کھانسی کے شربت سے ازبکستان اور گیمبیا میں اموات: انڈیا میں دواؤں کی صنعت کیسے متاثر ہو گی؟

بی بی سی اردو  |  Jan 01, 2023

Getty Images

ازبکستان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 18 بچوں کی ہلاکت کا سبب بننے والی انڈین دوائی کے معاملے میں ابتدائی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث شربت میں ایتھائیلین گلائیکول (ای جی) نامی زہریلا مادہ شامل ہے۔ 

واضح رہے کہ ادویات کی صنعت میں اکثر پولی ایتھائیلین گلائیکول (پی ای جی) کا استعمال ہوتا ہے جسے ایک عام سالوینٹ (جس میں ادویات کے مختلف عناصر ملائے جاتے ہیں) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ 

’پی ای جی‘ کی طرح، ’ای جی‘ بھی بغیر رنگ کا ہوتا ہے اور اس کی ساخت ’پی ای جی‘ کی طرح ہوتی ہے، جس کی وجہ سے آسانی سے دونوں بنا فرق کے ایک دوسرے کے ساتھ یا ایک دوسرے کی جگہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ ازبیکی بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ سیرپ میں پی ای جی کی جگہ غلط کمپاؤنڈ ای جی پایا گیا لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کو یہ سیرپ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دیا گیا تھا اور جو مقدار اُنھیں دی گئی تھی وہ بچوں کی معیاری خوراک سے زیادہ تھی۔

حالانکہ موت کی اصل وجہ تحقیقات کے بعد واضح ہو گی لیکن چند مہینوں کے اندر یہ دوسری ایسی مثال ہے جب ادویات بنانے والی ایک انڈین کمپنی اپنے قابل اعتراض معیار کی وجہ سے زیر بحث ہے۔

اکتوبر میں گیمبیا میں مبینہ طور پر ایک اور انڈین کمپنی کے تیار کردہ کھانسی کے شربت سے 66 بچے ہلاک ہوئے تھے۔

سیرپ کے متعدد برانڈز میں اس زہریلے سالوینٹ کی موجودگی نے انڈیا میں ادویات کے ریگولیٹری نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گیمبیا اور ازبکستان جیسے واقعات اس سے پہلے انڈیا میں بھی رونما ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو ئے تھے۔

’انڈیا پر اثرات مرتب ہوں گے‘ Getty Images

’فارمیسی آف دی ورلڈ‘ بننے کی خواہشمند انڈیا کی ادویاتی صنعت کی مالیت 40 ارب ڈالر ہے اور یہ اپنی مصنوعات کو 200 سے زائد ممالک کو برآمد کرتی ہے جن میں امریکہ، برطانیہ اور یورپ جیسی ترقی یافتہ منڈیاں شامل ہیں۔ یہ ادویات پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

لیکن ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر انڈیا کا جینیریک (یعنی پیٹنٹ کے بغیر) ادویات میں ایک مسابقتی نام ہونے کی وجہ سے اس طرح کے الزامات انڈین ادویات کی صنعت پر سنگین اثرات مرتب کریں گے۔

’آل انڈیا ڈرگ ایکشن نیٹ ورک‘ کی شریک کنوینر مالینی آئسولہ کے مطابق انڈیا کی ادویاتی صنعت میں اس طرح کی ناکامیوں کی کئی وجوہات ہیں مثلاً اس میں ملوث کمپنی کی جانب سے آسان راستہ اختیار کرنا یا حکومت کی جانب سے لازمی اقدامات کی تعمیل کو یقینی بنانے میں ناکام ہونا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم عام طور پر یہ نہیں جان پاتے ہیں کہ کیا ریگولیٹرز نے کمپنیوں کا معائنہ کیا، معائنے کے نتائج کیا نکلے اور یہ کیسے کیا گیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایک معلوماتی بلیک ہول کی طرح ہے۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں سے کوئی اہم جان کاری باہر نہیں آتی۔

انڈیا کی ادویاتی صنعت سے متعلق ریگولیٹری نظام کے تحت ایک مرکزی اتھارٹی ہوتی ہے اور ساتھ ہی ہر ریاست میں الگ الگ ریاستی اتھارٹی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مزید دوسرے ادارے ہیں جن کا کردار ادویات کی صنعت پر نظر رکھنا ہے لیکن کئی مرتبہ ادویات بنانے والی کمپنیاں ان اداروں کی رسہ کشی کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔

ادویاتی صنعت کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین بھی پوری طرح سے خامیوں کے بغیر نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں واضح طور پر ہدایات موجود ہیں وہاں بھی ان پر ہمیشہ عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

انڈیا میں گیمبیا اور ازبکستان جیسے معاملات کو روکنے کے لیے تحفظات موجود ہیں لیکن وہ ریگولیٹری نظام کے نفاذ میں کمی کی وجہ سے اُنھیں روکنے میں ناکام رہے۔

