Getty Images
سوویت یونین دو کروڑ 24 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا تھا۔ 1991 میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو روس کا رقبہ صرف ایک کروڑ 70 لاکھ مربع کلومیٹر رہ گیا۔
اسی طرح کسی زمانے میں سلطنت عثمانیہ مصر، یونان، بلغاریہ، رومانیہ، مقدونیہ، ہنگری، فلسطین، اردن، لبنان، شام، عرب کے بیشتر علاقوں اور شمالی افریقہ کے بیشتر ساحلی علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو ترکی کا رقبہ سات لاکھ 83 ہزار مربع کلومیٹر رہ گیا۔
عین ممکن ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ذہن میں سوویت یونین اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ذہن میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کی یاد آج بھی زندہ ہو۔
یوکرین پر پوتن کے حملے میں جہاں سوویت یونین کی عظمت کی یاد تازہ کرنے کی کوشش جھلکتی ہے وہیں عثمانیہ سلطنت کی عظمت کی کہانی کا استعمال اردوغان کی سیاست میں جھلکتا ہے۔
رجب طیب اردوغان 15 مارچ 2003 کو ترکی کے وزیر اعظم بنے اور ولادیمیر پوتن سنہ 2000 میں روس کے صدر بنے۔
پوتن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کرتے اور اردوغان کی بھی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی گئی ہے۔
اردوغان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ الیکشن ہونے سے پہلے ہی الیکشن جیتنا پسند کرتے ہیں۔
اردوغان اور مودیGetty Images
بہت سے لوگ اردوغان کا موازنہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے بھی کرتے ہیں۔ اردوغان 1994 میں استنبول کے میئر سے وزیر اعظم اور پھر صدر بنے جبکہ نریندر مودی 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے وزیر اعلیٰ اور 2014 میں انڈیا کے وزیر اعظم بنے۔
اردوغان اور مودی دونوں کی سیاست میں ماضی کا غرور اور مذہبی قوم پرستی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں لیڈروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مقبول سیاست کرتے ہیں۔
گزشتہ ماہ 14 دسمبر کو ترکی کی ایک عدالت نے اردوغان کے سخت ترین مخالف اور استنبول کے میئر اکرم اماموگلو کو دو سال اور سات ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
52 سالہ اماموگلو ترکی میں تیزی سے مقبول ہو رہے تھے اور انھیں اردوغان کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
روس میں مارچ 2024 میں صدارتی انتخابات ہیں اور ترکی میں اس سال جون میں صدارتی انتخابات ہیں۔
اس رپورٹ میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور مودی کے ساتھ ان کی سیاسی مماثلت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
اردوغان 2014 میں ترکی کے پہلے ایگزیکٹو صدر بنے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دور میں اردوغان نے جدید ترکی کی مغرب نواز پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔
اردوغان روسی صدر پوتن کے قریب ہوئے لیکن شام کے معاملے پر ان کی روس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔ اردوغان نے شام میں اپنی فوج بھیجی تھی اور پوتن کو یہ پسند نہیں تھا۔
ترکی نے لیبیا میں فوجی مشیر بھی بھیجے۔ اس کے علاوہ اردوغان نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازع میں آذربائیجان کی کھل کر حمایت کی۔
روس اور ترکی کی دوستیGetty Images
2015 میں 24 نومبر کو ترکی نے شام کی سرحد پر روس کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا تھا۔ تب ترکی نے کہا تھا کہ روسی طیارے نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ترک ریسرچ پروگرام کے ڈائریکٹر سونر کاگپتے نے اردوغان پر ایک کتاب لکھی ہے۔
اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’اردوغان نے اپنے اقتدار کے دوران خود کو توقع سے زیادہ مضبوط کیا۔ عراق، شام اور لیبیا میں موثر فوجی کارروائیاں کیں اور ترکی کو اپنی سیاسی طاقت کا احساس دلایا۔ ترکی جہاں سفارتی طاقت بننے میں ناکام رہا، وہاں اس کی فوجی طاقت نے اس کی تلافی کی۔‘
کہا جاتا ہے کہ اردوغان کے دائرے میں رہنے والے ایک ’ترک دنیا‘ کی بات کرتے ہیں جو روس کے یاکوتیا سے چین کے سنکیانگ تک پھیلی ہوئی ہے۔
اردوعان کی آمد کے بعد ترکی اور امریکہ کے تعلقات پٹری سے اترتے چلے گئے جب کہ ترکی نیٹو کا رکن ہے۔
