جب 27 نومبر کو ایڈیسن ڈیوس اور ایگسٹین نیموس انڈیا کے جنوبی ساحل مچھلی پکڑنے نکلے تو انھوں نے اپنے خاندانوں سے وعدہ کیا کہ وہ لوٹ کر کرسمس ان کے ساتھ ہی منائیں گے۔
تاہم پھر کئی ہفتوں تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔
وہ ان 15 مچھیروں کے گروہ میں سے تھے جنھوں نے بحیرہ عرب میں تین ہفتوں کے لیے گہرے پانیوں میں جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
ان کے خاندان پہلے تو زیادہ پریشان نہیں ہوئے۔ انھیں معلوم تھا کہ مچھیرے سمندر میں کئی کئی دن تک مصروف رہتے ہیں۔
تاہم جب کرسمس کا دن آیا اور وہ گزر بھی گیا تو انھیں اس پر تشویش ہونے لگی کہ وہ اب تک واپس کیوں نہیں آسکے۔ انھیں اس سائیکلون کے ڈراؤنے خواب آنے لگے جس نے سنہ 2017 میں درجنوں مچھیروں کو ہلاک کیا تھا۔ یہ سائیکلون بھی انڈیا کے جنوبی ساحلوں سے ٹکرایا تھا۔
انھیں خدشہ تھا کہ آیا دوبارہ ایسی ہی کسی قدرتی آفت نے انھیں متاثر کیا ہے۔ لیکن مچھیرے 2 جنوری کو گھر لوٹ آئے۔
ان کی کشتی کے انجن میں مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ وہ کئی روز تک برٹش انڈین اوشن کے دوردراز جزیرے پر پھنس گئے تھے۔ انھیں بالآخر ایک گزرتے ہوئے برطانوی بحری جہاز نے بچا لیا تھا۔
انھیں معلوم نہ تھا کہ کون اور کب ان کی مدد کو وہاں پہنچے گا۔ مچھیروں نے زندہ رہنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ نکالے تھے جن میں جزیرے میں پائے جانے والے ناریل کا پانی پینا شامل ہے۔
مچھیرے کے سفر کا آغاز ایک لکڑی کی کشتی، جس کا نام کریشا مول ہے، پر جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ٹھینگاپٹنم ساحل سے ہوا تھا۔
مگر ساتویں روز کشتی کا انجن خراب ہوگیا اور یہ تیرتی تیرتی گہرے پانیوں میں داخل ہوگئی۔ یہ پانچ روز تک جاری رہا جس کے بعد ان کی نظریں ایک سری لنکن کشتی پر پڑی۔
نیموس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عملہ ہماری کشتی کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے گیا جہاں پانی کی گہرائی آٹھ میٹر (26 فٹ) تھی۔ ہمیں لگا اب ہم محفوظ ہیں اور وہاں لنگر انداز ہوگئے۔‘
چونکہ انڈین پانیوں میں سری لنکن کشتیوں کو مچھلی پکڑنے کی اجازت نہیں، اس لیے عملے نے تجویز دی کہ مچھیرے مدد کے لیے وائر لیس پیغام بھیجیں تاکہ علاقے کی انڈین کشتیاں ان کی مدد کو پہنچ سکیں۔
تین روز بعد ایک کشتی کی طرف سے جواب آیا۔
بدقسمتی سے مدد کو پہنچنے والی کشتی کا انجن اتنا طاقتور نہیں تھا کہ کریشا مول کو ساحل تک کھینچ کر لا سکے۔ گروہ میں موجود کریشا مول کے مالک نے کشتی کا گیئر باکس پکڑا اور اسے ٹھیک کرانے کے لیے اس انڈین کشتی کے ساتھ ساحل کی طرف روانہ ہوگئے۔
اس کے عملے نے اپنا لنگر انھیں دے دیا تا کہ مچھیرے اپنی کشتی کو صحیح سے باندھ لیں تاکہ یہ پانی میں بہہ کر دور نہ نکل جائے۔
لیکن پھر 19 دسمبر کو تیز ہوا سے رسی ٹوٹ گئی جس نے کشتی کو لنگر انداز کر رکھا تھا۔ اسی طرح تین دن بعد دوسری رسی بھی ٹوٹ گئی اور کشتی دوبارہ بہنے لگی۔
نیموس بتاتے ہیں کہ ’ہم سمندر کے بیچ و بیچ صرف خدا سے دعا مانگ سکتے تھے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کشتی ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔‘
’میں اپنی بیوی اور وہ جوان بیٹوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔‘
