انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعے کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دنیا کے سب سے طویل دریائی کروز ایم وی گنگا وِلاس کو جھنڈی دکھا کر اس کا افتتاح کیا۔
جہاں حکومت اس کروز کے افتتاح کو انڈیا میں کروز کا ایک نیا سفر قرار دے رہی ہے اور اسے سیاحت کے فروغ کا وسیلہ سمجھ رہی ہے، وہیں اسے کئی گوشوں سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
گنگا ولاس کروز کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کرنے کے بعد وزیراعظم مودی نے کہا: 'آج کاشی (بنارس) اور ڈبرو گڑھ (شمال مشرقی ریاست آسام کا ایک شہر) کے درمیان دنیا کا سب سے طویل دریائی آبی سفر گنگا ولاس کروز شروع ہو گیا ہے۔'
یہ کروز ہندوؤں کے مقدس دریا دریائے گنگا کے ذریعے سفر کرتا ہوا بنگلہ دیش کے راستے آسام کے شہر ڈبروگڑھ تک پہنچے گا۔
وزیراعظم مودی نے کہا: 'اس کے ساتھ ہی مشرقی انڈیا کے کئی سیاحتی مقامات دنیا کے سیاحتی نقشے میں مزید نمایاں ہونے والے ہیں۔ یہ گنگا ولاس کروز اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، بنگلہ دیش اور آسام کے سفر کے دوران ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے گا۔
https://twitter.com/PIB_India/status/1613791261294751746
'کروز کا یہ سفر ایک ساتھ بہت سے نئے تجربات لے کر آنے والا ہے۔ کروز ٹورزم کا یہ نیا دور اس علاقے میں ہمارے نوجوان ساتھیوں کو روزگار اور سیلف ایمپلائمنٹ کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔
یہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث تو ہوگا ہی بلکہ دیسی سیاحوں کے لیے بھی پرکشش ہوگا جو پہلے ایسے تجربات کے لیے بیرون ملک جاتے تھے۔'
انھوں نے مزید کہا: 'اب وہ شمال مشرقی اور مشرقی انڈیا کی طرف بھی جا سکیں گے۔ یہ کروز جہاں سے بھی گزرے گا ترقی کی ایک نئی لائن بنائے گا۔ ہم ملک بھر میں دریائی آبی گزرگاہوں میں کروز ٹورزم کے لیے اسی طرح کے انتظامات کر رہے ہیں۔
'یہ گنگا ولاس کروز 25 مختلف دریاؤں سے گزرے گا اور یہ ان لوگوں کے لیے بھی ایک بہترین موقع ہے جو انڈیا کے اچھے کھانوں کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔'
وزیراعظم مودی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس سفر میں انڈین وراثت اور جدیدیت کا شاندار سنگم دیکھنے کو ملے گا۔ سنہ 2014 میں انڈیا میں صرف پانچ قومی آبی گزرگاہیں تھیں۔۔۔'
اس افتتاحی پروگرام میں اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر سربانند سونووال نے بھی شرکت کی۔
https://twitter.com/AHindinews/status/1613770984703811584
بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے کروز شپ کے متعلق کہا: 'یہ کروز ریاست کے چھ مقامات بکسر، چھپرہ، پٹنہ، سمریا، مونگیر، سلطان گنج اور کہلگاؤں پر رکے گا۔ سیاحوں کو یہاں کی ثقافت اور تاریخ سے متعارف کرایا جائے گا۔ بہار سے گزرتے ہوئے دریائی سفر اس کو بہتر اور تیز رفتار بنانے کے لیے اضلاع میں ایک نوڈل افسر کا تقرر کیا گیا ہے۔
جبکہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتو بسوا سرما نے کہا: ’وزیراعظم مودی نے آج دنیا کے سب سے بڑے ریور کروز کا آغاز کیا ہے۔ یہ ریور کروز وارانسی کے راستے آسام کے ڈبرو گڑھ پہنچے گا۔ اس ریور کروز سے شمال مشرقی علاقہ انڈیا کا ایک بہت بڑا سیاحتی مقام بن جائے گا۔'