2017 میں ترکی نے روس سے S-400 طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدا۔ نیٹو اور امریکہ نے اسے خریدنے کے بارے میں خبردار کیا تھا لیکن اردوغان نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔
امریکہ شام میں کرد فورسز کی حمایت کر رہا تھا جبکہ ترکی کردوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ شامی کرد فورسز کا تعلق کرد علیحدگی پسندوں سے ہے۔
روس سے دوستی یا مجبوری؟
کہا جاتا ہے کہ اردوعان جب بھی مغرب سے ناراض ہوتے ہیں تو ان کا رخ روس کی طرف ہو جاتا ہے۔ ستمبر 2021 میں، اردوغان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک گئے۔ اردوغان امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن یہ ملاقات نہ ہو سکی۔ اس سے اردوغان ناراض ہو گئے اور روسی صدر پوتن سے ملنے چلے گئے۔
سابق امریکی فوجی افسر رچ آٹزن نے اردوغان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں کہا ہے کہ ’ترکی کے پاس توازن کا طریقہ کار ہے۔ اردوغان اسلامی دنیا سے لے کر جنوب اور مشرق میں یوریشیا تک اور شمال میں روس سے رشتہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ جب بھی انہیں ایک طرف سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ دوسری طرف ہو جاتے ہیں۔‘
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان کھیل میں کبھی کبھی ترکی خود بھی پھنس جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ترکی ایک عرصے سے اس قسم کا کھیل کھیل رہا ہے۔ کئی بار ترکی کو روس سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔
جب ترکی میں 2016 کی بغاوت ناکام ہوئی تو اردوغان کو یقین ہو گیا کہ امریکہ میں مقیم خود ساختہ جلاوطن اسلامی سکالر فتح اللہ گولن اس کے پیچھے ہیں۔
ترکی ایک عرصے سے امریکا سے گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ امریکہ نے ترکی کا مطالبہ کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اس معاملے میں اردوغان کا امریکہ پر شک بڑھ گیا۔
کہا جاتا ہے کہ روس نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔
Getty Images
سونر کاگپتے نے اردوغان پر لکھی جانے والی کتاب میں لکھا ہے کہ ’پوتن اچھی طرح جانتے تھے کہ گولن امریکہ میں رہتے ہیں۔ ترکی میں بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ بغاوت کی کوشش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔‘
’اردوغان کو اس وقت امریکی صدر باراک اوباما کا کوئی فون موصول نہیں ہوا تھا۔ چار دن بعد جب اردوغان کو واشنگٹن سے فون آیا تو اس وقت کے سیکریٹری آف سٹیٹ جان کیری لائن پر تھے۔ بغاوت کی کوشش کے تین ہفتے بعد، اردوغان سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے اور پوتن سے ملاقات کی۔‘
کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں پوتن نے اردوغان کو S-400 خریدنے پر رضامند کیا۔ S-400 کی خریداری کا باضابطہ اعلان 2017 میں کیا گیا تھا۔
ترکی کی جانب سے S-400 کی خریداری کے جواب میں امریکا نے F-35 لڑاکا طیارہ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
سونر کاگپتے نے لکھا ہے کہ ’اردوغان کے لیے پوتن سے دوستی کے بعد الگ ہونا آسان نہیں تھا۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں طاقت کا عدم توازن صاف نظر آرہا تھا۔ اگر ترکی S-400 سے پیچھے ہٹ جاتا تو پوتن تجارت اور سیاحت کو روک دیتے، جو ترکی کے لیے آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ پوتن عالمی سطح پر اردوغان کے مضبوط امیج کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘
’اردوغان کی مضبوط عالمی امیج نے گھر میں ہی اچھا فائدہ اٹھایا ہے۔ پوتن شام، لیبیا اور جنوبی قفقاز میں ترک افواج پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
مودی کی والدہ جنھیں معلوم تھا کہ ایک دن ان کا بیٹا انڈیا کا وزیر اعظم بنے گا
رجب طیب اردوغان: ایک کوسٹ گارڈ کا بیٹا ترکی کا ’جھگڑالو‘ صدر کیسے بنا؟
روس، یوکرین تنازع: کیا سوویت یونین کا ’زوال‘ صدر پوتن کے ’جارحانہ عزائم‘ کی وجہ بنا؟
اردوغان کی قیادت میں ترکی کو کیا ملا؟Getty Images
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سینٹر فار ویسٹ ایشین سٹڈیز کے پروفیسراے کے موہا پاترا کا خیال ہے کہ اردوغان کے دور حکومت میں ترکی کمزور ہوا ہے اور ان کی شخصیت عالمی سطح پر بھی ایک غیر مستحکم رہنما بن گئی ہے۔