تکشاشیلا تھنک ٹینک کے صحت کے شعبے سے منسلک پالیسیوں کے محقق اور تجزیہ کار ہرشیت ککریجا کا کہنا ہے کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس طرح کے واقعے انڈیا میں ادویات کے ضوابط اور کنٹرول کی ناکامی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’اگرچہ ہمارے پاس ایک حد تک نظام موجود ہے لیکن ادویات کے پیداوار مین شامل کمپنیوں کے ذریعے اس نظام کی تعمیل کو باقاعدگی سے چیک نہیں کیا جاتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر جانچ ہوتی بھی ہے تو اس پر آگے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

Getty Images

اس شعبے کے ماہرین ریاست ہریانہ کی ’میڈین فارما‘ کا مثال دیتے ہیں جو گیمبیا معاملے میں ملوث تھی۔ دیگر ریاستی ریگولیٹری ایجنسیوں نے کمپنی کی غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ ادویات کی اطلاع ریگولیٹرز کو دی تھی لیکن کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ریاستی حکومتیں ایسی منافع بخش صنعت کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں اور وہ اکثر اپنے دائرہ اختیار میں ان کمپنیوں کو مخصوص مراعات دیتی ہیں۔

قانون کے مطابق کوئی بھی دوا بازار میں آنے سے پہلے جانچ کے متعدد سخت مراحل سے گزرتی ہے اور ہر ایک دوا لازمی طور پر تجویز کردہ ترکیب پر مشتمل ہوتی ہے۔ وہ اس لیے کہ دوا کی پیداوار اور ترسیل کے سلسلے میں ایک چھوٹی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادوں پر غلط نام کا لیبل لگا دیا جائے، جیسے کہ ’ای جی‘ پر ’پی ای جی‘ تو یہ اس دوا کے صارف کے لیے مہلک ہو سکتا ہے۔

ایسا غلطی سے ہو سکتا ہے لیکن جہاں یہ غلطی سے نہ ہوا ہو وہاں ریگولیٹری نظام میں موجود سقم کی وجہ سے کمپنیاں ایسا اپنی لاگت کم کرنے کے لیے کر سکتی ہیں۔

تجزیہ کار اور سائنس سے متعلق معاملوں کے مصنف دنیش شرما کہتے ہیں ’اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ان ادویات کو بنانے کے لیے درکار خام مال کی معیار کی بھی جانچ کی جائے، نہ کہ صرف حتمی پروڈکٹ کی جو لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق معیار کی جانچ چھوٹی کمپنیوں کے لیے خاص طور پر ایک ایسا چیلنج ہے جو ان کے لیے دوا بنانے کے عمل کو مہنگا بناتا ہے اور جس کے نتیجے میں وہ آسان راستے اختیار کرتے ہیں۔

Getty Images

اگرچہ گیمبیا اور ازبکستان کے معاملوں میں حکومتِ ہند نے کمپنی کے پلانٹس کو بند کر دیا لیکن اس کے باوجود بھی حکومت نے ان ہلاکتوں کو انڈین کمپنیوں کے ذریعے بنائے گئی ادویات سے جوڑنے کی یا ان کے معیار پر سوالوں کی شدید مخالفت کی ہے۔

کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کے ادویاتی شعبے پر حملہ ہے۔ ’پارٹنر فار سیف میڈیسین‘ کے بانی بیجون مشرا کہتے ہیں کہ لوگ انڈیا کو نہایت سخت معیار سے ماپ رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں اگر ایک دوا بھی غیر محفوظ ہے تو یہ ریگولیٹری ناکامی ہے لیکن یہ درآمد کرنے والے ملک کی ریگولیٹری ناکامی ہے، نہ کہ برآمد کرنے والے ملک کی۔

وہ سوال کرتے ہیں ’اگر یہ دوائیں غیر محفوظ یا جعلی یا خطرناک تھیں تو یہ اس ملک میں کیسے پہنچیں؟‘

مشرا انڈیا کی وزارت صحت کے ذریعے منعقد ’نیشنل ڈرگ سروے 2014-2016‘ میں ایک ماہر کے طور پر رکن تھے اور اس سروے کا مقصد ملک میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کا سروے کرنا تھا۔

اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’اگر آپ اس سروے پر نظر ڈالیں تو سپلائی چین میں 0.04 فیصد بھی جعلی ادویات نہیں۔ بدقسمتی سے اس رپورٹ کو کوئی نہیں دیکھتا، حتیٰ کہ انڈین حکومت بھی نہیں‘۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ریٹیل دکانوں اور سرکاری سپلائی نظام میں غیر معیاری اور جعلی ادویات کا تناسب بالترتیب 3.16 فیصد اور 0.0245 فیصد تھا اور کل غیر معیاری نمونوں میں سے ایک تہائی صرف 22 مینوفیکچرنگ یونٹس میں بنے تھے۔

