اگست 2021 میں دنیا نے افغانستان سے وہ مناظر دیکھے جب ایک جانب طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہو رہے تھے تو دوسری جانب ایسے لوگ بھی تھے جو ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
لیکن جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے خواہش مند تھے، وہیں چند گنے چنے لوگ ایسے بھی تھے جو ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں جرمنی میں رہائش پذیر مصری صحافی اور فلمساز براہیم نشاط بھی شامل تھے۔
ابراہیم نے افغانستان میں ایک سال تک فلمسازی کے لیے کسی نہ کسی طرح اجازت حاصل کر لی جس میں ان کی مدد افغان ایئر فورس کے نئے کمانڈر مولوی منصور کے ساتھ ساتھ ایک طالبان کمانڈر مختار نے بھی کی۔
تین سال بعد ان کی محنت کا نتیجہ ’ہالی وڈ گیٹ‘ نامی دستاویزی فلم کی شکل میں سامنے آیا ہے جس کا نام اس سابقہ امریکی فوجی اڈے پر رکھا گیا ہے جہاں زیادہ تر مناظر فلمائے گئے۔
لیکن افغانستان کے نئے دور کی کہانی کی تلاش میں ابراہیم نے خود کو اکثر مشکل میں پایا کیوں کہ نئی حکومت اقتدار میں طاقت کے استعمال کی وجہ سے مشہور ہوئی۔
ریکارڈنگ کے دوران ایک بار طالبان کی ایک انجان عسکری شخصیت نے ابراہیم کی موجودگی میں مختار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’وہ چھوٹا شیطان فلم بنا رہا ہے، امید ہے کہ وہ چین کے سامنے ہمیں شرمندہ نہیں کرے گا۔‘
ایک اور موقع پر مولوی منصور نے ابراہیم کے سامنے یہ جملہ ادا کیا کہ ’اگر اس کا ارادہ برا ہے تو یہ جلد مر جائے گا۔‘
جب ابراہیم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت تو مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے اپنے مترجم سے کہا تھا کہ اگر وہ میرے بارے میں کوئی بری بات کریں تو مجھے نہ بتائے کیوں کہ میں پریشان نہیں ہونا چاہتا تھا۔‘
اگرچہ ابراہیم کو متعدد بار ریکارڈنگ روکنے کو کہا گیا، لیکن انھوں نے اتنا مواد اکھٹا کر لیا جس کی مدد سے اس فلم میں افغانستان میں امریکی فوج کی زندگی کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں ورزش کی مشینیں بھی شامل ہیں۔
مولوی منصور نے فلم کے دوران ایک موقع پر کہا کہ ایک مشین ان کے گھر بھجوا دی جائے۔ اس کے علاوہ ایک فریج جس میں شراب موجود ہے بھی دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس فلم میں امریکی فوج کی جانب سے پیچھے چھوڑ دیا جانے والا اسلحہ اور عسکری ساز و سامان بھی شامل ہے جس میں 73طیارے اور 100عسکری گاڑیاں شامل ہیں۔
مولوی منصور اور ان کی ٹیم پہلی بار امریکی اڈے کا جائزہ لینے پہنچے تو ایک طالبان رہنما نے کہا کہ ’انھوں نے اپنے آخری دن یہاں سب کچھ تباہ کرنے میں صرف کر دیے۔‘
امریکی عسکری قیادت نے اس وقت کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ افغانستان میں چھوڑا جانے والا سامان استعمال کے قابل نہ رہے۔ تاہم ابراہیم نے دیکھا کہ چند طیاروں کی مرمت کی جا رہی تھی اور ایک منظر میں حکام مولوی منصور کو یقین دلاتے ہیں کہ کچھ طیارے اب ٹھیک کیے جا چکے ہیں اور انھیں اڑا کر دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکہ کے لیے سوال
ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کتنا سامان چھوڑ دیا گیا۔
’جب میں نے پہلی بار اڈے کے بارے ہالی وڈ گیٹ لکھا ہوا دیکھا تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ یہی نام ہو گا۔ میں نے سوچا کہ میں اس جگہ کے بارے میں فلم بناؤں گا جو امریکہ کے پاس تھی لیکن اب یہاں طالبان ایئر فورس قابض ہے۔‘
