Getty Images
بالی وڈ کے معروف اداکار اور فلم ساز سلیم خان اور شاعر جاوید اختر کی زندگی پر مبنی دستاویزی سیریز ’دی اینگری ینگ مین‘ (غصیلے نوجوان) رواں ہفتے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پرائم ویڈیو پر ریلیز ہو رہی ہے۔
یہ انڈین سنیما کی تاریخ کا ایک اہم موقع ہے کیونکہ عام طور پر اداکاروں، اداکاراؤں، فلم پروڈیوسرز، ہدایت کاروں، موسیقاروں اور گلوکاروں کی زندگیوں پر فلمیں بنائی جاتی ہیں۔
تاہم سکرین رائٹرز یعنی فلموں کی کہانی لکھنے والوں کی زندگیوں کو کبھی کیمرے میں اس طرح فلم بند نہیں کیا گیا ہے۔
فلم کا تصور اس کے لکھنے والوں کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عام طور پر سکرین رائٹرز فلم کی کامیابی کی بحث سے غائب رہتے ہیں، جیسے سلیم خان اور جاوید اختر کا لکھا ہوا کردار ’مسٹر انڈیا۔‘
سلیم خان اور جاوید اختر اکثر ساتھ مل کر کام کرتے تھے جس کی وجہ سے بالی وڈ میں ان کی جوڑی کو ’سلیم جاوید‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
50 سال بعد بھی ان فلموں کی کہانیوں اور کرداروں کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا۔
Getty Imagesایک ہی نام کے دو ادیب ایک ساتھ کیسے لکھتے تھے؟
جب میں بڑا ہو رہا تھا اور پہلی بار ’زنجیر‘ فلم دیکھی تھی تو میں نے سوچا کہ امیتابھ بچن نے کیا شاندار ڈائیلاگ بولا ہے: ’جب تک بیٹھنے کو نہ کہا جائے، شرافت سے کھڑے رہو۔ یہ پولیس سٹیشن ہے، تمھارے باپ کا گھر نہیں۔‘
میں اس فلم کے بعد امیتابھ بچن کا مداح بن چکا تھا۔
پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ لائن خود امیتابھ بچن نے سوچ کر نہیں بولی تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ سلیم جاوید نے لکھی تھی۔
بچپن میں کئی سالوں تک میں یہ سوچتا رہا کہ سلیم جاوید ایک ہی شخص کا نام ہے جو یہ حیرت انگیز لائینز لکھتے ہیں۔
ہمارے ایک فیملی فرینڈ بھی تھے جن کا نام سلیم جاوید تھا۔
امیتابھ بچن کی دیوانگی میں، میں نے ان کی کئی فلمیں دیکھی تھیں۔ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی، وہ ان کا سکرین پلے جو سلیم جاوید نے لکھا تھا۔
بعد میں جب مجھے پتا چلا کہ یہ دو مختلف مصنف ہیں جو ایک ساتھ فلمیں لکھتے ہیں تو مجھے کافی حیرانی ہوئی۔
میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس کا کیا مطلب ہے اور ان دو ادیبوں میں سے کون کیا لکھتا ہے؟
کیا ’دیوار‘ فلم کا مشہور ڈائیلاگ ’آج میرے پاس بنگلا ہے، گاڑی ہے، بینک بیلنس ہے۔ تمھارے پاس کیا ہے؟' جاوید اختر نے لکھا ہوا؟ اور اس کا جواب ’میرے پاس ماں ہے‘ سلیم خان نے لکھا تھا؟
شعلے فلم میں ’برائی نے اگر آپ کو بندوق چلانا سکھا دیا ہے تو نیکی آپ کو ہل چلانا سکھا دے گی‘ کیا شاندار ڈائیلاگ تھا۔ کیا اس فلم میں جے کی لائنز سلیم خان نے اور ویرو کی لائنز جاوید اختر نے لکھی تھیں؟
بچپن میں جب میں فلموں کا بہت زیادہ دیوانہ تھا تو اپنے پسندیدہ ڈائیلاگز کا کریڈٹ خود سے آدھا آدھا تقسیم کر کے بہت خوش ہوتا تھا۔