مشرا کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور پوری دنیا نے اس رپورٹ کو تسلیم کیا تھا ’لیکن کوئی بھی اس کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ انڈیا کو ایک طرح کا کھلنائیک بنا دیا گیا ہے، گویا کہ انڈیا جعلی اور غیر معیاری ادویات کا مرکز ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا کو اس لیے تنازعات میں گھسیٹا جا رہا ہے کیونکہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے میں عالمی طور پر کامیاب ہو گیا ہے کہ انڈیا میں تیار ہونے والی جینریک ادویات عالمی معیار کی ہیں اور سستی ہیں۔ اس کا کوئی بھی ملک مقابلہ نہیں کر پایا اور ہم مزید ترقی کر رہے ہیں۔‘

Getty Images

اگرچہ دنیا میں کئی اہم ادویاتی کمپنیاں قابل اعتراض کاموں میں ملوث رہی ہیں مگر انڈین کمپنیوں پر اٹھتے سوالات بھی نئے نہیں۔ گذشتہ برسوں میں عالمی ادارہ صحت اور کئی دوسرے ممالک نے انڈیا کی کئی نامور ادویاتی کمپنیوں کے مینوفیکچرنگ طریقوں پر سگین سوال اٹھائے ہیں۔

سنہ 2013 میں امریکی ریگولیٹرز نے جینیریک دوائی بنانے والی کمپنی ’رین بیکسی‘ پر 50 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے ریکارڈ میں ہیر پھیر کی اور ناقص پیداواری طریقے اپنائے ہیں۔

ایک اور انڈین ادویاتی کمپنی پر 2021 میں تین کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا جب اس نے 2013 میں امریکی ریگولیٹری ایجنسی ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمینیسٹریشن‘ (ایف ڈی اے) کے معائنہ سے پہلے ریکارڈ چھپانے اور اسے تباہ کرنے کا جرم قبول کیا۔

لیکن مغربی ممالک کا اپنا ریگولیٹری نظام ہے جسے وہ خاص طور پر ان خلاف ورزیوں کی صورت میں سختی سے نافذ کرتے ہیں جس سے وہ براہ راست متاثر ہوں۔ دراصل امریکی ’ایف ڈی اے‘ کا انڈیا میں دفتر موجود ہے جو ان انڈین کمپنیوں میں باقاعدہ معائنہ کا اہتمام کرتا ہے جو امریکہ کو ادویات برآمد کرتی ہیں۔

دنیش کہتے ہیں ’وہ اپنے ضابطے پر عمل کرتے ہیں اور امریکہ کو ادویات برآمد کرنے والی کمپنیوں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ یہ وہ چھوٹے ممالک ہیں جن کا اپنا کوئی سخت ریگولیٹری نظام نہیں۔‘

لیکن کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کے ریگولیٹری نظام کا امریکہ سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ مثلا انڈیا کے ڈرگس کنٹرولر جنرل جی این سنگھ نے 2014 میں بزنس سٹینڈرڈ اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’اگر انڈین مارکیٹ میں سپلائی کرنے والی کمپنیوں کا امریکی معیار کے حساب سے معائنہ کیا جائے تو ہمیں تقریباً ان سبھی کمپنیوں کو بند کرنا پڑے گا۔‘

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ انڈیا کی ترجیح دوائیوں کو سب کے لیے دستیاب اور سستا بنانا ہے، اُنھوں نے انڈین ریگولیٹرز کا امریکہ سے موازنہ کرنے سے خبردار کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی ترقی کر رہے ہیں اور ہمیں اس سطح تک پہنچنے میں کم از کم 10 سال لگیں گے۔ ہمارے پاس امریکی ’ایف ڈی اے‘ کے مساوی وسائل اور بنیادی ڈھانچہ نہیں۔‘

اُنھوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ انڈیا میں امریکی ’ایف ڈی اے‘ کے 13 ہزار کے مقابلے میں انڈیا میں صرف 650 انسپیکٹرز کا عملہ ہے لیکن ان خدشات کے باوجود ادویاتی شعبہ انڈین صنعت کی ایک کامیاب مثال ہے۔ یہ انڈیا کی ان چند صنعتوں میں سے ہے جو عالمی سطح پر اپنی پیداوار برآمد کرتی ہے۔

لیکن گیمبیا یا ازبکستان جیسے واقعات ضابطوں کی پابند کمپنیوں اور جدت کے ذریعے کمائی شہرت اور مہارت کو خراب کرنے میں منفی کردار ادا کرتی ہیں۔

آئسولہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حادثات کے بارے میں شفاف ہونے میں حکومت کی ہچکچاہٹ حالات کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہیں۔

گیمبیا کے معاملے پر انڈیا کے ذریعے کی گئی تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’ابھی تک یہ ایک معمہ ہے کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھ پایا کہ انھوں نے کیا ٹیسٹ کیا اور ان کے ٹیسٹ کے نتائج اس سے کیسے مختلف ہیں جو ابتدا میں ادارہ عالمی صحت اور گیمبیا کی حکومت نے کیے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس طرح کے اقدامات انڈیا کے فارما سیکٹر کی مدد کرنے کے بجائے اسے نقصان پہنچائیں گے۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More