ہُدہُد کی خبر سے شیش محل تک: سورج پرست ملکہ سبا کے حضرت سلیمان کے ہاتھ ایمان لانے کا واقعہ اسلام اور دیگر مذاہب میں

بی بی سی اردو  |  Mar 07, 2025

Getty Imagesقرآن سمیت دیگر مذاہب کی کتابوں میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کے واقعے کا تذکرہ ملتا ہے

یہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے لگ بھگ 950 سال پہلے کی بات ہے۔

آج مشرق ِ وسطیٰ کے جس مسلم ملک کو ہم ’یمن‘ کہتے ہیں، اُس کے جنوب مغربی علاقے کو ڈیڑھ صدی سےیہاں آباد ایک دولت مند قوم ’سبا‘ کی نسبت سے ’سبا‘ یا ’سبا کا ملک‘ کہا جاتا تھا۔ قومِ سبا کا زمانہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 115 سال پہلے تک رہا جس کے بعد قوم حمیر نے اُن کی جگہ لے لی۔

آج یمن کا دارالحکومت صنعا ہے مگر جس دور کی ہم بات کر رہے ہیں تب یہ اعزاز قدیمی شہر ’مارِب‘ کو حاصل تھا۔

اسی شہر میں واقع اپنے محل میں جواہرات سے مزین تخت پر براجمان ملکہ ایک خط لیے بیٹھی تھیں جسے مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن میں ’کِتٰبٌ کَرِیمٌ‘ کہا گیا ہے اور جس کا ترجمہ ’گرامی نامہ‘ یا ’معزز مکتوب‘ کیا گیا ہے۔

قرآن کی 27ویں سورۃ ’النمل‘ میں درج ہے کہ ملکہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ’اے اہلِ دربار، ایک گرامی نامہ مجھے موصول ہوا ہے۔‘

’یہ سلیمان کی طرف سے ہےاور یہ اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے ہے۔ اِس میں لکھا ہے کہ تم میرے مقابلے میں سرکشی اختیار نہ کرو اور فرماں بردار ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔‘

قرآن میں حضرت سلیمان کو ناصرف ایک عظیم بادشاہ بلکہ اللہ کے نبی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کے پاس ناصرف مادی طاقت تھی بلکہ وہ پرندوں، جانوروں اور جنّات سے بات بھی کر سکتے تھے۔ (سورہ نمل 27:16-17)

قرآن کے مطابق حضرت سلیمان، بنی اسرائیل کے پیغمبر اور بادشاہ حضرت داؤد کے اِن دونوں حیثیتوں میں وارث تھے۔ فلسطین اور شرق اُردن سے لے کر شام تک پھیلی اپنی سلطنت میں وہ 965 قبل مسیح سے لے کر 926 قبل مسیح تک حکمران رہے۔

عبرانی بائبل کے مطابق حضرت سلیمان کی 40 سالہ حکمرانی کے دوران اسرائیلی شہنشاہیت نے بے شمار شان اور دولت حاصل کی۔ بائبل میں حضرت سلیمان کو ’اسرائیل کا عظیم بادشاہ‘ بتایا گیا ہے جو اپنی دانشمندی کے لیے مشہور تھے۔

سلاطین اول کے باب دہم کی آیت 14میں لکھا ہے کہ ’اور جتنا سونا ایک برس میں سلیمان کے پاس آتا تھا اُس کا وزن سونے کا 666 قِنطار تھا۔‘ لفظ قِنظار کا مفہوم اِس قدر سونا یا چاندی ہے جو ایک بیل کی کھال میں بھرا جا سکے۔

حضرت سلیمان کا ہوا کے دوش پر سفر اور چیونٹی کی باتGetty Imagesقرآن کی سورۃ 'النمل' میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کے واقعے کا تذکرہ موجود ہے

قرآن میں سورۃ سبا کی آیت 12 کے مطابق ’اور ہوا کو سلیمان کے تابع کر دیا تھا جس کی صبح کی منزل مہینے بھر کی راہ اور شام کی منزل مہینے بھر کی راہ تھی (یعنی حضرت سلیمان جب چاہتے صبح کو ایک مہینے کی مسافت اور شام کو ایک مہینے کی مسافت کے برابر سفر کر لیتے تھے) اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا، اور کچھ جِن اس کے آگے اس کے رب کے حکم سے کام کیا کرتے تھے، اور جو کوئی اُن میں سے ہمارے حکم سے پھر جاتا تھا تو ہم اسے آگ کا عذاب چکھاتے تھے۔‘