Getty Imagesسلیم جاوید کی جوڑی میں کس کا کیا کردار تھا؟
کئی سال بعد جب میں فلمی صحافت سے منسلک ہوا اور سلیم خان اور جاوید اختر سے الگ الگ ملاقات ہوئی تو ان سے یہ سوال پوچھا۔
اب تک یہ معلوم ہو چکا تھا کہ فلم لکھنے میں بنیادی طور پر تین چیزیں اہم ہوتی ہیں: اس کی کہانی، سکرین پلے اور ڈائیلاگ۔ ان تینوں کا کریڈٹ ایک ساتھ سلیم جاوید کو دیا گیا ہے۔
2014 میں میری پہلی کتاب (راجیش کھنہ کی سوانح عمری) کا دیباچہ مصنف سلیم خان نے لکھا۔
سلیم خان سے ملاقاتوں کے دوران جب میں نے ان سے پوچھا کہ سلیم جاوید کی جوڑی میں کون کیا کام کرتا تھا تو انھوں نے کہا کہ ’ہماری آپس میں اتنی بنتی تھی کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ میرا کام کہاں سے شروع ہوا اور جاوید صاحب کا کام کہاں ختم ہوا۔
’یہ خود بخود ہو جاتا تھا۔ یہ ایک پیچیدہ تخلیقی سرگرمی ہے۔ ہم دونوں کا ذہن بالکل ایک ساتھ کام کرتا تھا۔'
یہ براہ راست جواب نہیں تھا۔ میں نے تھوڑا ٹٹولنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی کوئی واضح جواب نہیں ملا۔
پھر برسوں بعد جاوید اختر سے ایک انٹرویو میں بھی یہی سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ 'ہم دو لوگ تھے جو مل کر کام کرتے تھے۔ کون کیا کرتا تھا اس کا جواب دینا مناسب نہیں۔‘ یعنی یہاں بھی وہی معمہ تھا۔
سلیم جاوید کی جوڑی پر لکھی گئی مشہور کتاب ’سلیم جاوید کی تحریر‘ کے مصنف دیپتوکرتی چوہدری نے مجھے بتایا کہ ’تحریر کا کام کس طرح تقسیم کرنا ہے اس بارے میں جاوید صاحب اکثر کہتے تھے کہ میں اسم لکھتا تھا اور سلیم فعل لکھتے تھے۔'
ظاہر ہے یہ مزاحیہ انداز میں سوال سے بچنے کا طریقہ تھا۔ دونوں سلیم جاوید برسوں تک اس سوال کو ٹالتے رہے۔
Getty Imagesجاوید اختر نے راز سے پردہ اٹھایا
فلمی دنیا کے بہت سے لوگوں سے اس بارے میں چہ مگوئیاں سنیں جن میں سب سے نمایاں یہ تھی کہ ’جاوید اختر ہی سب کچھ لکھ رہے تھے۔ سلیم خان کا کام صرف پی آر اور سکرپٹ نیریشن یعنی سکرپٹ پڑھ کر سنانے تک محدود ہے۔‘
تمام سکرپٹ ہالی وڈ کی فلموں سے لیے گئے تھے جیسے ’شعلے فلم کا آئیڈیا، میرا گاؤں میرا دیش‘ فلم کی نقل تھا۔‘ اور یہ کہ ’دونوں انتہائی مغرور تھے اور فلم پروڈیوسر کے سامنے عجیب شرائط رکھے تھے۔‘
لیکن اصل سوال باقی رہا اور بالآخر برسوں بعد اس بنیادی سوال کا جواب جاوید اختر کی طرف سے مل ہی گیا۔
گذشتہ سال (مئی 2023)، مجھے لندن کی مشہور برٹش لائبریری میں مصنفہ نسرین مثنی کبیر کی لکھی ہوئی کتاب ’جاوید اختر-ٹاکنگ لائف‘ کی رونمائی کے موقع پر جاوید اختر کے ساتھ طویل گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ میں نے پھر یہ بنیادی سوال کیا کہ آپ کی اور سلیم خان کی جوڑی میں کس نے کیا کام کیا؟
اس بار انھوں نے اس سوال کا کھل کر جواب دیا کہ ’ہماری لکھی ہوئی زیادہ تر فلموں کی کہانی کے آئیڈیاز تقریباً ہمیشہ سلیم صاحب کے ہوتے تھے۔ دیوار، ترشول، شعلے اور ڈان جیسی تمام فلموں کی کہانی سلیم حان نے دی تھی۔ اور کہانی میں موڑ اور ’اینگری ینگ مین‘ کا کردار بھی ان کا ہی خیال تھا۔‘
