BBC
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خوبصورت وادی گرُیز میں آج کل شینا زبان کا جو گانا ہر طرف گونج رہا ہے اس میں پاکستانی علاقوں کا ذکر سن کر آپ ایک لمحے کے لیے چونک جاتے ہیں۔
شینا زبان کے اس مشہور گانے میں ’گریٹر دردستان‘ کی عکاسی کی گئی ہے اور یہ گانا پاکستان کے زیرِانتظام گلگت اور انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے گُریز میں شینا بولنے والے درد قومیت کے لوگ اکثر گاتے ہیں اور اس پر لڑکے اور لڑکیاں درد ثقافت کے مطابق کپڑے، پگڑیاں اور اچکن وغیرہ پہن کر رقص بھی کرتے ہیں۔
گانے کے بول کچھ یوں ہیں: ’گلگت گا کرگل، دراس، گورائی ہی اسی پہچان۔۔۔ سونڈ گلستان ہو، میون دردستان۔‘
(گلگت سے لے کر کارگِل اور دراس سے لےکر گُریز کی زمین ہی ہماری پہچان ہے، یہ خوبصورت گلستان ہے، یہ ہمارا دردستان ہے۔)
لداخ کے کارگِل اور دراس قصبوں میں بھی درد آبادی ہے اور وہاں بھی شینا زبان کے گانے بجتے رہتے ہیں۔
BBC
درد قبائل پاکستانی زیرانتظام گلگت کے اکثر علاقوں خاص طور پر چلاس، اسطور اور سکردو میں موجود ہیں اور یہاں شینا زبان میں بات چیت کرتے ہیں، جبکہ افغاستان کے مشرقی علاقوں میں بھی دردوں کا لہجہ شینا ہی ہے۔
جنوبی ایشیا کے وسیع ہمالیائی خطے میں پھیلے درد قبائل کی دیگر زبانیں بوشوسکی، بروکپا اور نورستانی ہیں۔
تاہم کشمیر کے گُریز میں رہنے والے درد لوگ سرحدوں کے اُس پار شینا زبان بولنے والے ہم زبانوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ثقافتی رشتہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔
سرینگر سے شمال مشرق کی جانب 150 کلومیٹر دُور گرُیز ویلی دریائے کشن گنگا (جو پاکستان میں دریائے نیلم کہلاتا ہے) کے کنارے آباد ہے۔ پچاس ہزار سے بھی کم کی آبادی والی اس خوبصورت وادی کی اکثریت درد قبیلے سے تعلق رکھتی ہے اور شینا یہاں کی سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہے۔
BBCحبہ خاتون میوزِک بینڈ کیوں بنا؟
تقسیم ہند سے پہلے گلگت، لداخ کے کارگل اور دراس، پاکستان کے شمالی علاقے چترال، پنجگورہ دریا کے بالائی علاقے سوات میں کوہستان اور افغانستان کے کچھ علاقوں میں درد قبائل رہتے تھے، جن کی زبان، تمدن، ثقافت اور روایات ایک جیسی تھیں۔
یہ سب لوگ شینا زبان بولتے ہیں اور ان کے تصور میں اپنا ایک خطہ ہے، جسے دردستان کہا جاتا ہے۔ لیکن تقسیم کے بعد درد قبائل کی اکثریت گلگت میں رہ گئی اور باقی لوگ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے گُریز اور کارگل میں رہ گئے۔
ریکھا بائی: ’میری ماں ایک طوائف تھیں اور انھیں اس پر کوئی شرمندگی نہ تھی‘نصرت فتح علی خان کی 34 برس قبل ریکارڈ کی گئی چار قوالیاں لندن کے ویئرہاؤس سے کیسے ملیں؟
سنہ 1970 کی دہائی میں ایک درد رضاکار عبدالعزیز سامون نے حبہ خاتون میوزِک بینڈ بنایا جس کے تحت نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شینا زبان میں اپنی قبائلی شناخت سے متعلق گیت گاتے تھے۔
اس بینڈ کے موجودہ سربراہ فرید کالو کہتے ہیں کہ درد لوگوں کی برسوں سے ہجرت اور شہری تمدن میں اُن کے ضم ہو جانے کی وجہ سے عزیز سامون کی یہ تحریک چند سال بعد ہی سُست پڑ گئی تھی۔ تاہم فرید کالو اور ان کے ساتھیوں نے اب درد شناخت کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے حبہ خاتون میوزِک بینڈ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے۔