اس میں لفظ 'ولاس' کا مطلب عیش ہے یعنی اس سفر میں عیش و نشاط کا انتظام ہوگا۔ پورا سفر 3200 کلو میٹر پر محیط ہوگا جو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے ہوتا ہوا 51 دنوں میں پورا ہوگا۔ اس تین منزلہ کروز پر 18 سوٹس ہیں اور اسے انڈیا میں 'تاریخی لمحہ' قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
گوا: انڈیا میں حیاتیاتی تنوع والے مقام کو محفوظ بنانے کی جہدوجہد
مقدس پہاڑ پر برہنہ رقص سے لے کر نازی سیلوٹ تک
وہ پانچ شہر جو کبھی آباد تھے مگر اب انھیں دیکھنے کے لیے زیر آب جانا پڑتا ہے
ماحولیت کے علمبرداروں کی تشویش اور سوشل میڈیا پر تنقید
جہاں سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں، وہیں ماحولیات کے تحفظ کے علمبرداروں کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
دی گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس کروز سے دریائے گنگا کے آبی جانداروں اور اس کے ڈالفن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنارس سے 30 کلو میٹر فاصلے پر کیتھی گاؤں کے پاس دریائے گومتی اور گنگا کے سنگم پر گہرے پانی میں خطرے سے دوچار ڈالفن کی محفوظ پناہ گاہ ہے، جہاں اکتوبر میں 35 سے 40 ڈالفنز تھیں۔
اس کے علاوہ بہار میں بھی ان کے لیے وکرمشیلا ڈالفن آبی پناہ گاہ ہے جسے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
کیٹی اوشا نامی ایک صارف نے اس کے متعلق دو خبروں کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'ایم وی گنگا ولاس، لگژری کروز شپ، حکومت کی ملکیت نہیں ہے کہ مودی جی کو اسے پروموٹ کرنا چاہیے۔
یہ کسی کی نجی ملکیت ہے۔ اس لیے وہ کسی مکمل کمرشیل وینچر کے لیے اتنا کیوں بول رہے ہیں جس میں حکومت کا کوئی حصہ نہیں ہے۔'
https://twitter.com/Indian10000000/status/1613842548535218176
اس کے علاوہ لوگ اس کی قیمت کی بھی دُہائی دیتے نظر آ رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ایک آدمی کے سفر پر 13 لاکھ روپے سے زیادہ کا خرچ آئے گا تو کوئی اسے 20 لاکھ قرار دے رہا ہے۔
پلو موئترا نامی ایک صارف نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ 'میں ٹورزم سیکٹر سے ہوں۔ کسی بھی سیاح کے پاس ایک ساتھ 51 دن نہیں ہوتے ہیں۔ دریا کے کروز کی ایک حد ہوتی ہے اگر یہ بہت طویل ہو تو۔ یہ ایک اور خراب قرض کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔'
https://twitter.com/Pallav62/status/1613917928239529989
انڈین اخبار لائیو منٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اس میں کل 36 سیاحوں کے لیے جگہ ہے۔ اسے کسی نے پانی پر تیرتا فائیو سٹار ہوٹل کہا ہے تو کسی نے عیاشی کا سامان۔
لائو منٹ کے مطابق ایک دن کا فی مسافر خرچ 25 ہزار سے 50 ہزار روپے ہوگا جبکہ پورے سفر کے دوران فی مسافر تقریبا 20 لاکھ روپے آئیں گے۔
یہ انتارا لگزی ریور کروز کا پروجیکٹ ہے۔ اس کی بکنگ سوئٹزر لینڈ سے ہوئی ہے۔ اور مکمنہ طور پر اگلا سفر ستمبر میں ہوگا جس کے لیے بکنگ کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یہ خبر بھی گردش کر رہی ہے کہ سنہ 2024 تک کی بکنگ ہو چکی ہے۔
بعض صارفین اس بات کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ مقدس گنگا پر شراب نوشی ہوگی اور گوشت پیش کیا جائے گا۔ تاہم کچھ ایسے بھی صارفین ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اس پر ان چیزوں کا انتظام نہیں ہے۔
بہر حال انتارا کی ویب سائٹ پر ابھی اس کے متعلق کوئی خاص اپ ڈیٹس نہیں ہیں اور اس میں تا دم تحریر بس اتنا ہی لکھا نظر آ رہا ہے کہ انڈین وزیر اعظم اس کا افتتاح کریں گے۔