نسرین مُنی کبیر کی اسی نئی کتاب میں، جاوید اختر واضح طور پر کہانی کے خیال کا سہرا سلیم خان کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’شعلے میں ایک ٹھاکر ہے، جس کے ہاتھ ایک خطرناک ولن نے کاٹ دیے ہیں۔ وہ ٹھاکر اپنے گاؤں کی حفاظت کے لیے دو نوجوانوں کو بلاتا ہے۔ یہ سارا خیال سلیم صاحب کا تھا۔‘
فلم شعلے کا ذکر کرتے ہوئے جاوید اختر ایک اور اہم بات تسلیم کرتے ہیں کہ شعلے کا سکرپٹ لکھنے میں رمیش سپی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ تاہم انھیں اس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا۔
جاوید اختر نے کتاب میں یہ صرف سلیم خان کے کام کے بارے میں بات کی ہے۔میں نے جاوید اختر سے پوچھا کہ ’پھر اگلا مرحلہ کیا تھا اور آپ کا کام کہاں سے شروع ہوا؟‘
تو وہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ ’سکرپٹ سے، ہم دونوں مل کر سکرین پلے لکھتے تھے۔ کہانی کا آئیڈیا 10-15 منٹ کا ہوتا اور پھر ہم مل کر ایک ایک سین لکھتے اور یوں ایک ایک سین لکھتے پوری ڈھائی گھنٹے کی فلم لکھ ڈالتے۔‘
جاوید اختر نے مزید کہا کہ ’سکرپٹ کے دوران بھی، نئے کردار، نئے واقعات اور مناظر شامل کیے جاتے، جس میں ہم دونوں مل کر کام کرتے، اس کا سہرا کسی کے سر نہیں ہے۔ لیکن سکرین پلے کے بعد ڈائیلاگ لکھنا میرا شعبہ تھا۔‘
جس پر میں نے سوال کیا کہ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فلم’دیوار‘ کا وہ ڈائیلاگ ’میرے پاس ماں ہے‘ یا ’میں جب بھی دشمنی کرتا ہوں تو مجھے اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ یہ سستی ہے یا مہنگی‘ یا ’ڈان کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے‘، یہ سب مشہور ون لائنر جاوید اختر کے قلم سے لکھی گئی ہیں؟
اس پر وہ کہتے ہیں کہ ’ہاں لیکن فلم ڈان کی حیرت انگیز کہانی اور موڑ مکمل طور پر سلیم خان کے ذہن کی اختراع تھی۔‘
جاوید اختر نے فلم کی کہانی، سکرین پلے، ڈائیلاگ میں دونوں کے کردار کے بارے میں واضح کیا۔
ستیہ جیت رے: انڈیا کا وہ فنکار جس کے پاس ’تیسری آنکھ‘ تھیدیو آنند: جنھیں انڈیا سے لاہور لانے کے لیے نواز شریف نے واجپائی سے فرمائش کیکامیابی کا دور
سلیم خان اور جاوید اختر کی جوڑی نے ایک ساتھ 24 فلمیں لکھیں جن میں سے 20 کامیاب ہوئیں۔ یہ ایک زبردست ریکارڈ ہے۔ لیکن اپنی کامیابی کے دور میں دونوں پر الزام لگایا گیا کہ ان کی فلموں کی کہانیاں اصلی نہیں ہیں بلکہ ہالی وڈ کی فلموں سے متاثر ہیں۔
میں نے جب یہ سوال سلیم خان سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’دیکھو اس دنیا میں کوئی چیز اصلی نہیں ہے۔ سب کچھ کہیں نہ کہیں ہوا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ اصل کام ہے تو سمجھ لو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ہم نے کبھی کسی فلم کی کہانی چرائی نہیں۔ میں نے بہت کچھ پڑھا، تقریباً ہر روز لائبریری جاتا۔ ہر موضوع کی کتابیں اور ناول۔ ہمارے پاس ایک منظر کے لیے بہت سے خیالات تھے۔‘