قرآن اور بنی اسرائیل کی روایات سے پتا چلتا ہے کہ دوسری بہت سی قوتوں کے ساتھ ساتھ حضرت سلیمان کے پاس پرندوں سمیت جانداروں کی بولیوں کا بھی خاص علم تھا۔

سورہ نمل، جس کا نام اس میں شامل چیونٹی کے واقعے کی مناسبت سے ہے، میں لکھا ہے کہ ’جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں سلیمان اور اُس کے لشکر تمھیں کچل نہ ڈالیں اور اُنھیں اِس کا احساس بھی نہ ہو۔(سلیمان نے جب یہ سُنا) تو اُس کی بات سے خوش ہو کر وہ مسکرایا اور بولا: اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے فضل کا شکر گزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر فرمایا ہے اور ایسے اچھے کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے،تو مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل کر لے۔‘

قرآن کے مطابق ملکہ سبا کی خبر حضرت سلیمان کے لیے سبا کے مُلک سے ایک ہُدہُد (پرندہ) لایا تھا۔ لیکن بائبل (عہدِ قدیم: 1-سلاطین 10:1-13 اور 2-تواریخ 9:1-12)اور یہودی مذہبی کتب جیسا کہ ’تلمود‘ میں اس پرندے کا ذکر موجود نہیں۔

سورہ نمل میں ہُدہُد کا بیان ہے کہ ’ایک عورت اُن پر حکمرانی کر رہی ہے، اُسے ہر طرح کا سازوسامان میسر ہے اور اُس کا بہت بڑا تخت بھی ہے۔ میں نے اُس کو اور اُس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔‘

قرآن کے مطابق یہی خبر سُن کر ہُدہُد ہی کے ذریعے حضرت سلیمان نے ملکہ کو وہ خط بھیجا جس پر وہ اپنے دربار میں مشاورت کر رہی تھیں اور جس کا ذکر اس رپورٹ کی ابتدا میں ہے۔

سورہ نمل کے مطابق ’ملکہ نے کہا: اے اہل دربار، اِس معاملے میں مجھے رائے دو۔ میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کرتی، جب تک تم لوگ میرے حضور میں موجود نہ ہو۔‘

درباریوں کے یہ کہنے پر کہ اگر حکم ہو تو وہ جنگ کے لیے تیار ہیں، ملکہ نے اپنا ایک سفیر تحائف کے ساتھ حضرت سلیمان کے پاس بھیجا کہ شاید 'فرماں برداری' سے کم میں معاملہ طے پا سکے۔

قرآن میں لکھا ہے کہ ’پھر جب ملکہ کی سفارت سلیمان کے پاس پہنچی تو (اُن کے ہدیے کو دیکھ کر) سلیمان نے کہا: کیا تم لوگ مجھے یہ مال پیش کرناچاہتے ہو! سو جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اِس سے کہیں بہتر ہے جو اُس نے تمھیں دیا ہے۔ نہیں، بلکہ یہ تمھی لوگ ہو کہ اپنے ہدیوں سے خوش ہوتے ہو۔‘

یہ کہہ کر سفیر کو لوٹاتے ہوئے حضرت سلیمان نے لشکر کشی کی دھمکی دی۔

’پلک جھپکنے سے پہلے ملکہ کاتخت لایا گیا‘Getty Images1705 میں حضرت سلیمان کے محل کا بنایا گیا تصویری خاکہ

سورہ نمل میں ہے کہ ’(سلیمان کو اندازہ تھا کہ اب وہ آ ہی جائیں گے۔ چنانچہ) اُس نے کہا: اے اہلِ دربار، تم میں سے کون اُس کا تخت میرے پاس لاتا ہے، اِس سے پہلے کہ وہ لوگ مطیع و فرماں بردار ہو کر میرے پاس حاضر ہو جائیں؟‘

’جنوں میں سے ایک دیو نے عرض کیا: میں اُس کو آپ کے پاس آپ کی اِس مجلس سے آپ کے اٹھنے سے پہلے حاضر کر دوں گا۔ میں اِس پر قدرت رکھتا ہوں اور امانتدار بھی ہوں۔‘

’ایک شخص (مفسرین میں سے بعضانھیں ’آصف بن برخیا‘ قرار دیتے ہیں) جس کے پاس قانون خداوندی کا علم تھا، (اِس پر جوش میں آ گیا اور) اُس نے کہا: میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اُس کو آپ کے پاس لائے دیتا ہوں۔ پھر جب سلیمان نے اُس کو اپنے سامنے رکھا ہوا دیکھا تو پکار اٹھا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے۔‘

