جیمز ویب خلائی دوربین سے پہلے سیارے کی دریافت جو زمین جیسا ہے

بی بی سی اردو  |  Jan 13, 2023

گذشتہ سال کے اواخر میں اپنی لانچ سے لے کر اب تک جیمز ویب خلائی دوربین نے کئی نئی دریافتیں کی ہیں اور اب اس فہرست میں ایک اور چیز کا اضافہ ہو گیا ہے۔ 

پہلی مرتبہ دنیا کی اس سب سے بڑی دوربین نے ایک سیارہ دریافت کر لیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ سیارہ بہت حد تک زمین کے جیسا ہے۔ 

سائنسدانوں نے اب اس کے مزید مشاہدوں کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ آنے والے مہینوں میں اس نئے سیارے کے بارے میں مزید جانا جا سکے۔ 

سائنسدانوں نے کیا دریافت کیا ہے؟

اس پتھریلے سیارے کا نام ایل ایچ ایس 475 بی ہے اور یہ زمین سے 41 نوری سال کے فاصلے پر برج اوکٹینز میں ہے۔

اس کا سب سے پہلے پتا ناسا کی ایک سیٹلائٹ نے لگایا تھا پر اس کا مشاہدہ کر کے اس کی موجودگی کی تصدیق جیمز ویب نے کی ہے۔

Getty Imagesجیمز ویب کو 25 دسمبر 2021 کو لانچ کیا گیا تھا

یہ بھی پڑھیے

جیمز ویب دوربین کی نئی تصاویر: مشتری سے دور دراز کہکشاؤں تک کے مناظر

جیمز ویب دوربین کی پہلی رنگین تصویر جس میں اربوں سال پرانی کہکشاؤں کی روشنی دیکھی جا سکتی ہے

زمین جیسے حجم والے سات سیاروں کی دریافت

چونکہ یہ سیارہ ہمارے لیے نیا ہے، اس لیے ابھی ہمیں اس کے بارے میں بہت کچھ جاننا ہے، پر سائنسدان اب تک کچھ ابتدائی تفصیلات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ 

یہ ایک چھوٹا سا پتھریلا سیارہ ہے جو بالکل زمین کے سائز جتنا ہے۔ 

اُنھوں نے یہ بھی پایا ہے کہ یہ زمین سے کچھ سو ڈگری زیادہ گرم ہے۔ 

ٹیم اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا ادھر فضا اور آب و ہوا موجود ہے یا نہیں۔ تاہم اُنھیں یہ یقین ہے کہ اس کی فضا میں سیارہ زحل (سیٹرن) کے ایک چاند ٹائٹن کی طرح میتھین کی کثیف سطح نہیں ہے۔ 

سائنسدان اس نئی دریافت سے پرجوش ہیں اور اُنھیں امید ہے کہ یہ بڑی سی دوربین مستقبل میں کئی مزید سیارے دریافت کرے گی۔ 

ناسا کے ڈائریکٹر مارک کلیمپن نے کہا: ’زمین کے سائز کے ایک پتھریلے سیارے کے پہلے مشاہداتی نتائج مستقبل میں اس دوربین کے ذریعے پتھریلے سیاروں کی فضا کا جائزہ لینے کے لیے کئی امکانات کا دروازہ کھولتے ہیں۔‘ 

اُنھوں نے کہا کہ ’جیمز ویب ہمیں ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں نئی معلومات کے قریب سے قریب تر لا رہی ہے اور یہ مشن تو ابھی صرف شروع ہوا ہے۔‘ 

سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ گرمیوں کے لیے طے شدہ نئے مشاہدوں کے ذریعے اس نئے سیارے کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر سکیں گے۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More