غیر ملکی فلموں سے متاثر ہونے کے بارے میں جاوید اختر کہتے ہیں کہ ’ہم اپنی کلاسک فلموں سے زیادہ متاثر ہوئے۔ مغل اعظم، مدر انڈیا، گنگا جمنا۔ لیکن مجھے امریکی فلموں اور ناولوں کا بھی بہت شوق تھا۔ جیمز ہیڈلی چیس اور ریمن چاندلر کے ناول پسند آئے۔ مجھے وہاں سے ون لائنرز کے اثر کو سمجھنے میں مدد ملی۔ میں ابن صفی اور ترقی پسند مصنفین سے بہت متاثر تھا۔ خاص کر میں کشن چندر، بہت پڑھتا تھا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’اگر مجھے کوئی کتاب اچھی لگتی تو میں سلیم خان کو بھی دیتا تھا۔‘ جب ’زنجیر‘ ہٹ ہوئی تو کسی نے لکھا کہ یہ ہالی وڈ کی فلم ’ڈرٹی ہیری‘ کی نقل ہے، دیکھیں دونوں فلموں میں صرف ایک ہی مماثلت ہے وہ یہ کہ دونوں کا ہیرو ایک اینگری پولیس آفیسر تھا۔‘
جاوید اختر کہتے ہیں کہ ’یہ کردار سلیم خان نے لکھا تھا اور میں بتاتا چلوں کہ ہم نے ’ڈرٹی ہیری‘ نہیں بنائی تھی بلکہ جو ڈرٹی ہیری کا چربہ تھی اس فلم کا نام ’خون خون‘ تھا جو سنہ 1973 میں ریلیز ہوئی اور بری طرح فلاپ ہوئی۔‘
جب سپر سٹار جوڑی کا رشتہ ٹوٹ گیا
ہر عروج کو زوال ہوتا ہے۔ سلیم جاوید کی جوڑی بھی جون 1981 میں ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد دونوں نے اکیلے ہی فلمیں لکھیں۔ جاوید اختر نے بیٹا، دنیا، مشال، ارجن، ڈاکیت، میری جنگ اور روپ کی رانی چوروں کا راجہ جیسی فلمیں لکھیں۔ ان کی لکھی فلموں میں بیتاب اور ارجن بھی کامیاب رہیں۔
جبکہ سلیم خان نے ’نام‘، قبضہ، طوفان، اکیلا اور پتھر کے پھول جیسی فلمیں لکھیں۔
ان میں صرف ’نام‘ بڑی ہٹ فلم رہی۔ سلیم-جاوید نے جوڑی کے طور پر جو بلاک بسٹر کامیابی حاصل کی، ان میں سے کوئی بھی سولو سکرین رائٹر کے طور پر حاصل نہیں کر سکا۔
ان کے سوانح نگار دیپتوکرتی چودھری کہتے ہیں کہ ستر کی دہائی میں جب وہ تمام فلمیں لکھی گئیں تو اس وقت ان میں بہت زیادہ نیا پن تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ہندی سنیما میں پہلے زنجیر، دیوار، ترشول یا اینگری ینگ مین جیسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ سلیم جاوید کی جوڑی ختم ہونے کے بعد بھی انھوں نے ایک جیسا ہی کردار لکھنا جاری رکھا۔
سنجے دت سلیم خان کی لکھی ہوئی فلم کا اینگری ینگ مین ہے - 1980 کا ایک بے روزگار، مایوس نوجوان۔
اسی طرح ان کی لکھی ہوئی فلم ’اکیلا‘ میں امیتابھ بچن اینگری ینگ مین تھے حالانکہ وہ اس وقت جوان نہیں تھے۔ جاوید اختر کی میری جنگ، ارجن، ڈاکو ان تمام فلموں کا ہیرو ایک اینگری ینگ مین تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن ایک دہائی کے بعد اس ہیرو اور اس کے غصے میں کوئی نیا پن باقی نہیں رہا۔ اس لیے پہلے جیسی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔‘
Getty Imagesفلمی دنیا پر ان کا غلبہ