موہا پاترا کہتے ہیں کہ ترکی کی شناخت ایک جدید اور سیکولر ملک کی تھی اور اردوغان نے اس شناخت مٹا دیا۔ وہ ترکی کی معاشی حالت کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں جو حالیہ کچھ عرصہ میں زوال پذیر ہوئی ہے۔
موہا پاترا کا کہنا ہے کہ خلیج کے اسلامی ممالک میں بھی ترکی کا اچھا تاثر نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ایک کامیابی یہ سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ترکی پر فوج کے غلبے کو کمزور کر دیا ہے۔ اگرچہ اس سے وہاں جمہوریت کو مضبوط ہونا چاہیے تھا۔‘
لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اردوغان سیاسی اور بین الاقوامی مشکلات سے نکلنا جانتے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں اردوغان نے بہت سے مشکل حالات کا سامنا کیا اور پہلے سے مضبوط بن کر ابھرے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار ویسٹ ایشین سٹڈیز کے ہی ایک پروفیسر آفتاب کمال پاشا کا خیال ہے کہ اردوغان نے ترکی کو سفارتی خود مختاری دلائی۔
پروفیسر پاشا کہتے ہیں کہ ’2003 سے پہلے ترکی میں فوج کا غلبہ تھا۔ اتاترک بھی فوج سے تھے۔ ترکی کی معیشت میں بھی فوج کا کافی دخل تھا۔ اردوغان نے اسے ختم کیا۔ اردوغان کی آمد کے بعد سے ترکی میں نجی تاجر ابھرے۔ترک حکومت میں فوج کی مداخلت ختم ہو گئی۔ اس نقطہ نظر سے اردوغان نے ترکی کے سیاسی نظام کو مکمل طور پر بدل دیا۔ میرے خیال میں یہ اردوغان کا کارنامہ ہے۔‘
پروفیسر پاشا کہتے ہیں کہ ’جب اتاترک نے 1923 میں جمہوریہ ترکی بنایا تو اسلامی اقدار کو کچل دیا گیا۔ ترکی کو مغرب نواز بنا دیا گیا۔ اردوغان نے اسے بدل دیا۔ انھوں نے اسلامی علامتوں کو دوبارہ قائم کیا اور مغرب کے اثر تلے رہنے سے انکار کر دیا۔ یہ بذات خود ایک بڑی بات تھی۔ ترکی اب آزادانہ اور اپنے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی بناتا ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔‘
پروفیسر پاشا کہتے ہیں کہ ’امریکہ نے نریندر مودی کو اس وقت ویزا تک نہیں دیا تھا جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو یہ صرف ترکی کا معاملہ نہیں ہے، پورا یورپ مہنگائی کا شکار ہے۔‘
مودی اور اردوغان میں مماثلتGetty Images
بشارت پیر، جو نیویارک ٹائمز کے انٹرنیشنل اوپینین ایڈیٹر تھے، کا تعلق کشمیر سے ہے۔
انھوں نے 2017 میں 'A Question of Order: India, Turkey, and the Return of Strongman' کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ، جس میں ترکی میں اردوغان کی سیاست اور انڈیا میں نریندر مودی کا موازنہ کیا گیا ۔
پیر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ترکی اور انڈیا کثیر الثقافتی جمہوریتیں ہیں اور وہاں کس طرح دائیں بازو کے مذہبی قوم پرست اردوغان اور مودی کامیاب ہوئے ہیں۔
اپنی کتاب پر واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بشارت پیر نے کہا کہ ’ترکی اور انڈیا دونوں سلطنتوں کے خاتمے کے بعد قومی ریاستوں کے طور پر ابھرے۔ دونوں ممالک میں نسلی اعتبار سے متنوع معاشرے ہیں۔ دونوں ملکوں کی قوموں کے آباء و اجداد مغرب کی جدیدیت کی طرف مائل تھے اور انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی اصلاحات کیں۔‘
’مصطفی کمال پاشا نے ترکی کو فرانس کے سیکولرزم کی طرف لے جانے کی کوشش کیجبکہ انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے ایک مختلف قسم کی سیکولرزم کو آگے بڑھایا، جو مذہب کے خلاف نہیں تھا لیکن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ ریاست مذہب کے معاملات میں مساوی فاصلہ برقرار رکھے۔‘
ترکی میں مصطفی کمال پاشا اور انڈیا میں نہرو کے نظریات کا غلبہ کئی دہائیوں تک رہا، لیکن دونوں ممالک میں ایسے گروہ موجود تھے جو پاشا اور نہرو کے مذہب کو دیکھنے کے انداز کی مخالفت کرتے تھے۔ ترکی میں اسلام پسند اور انڈیا میں ہندو قوم پرست احتجاج میں کھڑے ہوئے۔
بشارت پیر کہتے ہیں کہ ’اردوغان اپنے اقتدار کی پہلی دہائی میں مختلف تھے۔ ان کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو سب نے سراہا۔ ترکی میں زندگی کو کئی لحاظ سے آزاد کیا گیا اور وہاں کی معیشت کو بھی ہمہ گیر بنایا گیا۔‘
’اردوغان کی شروعات مودی کی نسبت بہت اچھی تھی۔ انھوں نے فروری 2002 کے بعد قومی سطح پر بات کرنا شروع کی۔ گجرات میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اس وقت ہوا جب وہ وزیر اعلیٰ تھے۔‘