فرید کہتے ہیں کہ ’سرحدوں نے درد قبائل کو ایک دوسرے سے دُور کر دیا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہم نئی نسل میں شینا زبان اور درد شناخت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم خوش ہیں کہ نوجوان بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں۔‘
BBC
گُریز میں ایک پہاڑی کا نام ’حبہ خاتون چوٹی‘ رکھا گیا ہے۔ سولہویں صدی کے کشمیری بادشاہ یوسف شاہ چک نے دراصل ایک کشمیری شاعرہ اور گلوکارہ حبہ خاتون سے شادی کر لی تھی۔
یوسف درد خاندان سے تھا اور اکثر گُریز کی سیر پر جاتا تھا۔ سیر کے دوران حبہ خاتون اُن کے ہمراہ ہوتیں جو وہاں کے پہاڑوں کی سیر کے دوران شعر کہتی اور انھیں گاتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہاڑی کا نام ’حبہ خاتون چوٹی‘ ہے اور میوزِک بینڈ کا نام بھی حبہ خاتون کے نام پر ہی رکھا گیا ہے۔
مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے 1586 میں کشمیر پر حملہ کر کے یوسف شاہ کو گرفتار کر کے انڈین ریاست بہار میں قید کر لیا اور وہیں اُن کی موت بھی ہو گئی۔
BBC’انٹرنیٹ سے پتہ چلا صرف ہم ہی درد نہیں ہیں‘
میوزِک بینڈ سے جُڑی ایک لڑکی شینا رشید لون کہتی ہیں ’پاپا سے تو سُنتی تھی میں کہ ہم لوگ درد ہیں لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیسے۔ پھر جب میں حبہ خاتون کلب سے جُڑی تو پتہ چلا کہ ہمارا کلچر بہت خوبصورت ہے۔ انٹرنیٹ سے پتہ چلا کہ صرف ہم لوگ ہی درد نہیں اور بھی علاقے ہیں جہاں درد لوگ ہیں اور شینا میں بات کرتے ہیں۔ ہم یہاں سلمان پارس، یوسف ندیم، مجید احمر اور عقیل خان جیسے گلوکاروں کے گانوں پر رقص کرتے ہیں۔ اور وہاں وہ لوگ بھی ہمارے گانوں پر پرفارم کرتے ہیں۔‘
بینڈ کے ایک اور ممبر طاہر محی الدین کہتے ہیں کہ ’موسیقی جب سرحدوں کی وجہ سے بچھڑے درد قبائل کو جوڑتی ہے تو لگتا ہے ہم نے سرحدیں پھلانگ دی ہیں۔‘
علاقے پاکستان کے زیرانتظام ہوں یا انڈیا کے، درد قبائل خوبصورت مگر دشوار گذار وادیوں میں ہی آباد ہیں۔
BBC’دردوں کا ورچُول مِلن ہورہا ہے‘
گُریز ویلی کے درد قومیت کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حبہ خاتون میوزِک بینڈ کی تحریک اور انٹرنیٹ کی وجہ سے سرحدوں میں بٹے درد قومیت کے لوگوں کا ورچوئل ملن ہو رہا ہے۔
طاہر محی الدین کہتے ہیں کہ ’ہم اُن کے گانے سنتے ہیں، اُن پر رقص کرتے ہیں۔ وہ ہمارے گانے سُنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ البتہ ہم یہاں بہت چھوٹی آبادی ہیں اور گلگت اور دوسری جگہوں پر اُن کی اکثریت ہے۔ کبھی کبھی نسلوں پہلے کی رشتہ داریاں بھی دریافت ہو جاتی ہیں۔‘
گریز کے درد قبیلے اور دردستان کے تصّور پر برسوں تحقیق کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر میر سُہیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنگ عظیم دوم کے بعد جب قومی ریاستیں (نیشن اسٹیٹس) وجود میں آئیں، تو کئی دیگر نسلی گروپس کے ساتھ ساتھ شینا بولنے والی درد آبادی بھی جغرافیائی تقسیم کا شکار ہو گئی۔
’گُریز کے دردوں کی موسیقی تحریک نہ صرف اپنی شناخت بچانے کی ایک کوشش ہے بلکہ یہ اپنوں سے جدائی کے درد کا میوزیکل اظہار بھی ہے۔‘
’میں اسلامی نظام کی بات کر رہا ہوں، آپ لوگ ہندوانہ قسم کا نغمہ نشر کر رہے ہیں‘: جب جنرل ضیاالحق بینجمن سسٹرز کا گیت سن کر غصے میں آ گئےوہ بیماری جس نے انڈین سنگر الکا یاگنک کو قوت سماعت سے محروم کر دیاسکردو کا محاصرہ: وہ شہر جس پر قبضے کے لیے انڈیا اور پاکستان نے چھ ماہ تک جنگ لڑیبالاکوٹ میں انڈین طیارے پاکستانی طیاروں سے کیسے بچے؟ابھینندن کا طیارہ گرنے کے بعد کیا ہوا تھا؟