تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جے پور کے گاؤں کے رہائشی ایک بزرگ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 'الو سے کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے، جبکہ یہ وائرس ایک چھوت کی بیماری ہے'۔
بزرگ کا کہنا تھا کہ 'یہ مرض سوئیوں، دوائیوں یا ڈاکٹروں سے نہیں جائے گا بلکہ ایک پرندہ جسے الو کہا جاتا ہے، اگر اس پر ہاتھ پھیرا جائے اور پھر وہ ہی ہاتھ مریض کے اوپر پھیرا جائے تو یہ مرض ختم ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ ان کے بزرگوں کا آزمایا ہوا ہے'۔
تاہم بعدازاں پولیس نے انہیں حراست میں لیا جس کے بعد بزرگ نے اپنا بیان بدل ڈالا۔
بزرگ نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے کورونا وائرس کے علاج سے متعلق جو کہا تھا وہ محض جھوٹ اور بکواس تھی جبکہ وہ چند نوجوانوں کے اکسانے پر یہ ویڈیو بنانے کے لیے راضی ہوئے تھے۔