’میں نے سوچا تھا کہ اس میں دکھاؤں گا کہ امریکی بستروں میں طالبان سو رہے ہیں لیکن زیادہ تر یہ امریکی اسلحہ کے بارے میں فلم بن گئی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ یہاں یہ سب موجود ہے۔ یہ امریکی حکام کے لیے سوال ہے کہ انھوں نے یہ سب پیچھے کیوں چھوڑ دیا؟ اور کتنے گودام ایسے ہی سامان سے بھرپور ہیں؟ اور فلمنگ کے اختتام تک میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ طالبان اس سب کو ٹھیک کر سکیں گے۔‘
لیکن اگست 2022 میں بگرام فضائی اڈے پر ایک فوجی پریڈ منعقد ہوئی جس میں افغان وزیر اعظم اور وزیر دفاع بھی موجود تھے اور امریکی اسلحہ فاتحانہ انداز میں دکھایا گیا۔ اس تقریب میں روس، چین، پاکستان اور ایران کے سفارت کار بھی موجود تھے جہاں مولوی منصور کی ہدایات پر متعدد طیاروں کا فلائی پاسٹ بھی ہوا۔
امریکی میڈیا نے ایسی خبریں شائع کی ہیں کہ افغانستان میں چھوڑ دیا جانے والا امریکی اسلحہ دنیا کے مختلف تنازعوں میں استعمال ہوا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ طالبان ایک عسکری رجیم میں کیسے تبدیل ہوئے۔
ابراہیم اس پریڈ کے بعد ریکارڈنگ جاری نہیں رکھ سکے کیوں کہ ان کے مطابق انھیں یہ احساس ہوا کہ اب انھیں ملک سے فرار ہونا پڑے گا۔ انٹیلیجنس حکام نے انھیں کہا کہ وہ اپنی فوٹیج دکھائیں۔ لیکن ابراہیم نے ان کے پاس جانے کے بجائے کابل ایئر پورٹ کا رخ کیا۔
’انھوں نے مجھے کہا کہ کل اپنا سارا مواد لے کر ہمارے دفتر آ جانا، ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میرے لیے یہ خطرے کی بات تھی اس لیے میں نے فوری طور پر افغانستان چھوڑ دیا۔‘
ابراہیم کہتے ہیں کہ ’میں ایسی حکومتوں کے بارے میں جانتا ہوں کہ جب ایسا ہوتا ہے تو پھر کچھ اچھا نہیں ہوتا۔‘
ابراہیم کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان اس لیے پہنچے تھے کیوں کہ ’جب کوئی کہانی گرما گرم نہیں رہتی تو کسی کو اس میں دلچسپی نہیں رہتی تو میں الٹ کرنا چاہتا تھا۔‘
ابراہیم بتاتے ہیں کہ ان کو اس کام میں مدد اس لیے ملی کیوں کہ وہ بہت سے عالمی رہنماؤں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور ’طالبان نے مختلف صدور کے ساتھ میری تصاویر دیکھیں۔‘
ابراہیم کے ساتھ ناوالنی نام کی دستاویزی فلم کے پروڈیوسر اور کینیڈا کے شہری اوڈیسا رائے بھی کام کر رہے تھے جو آسکر جیت چکی ہے۔ ابراہیم کا کہنا ہے کہ ہالی وڈ گیٹ ایک ایسی فلم ہے جس میں طالبان دکھاتے ہیں کہ وہ پراپیگینڈا کو سمجھتے ہیں۔
’مجھے لگتا ہے کہ عسکری دنیا کے بارے میں ہمیں جو کہانیاں ہالی وڈ نے سنا رکھی ہیں، یہ ان کے بارے میں بھی ہے۔‘
افغان پولیس افسر اور طالبان کمانڈر کی دشمنی دوستی میں کیسے بدلیدلکش نظارے، سستی سیر اور طالبان: افغانستان میں غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کیوں بڑھ رہی ہے؟محمد حنیف کا کالم: ’نمک حرام، ہم یا افغان‘جب ملا عمر نے چینی سفیر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا چینی مٹی سے بنا اونٹ کا مجسمہ توڑا
طالبان کمانڈروں نے ابراہیم کو کافی محدود پیمانے پر ریکارڈنگ کرنے کی اجازت دی اور شاید اسی وجہ سے مختلف اخباروں میں فلم کے بارے میں جو تجزیے تحریر ہوئے ہیں، ان میں اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ گارڈین اخبار نے لکھا کہ ’اس سب کی ایک واضح وجہ ہے کہ ان کے سبھی کردار ان سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ابراہیم کا اس بارے میں فلسفیانہ موقف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ ایسا کام کرتے ہیں تو یہ جانتے ہیں کہ اس میں خطرات شامل ہیں اور میں نے اس کو تسلیم کیا۔‘