’سلیمان نے حکم دیا کہ اُس کو جانچنے کے لیے اُس کے تخت کی صورت بدل دو، دیکھیں وہ پہچانتی ہے یا اُنھی لوگوں میں سے ہو کے رہ جاتی ہے جو (اِس تبدیلی کے بعد اُسے) پہچان نہ پائیں۔‘

ملکہ نے حضرت سلیمان سے براہ راست ملنے کے لیے سبا کے دارالحکومت مارب سے یروشلم تک تقریباً ڈیڑھ ہزار میل کا سفر طے کیا۔

ملکہ کی اطاعتGetty Imagesملکہ سبا کے حضرت سلیمان کے محل میں پیش ہونے کا تصویری خاکہ جو 1720 میں بنایا گیا

سورہ نمل کی آیات ہیں کہ ’سو جب وہ آ گئی تو پوچھا گیا: کیا تمھارا تخت ایسا ہی ہے؟ اُس نے کہا: گویا کہ وہی ہے۔ آپ کے یہ کمالات ہم اِس سے پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سر اطاعت میں جھکا دیا تھا۔‘

’اُسے کہا گیا کہ اب محل میں داخل ہو جائیے۔ پھر جب اُس نے محل (کے فرش) کو دیکھا تو سمجھی کہ گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیوں سے پائنچے اٹھا لیے۔ سلیمان نے کہا: یہ تو شیشوں سے بنا ہوا محل ہے۔ (اِس پر) وہ پکار اٹھی: میرے پروردگار، میں اپنی جان پرظلم کرتی رہی ہوں۔ (سو لوٹتی ہوں) اور سلیمان کے ساتھ ہو کر اب میں نے اپنے آپ کو اللہ رب العٰلمین کے حوالے کر دیا ہے۔‘

کتاب سلاطین اول 10:10 کے مطابق ملکہ سلیمان سے ملنے گئیں اور انھیں 120 قنطار سونا اور مصالح(مسالے) کا بُہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہِر دِیے اور جَیسے مصالِح (مسالے) سبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بُہتات کے ساتھ نہ آئے۔

حضرت سلیمان اور سبا کی ملکہ کا یہ قصہ یہودی ربیوں کی روایات میں بھی کم و بیش اِنھی تفصیلات کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ملکہ کا تخت منگوانے کا واقعہ البتہ صرف قرآن میں ہے۔

بائبل (سلاطین اول) کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان نے اِس کے بعد ملکہ کو معزول نہیں کیا بلکہ ملازموں سمیت واپس جانے کی اجازت دے دی۔

یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟عبدالمطلب کی دعا، ابابیل کا حملہ اور ’عذاب کا مقام‘: کعبہ پر ابرہہ کی لشکر کشی کا قصہجب حجر اسود 22 سال کے لیے کعبہ سے اکھاڑ لیا گیا’بکتاشی‘ صوفی سلسلہ جو البانیہ میں ’ویٹیکن کی طرز پر نئی اسلامی ریاست‘ قائم کرنا چاہتا ہے

’عہدِ عتیق‘ میں کہا گیا ہے کہ ملکہ سبا حضرت سلیمان کے پاس آئیں اور ان سے مختلف سوالات کرنے لگیں جن کا حضرت سلیمان نے مناسب جواب دیا۔ اس کے علاوہ خوبصورت محل، شاہانہ خوراک، شاندار دربار اور عظیم مقامات، خدمت کاروں کی منظم خدمت کو دیکھ کر وہ مبہوت رہ گئیں۔

’آخر کار ملکہ سبا نے حضرت سلیمان اور اُن کے خدا کی حمد و ثنا کی اور دونوں طرف سے ایک دوسرے کو گراں بہا تحفے تحائف دیے گئے اور ملکہ سبا اپنے ملک کی طرف واپس پلٹ گئیں۔‘

’عہد جدید‘ میں بھی ملکہ سبا کا ذکر اِسی طور سے ہوا ہے۔

چھٹی صدی ہجری کے مصنف اِبن‌ عَساکِر ( تاریخ مدینۃ دمشق) کے مطابق ملکہ نے یمن پر حضرت سلیمان سے ملنے سے پہلے نو سال اور ملنے کے بعد چار سال حکومت کی۔

Getty Imagesملکہ سبا کی حضرت سلیمان کے محل کی جانب روانگی کا تصوراتی خاکہ جو 1648 میں بنایا گیاملکہ سبا کون تھیں اور کہاں سے آئی تھیں؟