کشمیری اور کردGetty Images
ایشان تھرور نے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے بشارت پیر سے سوال کیا کہ ’لیکن کہا جاتا ہے کہ مودی نے اس وراثت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا اور اردوغان کی طرح، انھیں کام کرنے اور معیشت کو مضبوط کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔‘
جواب میں بشارت پیر نے کہا کہ ’یہ کچھ لوگوں کے لیے ہے لیکن سب کے لیے نہیں۔ جب وہ انتخابی مہم چلا رہے تھے تو انھوں نے کامیابی سے اپنا امیج بنایا کہ وہ معاملات کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مودی کے دور حکومت میں انڈیا کی معیشت عروج پر نہیں ہے۔ انھوں نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔ یہ افسوسناک ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا، شہری آزادیوں کو سلب کیا گیا اور گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں لوگوں کو مارنے کے واقعات رونما ہوئے۔‘
بشارت پیر نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’اردوغان کی اسلامی قوم پرستی اور مودی کی ہندو قوم پرستی میں ان لوگوں کے لیے بہت کم گنجائش ہے جو اپنے عقیدے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔‘
’دونوں کی سیاست میں اختلاف کی گنجائش کم ہے۔ دونوں کی سیاست کی بنیاد قوم پرستی سے متاثر ہے اور دونوں جنگ کی بات کرتے ہیں۔ دونوں اپنے حامیوں کو دشمنوں کے خلاف اکساتے ہیں۔ دونوں باغی آبادی کے خلاف تشدد کی حمایت کرتے ہیں۔ اردوغان کردوں کے خلاف اور مودی کشمیریوں کے خلاف۔‘
بشارت پیر لکھتے ہیں کہ ’مودی اور اردوغان دونوں اپنے ملک کے قائم شدہ سیاسی نظام سے ابھرے ہیں اور دونوں اپنا مشترکہ پس منظر استعمال کرتے ہیں۔‘
2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد سے نریندر مودی نے مشرق وسطیٰ اور یورپ کے کئی ممالک کا دورہ کیا لیکن وہ کبھی ترکی نہیں گئے۔
مودی 2019 میں ترکی کا دورہ کرنے والے تھے لیکن اردوغان کے کشمیر پر بیان کی وجہ سے یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا۔
2019 میں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے، اردوغان نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر تنقید کی۔
اردوغان کا انڈیا کا آخری دورہ 2017 میں ہوا تھا۔ اس دورے میں بھی کشمیر پر ان کے ایک تبصرہ کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔
اردوغان نے اپنے دورہ انڈیا سے قبل کشمیر پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی وکالت کی تھی۔ انڈیا کشمیر کو دو طرفہ مسئلہ سمجھتا ہے اور اردوغان کی پیشکش انڈیا کے سرکاری موقف سے مختلف تھی۔ 2017 سے پہلے، اردوان 2008 میں وزیر اعظم کے طور پر انڈیا آئے تھے۔
اردوغان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عالم اسلام کا لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ سلطنت عثمانیہ کی وراثت ترکی کے پاس ہے، اس لیے اسے مسلم ممالک کا سربراہ بننے کا فطری حق حاصل ہے۔
2003 میں پہلی بار ترکی کا وزیر اعظم بننے کے بعد، اردوغان نے نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا، میں کسی بھی چیز سے پہلے مسلمان ہوں۔ بحیثیت مسلمان میں اپنے مذہب کی پیروی کرتا ہوں۔ اللہ کی طرف میری ذمہ داری ہے۔ اس کی وجہ سے میں ہوں۔ میں اس ذمہ داری کو نبھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
اردوغان 2003 میں ترکی کے وزیر اعظم بنے اور اسی سال اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملے کا حکم دیا۔
عراق پر امریکہ کا حملہ ترکی میں بہت غیر مقبول تھا اور یہ اردوغان کے لیے بھی بہت مہنگا ثابت ہوا۔
امریکہ نے ترکی سے درخواست کی تھی کہ وہ عراق پر حملے میں اپنی سرزمین استعمال کرے۔
اس وقت ترک پارلیمنٹ میں اردوغان کی جماعت کے دو تہائی ارکان تھے لیکن امریکی درخواست منظور نہ ہو سکی۔
اردوغان کے وزیراعظم بننے کا یہ پہلا سال تھا اور وہ عراق کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کرنا چاہتے تھے۔
اب 20ویں سال میں اردوغان مکمل طور پر بدل چکے ہیں اور نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود یوکرین پر روسی حملے میں امریکہ اور یورپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں۔