کشتی کے عملے نے نیویگیشن ڈیوائس پر نظر دوڑائی۔ ایڈیسن ڈیوس بتاتے ہیں کہ ’جی پی ایس نے بتایا کہ 29 ناٹیکل میل دور ایک جزیرہ ہے۔‘ یہ برٹش انڈین اوشن پر واقع سلومن جزیرے تھے۔
نو مچھیرے پھر ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہوئے جو وہ ساتھ لائے تھے۔ انھوں نے اس پر چاول اور دیگر چیزیں لاد دیں اور جزیرے کی طرف بڑھنے لگے۔
دو مچھیرے اس چھوٹی کشتی پر لوٹ آئے اور ان پانچ لوگوں کو اپنے ساتھ لایا جو ابھی بھی پھنسے ہوئے تھے۔ تاہم اس وقت تک کشتی مزید دور چلی گئی تھی۔ ڈیوس کہتے ہیں کہ ’ہمیں ایک گھنٹے کی کھوج کے بعد دوبارہ وہ کشتی ملی۔‘
سات مچھیروں کو اس چھوٹے جزیرے تک پہنچنے میں قریب پانچ گھنٹے لگے۔ ڈیوس کہتے ہیں کہ یہاں اور کوئی نہیں تھا۔ اب انھیں نیا چیلنج درپیش تھا: سامان ختم ہونے کی صورت میں وہ زندہ کیسے بچیں گے؟
ان کے پاس دس دن تک کی خوراک تھی مگر پینے کے لیے صاف پانی نہیں تھا۔
تمام راستے بند ہونے کے بعد مچھیروں نے اپنی تقدیر قدرت پر چھوڑ دی۔ وہ کھانا پکانے کے لیے سمندری پانی استعمال کرنے لگے۔ جب پیاس لگتی تو ناریل پھوڑ کر اس کا پانی پی لیتے۔
جب بارش ہوتی تو زمین پر پلاسٹک کی شیٹ بچھا لیتے اور اس کے قطرے جمع کر کے پانی کین میں ڈال لیتے۔
نیموس نے کہا کہ ’مجھے محسوس ہوا کہ موت ہمارے سامنے کھڑی تھی۔ ہم صحیح سے سو نہیں پا رہے تھے اور بڑے دھیان سے کھانا پکاتے اور کھاتے تھے۔
’ہمیں ڈر تھا کہ ہمارا سامان کسی بھی وقت ختم ہوجائے گا۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں ہیں اور کتنی دیر تک یہاں پھنسے رہیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ٹائٹینک کے زندہ بچ جانے والے چھ ’گمنام‘ مسافروں کی کہانی
جاپان کے ساحلوں سے نوجوانوں کو اغوا کر کے شمالی کوریا کیوں لے جایا گیا؟
فیلیسیٹی ایس: دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں سے لدا مال بردار بحری جہاز سمندر میں ڈوب گیا
AFP’یہ میرا کام ہے، یہی میری تقدیر ہے‘
پانچ روز بعد 27 دسمبر کو انھوں نے اپنے جزیرے سے کچھ دور ایک برطانوی بحری جہاز دیکھا۔ مچھیروں نے سرخ رنگ کا کپڑا ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا اور مدد پکارنے لگے۔
ایڈیسن ڈیوس بتاتے ہیں کہ ’ہم نے ہر ممکن طریقے سے جہاز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ دو گھنٹے بعد اس کے عملے کے چار لوگ ہمارے پاس آئے اور ہمیں پانی کے ساتھ پھلوں کی باسکٹ دی۔ انھوں نے ہم سے پوچھا کہ آیا ہم ٹھیک ہیں۔‘ پھر وہ چھوٹی کشتی میں مچھیروں کو اپنے ساتھ جہاز پر لے آئے۔
جہاز پر سوار ہونے کے بعد مچھیرے کئی دن بعد پہلی بار نہائے۔ عملے نے ان کی صحت کا جائزہ لیا، انھیں کھانا اور نئے کپڑے دیے۔
دو جنوری کو جہاز نے یہ مچھیرے انڈین کوسٹ گارڈ کے حوالے کیے۔ ان کی شناخت کی تصدیق اور دیگر کارروائیوں میں کئی روز لگے جس کے بعد بالآخر وہ اپنے خاندانوں کے پاس پہنچ گئے۔
نیموس کہتے ہیں کہ ’جب میں گھر پہنچا تو میرے بچوں نے مجھے گلے لگایا اور پوچھا کیا ہوا تھا۔‘
’میرے پاس انھیں سنانے کے لیے بہترین کہانی تھی۔ مجھے معلوم نہیں میں نے کتنی بار یہ دہرائی۔ جب ہم اس ویران جزیرے پر پھنسے ہوئے تھے تو ہم میں سے کسی کو بھی گھر لوٹنے کی امید نہیں تھی۔‘
نیموس کہتے ہیں کہ اس تجربے نے انھیں ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب وہ ساحل کے قریب ہی مچھلیاں پکڑا کریں گے۔ تاہم ایڈیسن ڈیوس کی رائے اس سے مختلف ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ میرا کام ہے۔ یہی میری تقدیر ہے۔‘