’یوسیفوس‘ کی تاریخ میں ہے کہ وہ مصر و حبشہ کی ملکہ تھیں اور اہل حبش اُن کو حبشی نژاد سمجھتے اور شاہان حبش یہ کہتے ہیں کہ وہ ملکہ سبا کی نسل سے ہیں۔

مگر اہل ِتحقیق ’یوسیفوس‘ کی روایت کو غلط کہتے ہیں اور یہ کہ یہ دونوں حصے یمن ہی کی حکومت کے حصے تھے اور انجیل کے بیان کو زیادہ صحیح مانتے ہیں۔ اور اسی لیے صنعا سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ملکہ کے محل کے بعض ستون اب بھی موجود ہیں۔

یمنی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر یوسف عبدالله نے 20ویں صدی میں یمن میں مارب کے مقام پر کچھ کھنڈرات دریافت کیے تھے جنھیں انھوں نے ملکہ سبا کے دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔

ملکہ سبا نے ترکی، فارسیاور یورپی فن مصوری اور موسیقی کو متاثر کیا۔ سنہ 1959 کی ہالی وڈ فلم ’سولومن اینڈ شیبا‘ میں بھی اُن کا کردار پیش کیا گیا جس میں اداکار یُل برائنر نے سلیمان اور اداکارہ جینا لولو بریجیڈا نے ملکہ سبا کا کردار ادا کیا تھا۔ اس ملاقات کا ذکر پہلی صدی عیسوی کے رومی یہودی مؤرخ فلاویس جوسیفس نے بھی دلکش انداز میں کیا ہے۔

قرآن میں ملکہ کا نام نہیں بتایا گیا اور قدیم و جدید علوم کے عالم ابوالکلام آزاد کے مطابق ملکہ کا نام عہد نامہ قدیم (تورات) میں بھی نہیں بتایا گیا۔ قرآن کی طرح تورات میں بھی انھیں صرف سبا کی ملکہ کہا گیا ہے۔ اور وہ جو ’بلقیس‘ (یونانی زبان میں پلاکیس) نام چلا وہ تب سے ہے جب تورات کا یونانی زبان میں ترجمہ ہوا۔ یہ اضافہ مترجم کا ہے مگر پھر یہ عربی، فارسی اور اُردو زبانوں میں رواج پا گیا۔

Getty Imagesیمن میں دریافت ہونے والے کھنڈرات کی 18 اپریل 1952 کو لی گئی تصویر۔ ان کھنڈرات کو ملکہ سبا کے محل سے منسوب کیا جاتا ہے

مالک رام کی ترتیب دی گئی کتاب ’خطوطِ ابوالکلام آزاد‘ کے ایک خط میں لکھا ہے کہ جب تورات کا یونانی زبان میں ترجمہ ہوا تو مترجم نے ملکہ سبا کے حضرت سلیمان کے سامنے پیش ہونے اور ان سے گفتگو کے انداز سے خیال کیا کہ ان کا یہ رویہ ایک ملکہ کے شایانِ شان نہیں بلکہ کسی آبرو باختہ اور بازاری عورت کا سا تھا۔

’لہٰذا اس نے ان کے لیے یونانی لفظ 'پلاکیس' استعمال کیا جس کے لغوی معنی ’قحبہ یا فاحشہ عورت‘ کے ہیں۔‘

’جب اس یونانی لفظ کا عربی میں ترجمہ ہوا تو عربی مترجم نے خیال کیا کہ یہ ملکہ کا نام تھا یعنی اسم معرفہ۔ چونکہ حرف ’پ‘ عربی میں نہیں ہے اس نے اسے ’بلقیس‘ بنا دیا۔ بس پھر کیا تھا تمام عربی مفسروں نے (اور اُن کی تقلید میں فارسی اور اُردو والوں نے بھی ) یہ نام لے لیا اور آج ہم بے دھڑک اپنی لڑکیوں کا نام ’بلقیس‘ رکھ لیتے ہیں۔‘

’دی اِن فارگیٹیبل کوئینز آف اسلام: سکسیشن، اتھارٹی، جینڈر‘ کی مصنف شہلا حائری کے مطابق یہودی اور قرونِ وسطیٰ کے مسلم ذرائع نے ملکہ سبا کو بدنام کرنے کے لیے اُن کے بلند مرتبہ ملکہ کے رتبے کو گھٹا کر لونڈی، یعنی ایک جنسی شے، ایک بلقیس میں تبدیل کر دیا۔ مگر عوامی سطح پر اور مختلف ثقافتوں میں وہ اب بھی ناقابلِ فراموش ملکہ سبا کے طور پر جانی جاتی ہیں۔‘

