یہ اثرات نہیں ہوتے اور ’یہ تو مفت دستیاب ہے۔‘
مشیگن یونیورسٹی کی پروفیسر نینسی لوو، جو اس پروگرام پر تحقیق کر چکی ہیں، نے جانا کہ پیشاب کے بطور کھاد استعمال سے روایتی کھاد کے مقابلے میں مضر گیسوں کا کم اخراج ہوتا ہے اور پانی کی ضرورت بھی نصف رہ جاتی ہے۔ یو این آر پی کا تخمینہ ہے کہ 2012 سے اب تک اس طریقے کی وجہ سے 27 لاکھ گیلن پانی بچایا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم پیشاب کو پتلا کرتے ہیں، اسے ایک پائپ کی مدد سے ٹریٹمنٹ پلانٹ پہنچاتے ہیں جہاں اس کی توانائی میں اضافہ کیا جاتا ہے اور پھر اسے اسی ماحول میں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔‘
عام طور پر پیشاب اسی نظام کا حصہ بن جاتا ہے جہاں پانی موجود ہوتا ہے اور جب یہ دریا یا کسی اور ایسے مقام پر پہنچتا ہے تو ایلجی کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے پانی کی گزرگاہیں بند ہو جاتی ہیں جو نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔
اس پروگرام کو چلانے والی تنظیم، آر ای آئی، کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جمینا شپیک کا کہنا ہے کہ ’ہمارا جسم بہت سے اجزا بناتا ہے اور یہ اجزا ضائع ہی نہیں ہوتے بلکہ بہت سے مسائل کا سبب بنتے ہیں۔‘
فوج اور پنجاب حکومت چولستان کی بنجر زمینوں کو قابل کاشت کیوں بنانا چاہتے ہیں؟وہ شہر جہاں بکری کا فضلہ ڈالروں میں فروخت ہو رہا ہے’ایک ایکڑ سے لاکھوں میں آمدن‘: وہ پڑھے لکھے نوجوان جو نوکری چھوڑ کر کارپوریٹ فارمنگ کا رُخ کر رہے ہیںگُردے کو کتنا نقصان پہنچ چکا ہے یہ پیشاب کی رنگت سے کیسے معلوم کیا جائے؟
’اور یہی اجزا فصلوں کے لیے خوراک کا کام کر سکتے ہیں۔ آپ جہاں بھی نائٹروجن پھینکیں گے، فصل بڑھے گی۔ تو اگر یہ پانی میں ہو، تو ایلجی بڑھے گی۔ لیکن اگر یہ زمین پر ہو تو فصل اچھی ہو گی۔‘
اس پروگرام کے تحت سپرے ایسے وقت میں کیا جاتا ہے جب پودہ نشو و نما کے بہترین وقت میں ہوتا ہے، یعنی پھل دینے سے پہلے، تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ اس کے علاوہ زمین میں نمی کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ پیشاب مکمل طور پر جزب ہو جائے۔
مشکلات
تاہم دیگر مشکلات بھی ہیں جیسا کہ ٹرانسپورٹ۔ اس وقت دس میل سے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا لیکن اگر اس پروگرام کو وسعت دینی ہو گی تو پھر فاصلے بڑھیں گے۔ اس کے لیے ایسا نظام تیار کیا جا رہا ہے جو پیشاب کو جما سکے اور وزن بھی کم کر سکے۔
ایک اور مسئلہ پلمبنگ کا ہے کیوں کہ روایتی فلش کا نظام اس کام میں کارآمد نہیں۔ لوو کا کہنا ہے کہ ’حل موجود ہیں لیکن ان پر کام ہو رہا ہے۔‘ ان کا ماننا ہے کہ ’نئی عمارات میں جدید فلش نظام لگانا چاہیے جس سے پیشاب اکھٹا کرنا آسان ہو سکے۔‘
اس نظام کا مقصد یہ ہو گا کہ پیشاب کا عطیہ دینا بہت آسان ہو جائے۔ ولیئم تو اپنے ساتھ بڑی بوتلیں رکھتی ہیں جو ہر وقت ان کی گاڑی میں موجود رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں کسی بھی جگہ ان کے بغیر نہیں جاتی۔‘ حال ہی میں ان کے گھر میں ایسا فلش نظام لگایا گیا جو پیشاب کو دیگر فضلے سے علیحدہ کر دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس کام کو آسان بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔‘
پیشاب اور ادویات
بہت سے لوگوں کو پیشاب میں موجود ایسے اجزا پر تحفظات ہیں جن کا ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آر ای آئی نے یہ تحقیق کی کہ پیشاب میں کیفین اور درد کش ادویات میں استعمال ہونے والی اسیٹامینوفین کی مقدار کتنی ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج ابھی جاری ہونا ہیں تاہم ابتدائی نتائج کے مطابق یہ مقدار بہت کم ہے۔ شپیک کا کہنا ہے کہ ’ایک کپ کافی میں موجود کیفین کی مقدار حاصل کرنے کے لیے آپ کو سلاد کا پتہ ہر دن بہت عرصے تک کھانا ہو گا۔‘
بیٹسی کا ماننا ہے کہ ’یہ پورا معاملہ رویوں کی تبدیلی سے جڑا ہے۔ لوگ نہیں سوچتے کہ پیشاب کہاں جاتا ہے۔ یہ ایک نیا محاذ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں صرف اپنا کام کرنا ہے، کم از کم اپنے جسم کے فضلے کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔‘
فوج اور پنجاب حکومت چولستان کی بنجر زمینوں کو قابل کاشت کیوں بنانا چاہتے ہیں؟’ایک ایکڑ سے لاکھوں میں آمدن‘: وہ پڑھے لکھے نوجوان جو نوکری چھوڑ کر کارپوریٹ فارمنگ کا رُخ کر رہے ہیںوہ شہر جہاں بکری کا فضلہ ڈالروں میں فروخت ہو رہا ہےپیشاب کا رنگ آپ کی صحت کے بارے میں کیا بتاتا ہے اور آپ کو کب فکر مند ہونا چاہیے؟بیٹھ کر پیشاب کرنا صحت کے لیے کس قدر فائدہ مند ہے؟گُردے کو کتنا نقصان پہنچ چکا ہے یہ پیشاب کی رنگت سے کیسے معلوم کیا جائے؟