سلیم خان اور جاوید اختر کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ اس جوڑی کی ایک اور خاص بات تھی جو جوڑی ٹوٹنے کے بعد کھو گئی اور وہ یہ کہ دونوں نے مل کر ایک دوسرے کا اعتماد بڑھایا۔
اس سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے مصنف دیپتوکرتی چودھری کہتےہیں کہ ’وہ سکرین رائٹنگ کے ڈان تھے۔ تصور کریں کہ جب زنجیر ریلیز ہوئی تھی، اس کے پوسٹر پر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کا نام تھا، لیکن مصنف کا نام نہیں تھا۔‘
پرکاش مہرا نے ان سے پوسٹر پر فلم رائٹرز کے نام لکھنے کو کہا تھا؟ سلیم خان اور جاوید اختر کی جوڑی بے خوف تھی۔ انھوں نے ایک آدمی کو پیسے دیے اور رات بھر شہر بھر میں لگائے گئے پوسٹروں پر ’فلم رائٹرز سلیم – جاوید‘ لکھنے کو کہا۔ اس سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا تھا۔ یہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے اور میرے خیال میں ان دونوں نے اس کام کے لیے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کی ہو گی۔ جوڑی کے ٹوٹنے کے بعد یہ حوصلہ ختم ہوتا گیا۔‘
اور پھر آخری بار فلم ’مسٹر انڈیا‘ میں سلیم-جاوید کی جوڑی کا جادو واپس آیا۔ یہ فلم دونوں کی علیحدگی کے چھ سال بعد 1987 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اور سلیم جاوید کی جوڑی کے نام کا جادو پھر کام کر گیا اور فلم بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔
تاہم، کتاب ’جاوید اختر-ٹاکنگ لائف‘ میں جاوید اختر کہتے ہیں کہ ’میں نے مسٹر انڈیا کا پورا اسکرین پلے خود لکھا اور پھر ڈائیلاگ۔ میں نے پروڈیوسر بونی کپور سے کہا کہ وہ کریڈٹ میں سلیم جاوید کا نام لکھیں کیونکہ یہ خیال ’سلیم - جاوید دور‘ میں آیا تھا۔
وہ دور پھر نہیں آیا لیکن اس کا اثر ہندی سنیما میں آج بھی سنائی دیتا ہے۔ برسوں پہلے سلیم خان نے گرو دت کی فلمیں لکھنے والے مشہور فلم رائٹر ابرار علوی سے کہا تھا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ ایک دن مصنف فلم کے ہیرو سے زیادہ معاوضہ لے گا۔‘
ابرار علوی نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر جواب دیا کہ ’تم جو بھی کہو۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔‘
سلیم-جاوید نے ایسا ہی کیا کئی سال بعد انھیں فلم ’دوستانہ‘ کے لیے سپر سٹار امیتابھ بچن سے پچاس ہزار روپے زیادہ ملے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ آج فلمی ادیبوں کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ سلیم جاوید نے جو کیا اسے دہرانا شاید مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
شعلے کے ’ٹھاکر‘ سنجیو کمار، جن کا لاکھوں روپے کا ادھار ہڑپ لیا گیابڑا اداکار کون؟ دلیپ، راج یا امیتابھ۔۔۔دیو آنند: جنھیں انڈیا سے لاہور لانے کے لیے نواز شریف نے واجپائی سے فرمائش کییوسف خان کا فلمی نام دلیپ کمار کب اور کیسے پڑاستیہ جیت رے: انڈیا کا وہ فنکار جس کے پاس ’تیسری آنکھ‘ تھیجب محمد رفیع دال چاول کھانے لندن پہنچ گئے