پرنسٹن یونیورسٹی کی محقق جیلیان سٹنچکومب کہتی ہیں کہ ’اس شخصیت کے گرد کئی نمایاں خاموشیاں ہیں۔۔۔ جس کی بدولت مفسرین اور تشریح کرنے والوں کو اپنی تخلیقی سوچ کو پروان چڑھانے کی گنجائش مل جاتی ہے۔‘

قرآن اور بائبل میں ملکہ سبا کو ذہین، خودمختار، نڈر اور باوقار شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

پہلی صدی عیسوی کے موؤخ فلاویس جوسیفس، جو ’دی اینٹیکوئٹیز آف دی جیووز‘ کے مصنف ہیں، نے ملکہ سبا کے بارے میں لکھا کہ وہ ’فلسفے میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور اسی وجہ سے اور دیگر امور کے سبب بھی قابلِ تحسین تھیں۔‘

جب یہ قصہ ’ترگوم شینی‘، جو کہ ساتویں یا آٹھویں صدی عیسوی کا ایک یہودی متن ہے، میں بیان کیا گیا تو اس میں مزید تفصیلات شامل ہو چکی تھیں۔

قرآن میں ملکہ سبا کے قصے سے سند حاصلکرتے ہوئے قرآن کی نگاہ میں خواتین کی مدیریتیا سربراہی اور معاشرے میں خواتین کا کردار پر مقالے لکھے گئے ہیں۔

شہلا حائری کی تحقیق ہے کہ ملکہ کی جنس اُن کی قیادت اور طرزِ حکمرانی کے لیے غیر متعلقہ ہے؛ قرآن میں ان کے ایمان کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

’لیکن قرونِ وسطیٰ کی تشریحات میں صنفی سیاست مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ ملکہ کی دانش مندی، غیرمعمولی سفارتکاری اور جنگ کو روکنے کے لیے کامیاب کوششیں پدرشاہی مفسرین کے لیے بنیادی مسئلہ نہیں تھیں بلکہ اُن کا اصل مقصد اس ’متکبر‘ – یعنی خودمختار – عورت کے جسم پر اختیار حاصل کرنا تھا، اور شادی کے ذریعے اس کی نقل و حرکت اور جنسیت کو محدود کرنا تھا۔‘

’ان کی قیادت ایک مثالی طرزِ حکمرانی کی مثال ہے، جو جنس سے بالاتر ہو کر بات چیت کو تسلط پر اور امن کو جنگ و تباہی پر ترجیح دیتی ہے۔‘

اگرچہ عبرانی بائبل یا قرآن میں کہیں بھی ملکہ سبا اور حضرت سلیمان کے درمیان کسی جنسی تعلق کا ذکر نہیں مگر بعد کی کئی تخلیقات میں انھیں ایک جوڑے کے طور پر دکھایا گیا۔

’کیبرا نگست‘ جو کہ 14ویں صدی کی ایک ایتھوپیائی مسیحی داستان ہے، ملکہ سبا کو ایتھوپیا کے قیام سے جوڑتی ہے۔ اس متن کے مطابق ’قدیم سبا ایتھوپیا میں واقع تھا اور ملکہ سبا اور حضرت سلیمان کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس نے ایسی شاہی نسل کی بنیاد رکھی جو آخری وارث، ہیلی سلاسی کی 1975 میں وفات تک ایتھوپیا پر حکمرانی کرتی رہی۔‘

سٹنچکومب کے مطابق ’یہ اس بےچینی کا نتیجہ ہے جو ملکہ سبا کی طاقت کے بارے میں محسوس کی جاتی رہی یعنی یہ کہ وہ خود مختار ملکہ نہیں ہو سکتیں۔‘

یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟عبدالمطلب کی دعا، ابابیل کا حملہ اور ’عذاب کا مقام‘: کعبہ پر ابرہہ کی لشکر کشی کا قصہجب حجر اسود 22 سال کے لیے کعبہ سے اکھاڑ لیا گیا’بکتاشی‘ صوفی سلسلہ جو البانیہ میں ’ویٹیکن کی طرز پر نئی اسلامی ریاست‘ قائم کرنا چاہتا ہے’مسلمانوں کا وہ فرقہ‘ جو نماز روزے کے بجائے محنت کو جنت کی کلید کہتا ہے مگر ناقد انھیں ’اسلام سے بھٹکا ہوا گروہ‘ کیوں قرار دیتے ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More