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلم کے آغاز میں، جہاں وہ یہ کہتے ہیں کہ ’طالبان چاہتے تھے کہ وہ جو مناظر دکھا رہے ہیں، وہ لوگ دیکھیں‘، انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا اس سب کے باوجود میں آپ کو دکھا سکتا ہوں کہ میں نے کیا دیکھا۔‘
’میرا کام سوال اٹھانا ہے اور یہ امید کہ دیکھنے والے ان سوالوں کے جواب خود تلاش کریں گے۔ میرا مقصد ان کے ارادوں کی حقیقت سمجھنا تھا، طاقت اور اختیار کا سچ، خواتین، عام شہریوں اور خطے کے حقائق کا سچ۔‘
اس فلم میں خواتین نہیں ہیں۔ صرف ایک یا دو خواتین کسی جگہ سے گزرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں۔
ایک منظر میں ایک برقعہ پوش خاتون ایک ٹھنڈی سڑک پر بیٹھی ہوئی ہے۔ چند اور مقامات پر خواتین دکان میں موجود ہیں اور ایسا لگتا ہے، لیکن واضح نہیں، کہ وہ بھیک مانگ رہی ہیں۔
’تکلیف دہ مناظر‘
افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد خواتین کی زندگیوں پر عائد پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ لڑکیاں سیکنڈری سکول نہیں جا سکتیں، یونیورسٹی کے زیادہ تر داخلہ امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتیں اور محدود پیمانے پر ہی کام کر سکتی ہیں۔ بیوٹی سیلون بند کر دیے گئے ہیں اور انھیں پارک یا سپورٹس کلب جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔
مولوی منصور فلم میں بتاتے ہیں کہ ان کی اپنی اہلیہ شادی سے پہلے ڈاکٹر تھیں لیکن پھر انھوں نے اپنی بیوی کو کام چھوڑنے پر قائل کیا۔
اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ دو تہائی آبادی کے پاس خوراک وافر مقدار میں موجود نہیں اور خواتین پر پابندیوں کی وجہ سے حالات مذید مخدوش ہو چکے ہیں۔
ابراہیم کہتے ہیں کہ ’ان مناظر کو دیکھنا تکلیف دہ ہے اور یہ جاننا کہ یہ حقیقت ہے۔ یہ بہت بدصورت ہے، جو وہاں ہو رہا ہے، بہت تکلیف دہ ہے۔‘
’جب میں وہاں سے نکل رہا تھا تو مجھے لگا کہ میں افغان شہریوں کا درد نہیں دکھا پاوں گا۔ اور اگرچہ میں طالبان کے ساتھ تھا، میں نے لوگوں کی آنکھوں میں خوف دیکھا، درد دیکھا، تھکاوٹ دیکھی۔‘
’میں نے دنیا کا بہت سفر کیا لیکن ایسی غربت کسی اور ملک میں نہیں دیکھی۔ یہ بہت افسوس ناک ہے کہ کسی کو پرواہ نہیں کہ اس ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘
’میں نے اس فلم کی تیاری میں جو تکلیف اٹھائی، وہ اس تکلیف کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر اٹھاتے ہیں۔‘
پابندی کے باوجود ٹک ٹاک افغان خواتین کے لیے اُمید کی کرن: ’مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں‘نیلوفر ایوبی: ’والد نے قینچی سے میرے بال کاٹے اور والدہ سے کہا آج سے اسے لڑکے کی طرح کپڑے پہناؤ‘وہ افغان شہزادی جنھیں ان کی شاعری کی وجہ سے صوفی کا درجہ ملا’شیرِ پنجشیر‘ احمد شاہ مسعود کا قتل: ’صحافیوں نے کیمرہ سامنے رکھا اور پھر ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی‘جب ملا عمر نے چینی سفیر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا چینی مٹی سے بنا اونٹ کا مجسمہ توڑاافغان تاجر پاکستان سے ’روٹھ‘ کر ایران اور وسط ایشیا کے متبادل تجارتی راستے کیوں اپنا رہے ہیں؟