کورونا وائرس: اس ملک میں ایک بھی کیس سامنے کیوں نہیں آیا؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

ہماری ویب  |  Apr 08, 2020

مہلک کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہزاروں اموات ہو چکی ہیں، کئی ممالک نے اس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔ یہ وبا اس قدر پھیل چکی ہے کہ لگتا ہے دنیا کا اب کوئی ملک ایسا نہیں جو اس وائرس سے متاثر نہ ہوا ہو۔

تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں اب بھی چند ممالک ایسے ہیں جن کی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے ملک اس وائرس سے بالکل محفوظ ہیں۔ ترکمانستان اور شمالی کوریا کا شمار ان ہی ممالک میں ہوتا ہے۔

ترکمانستان، ایران کا پڑوسی ملک ہے اور ایران کے بدترین حالات سے ہم سب واقف ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر پڑوسی ممالک بھی اس وبا سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی ترکمانستان میں کورونا کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

ایشیا کے وسط میں واقع اس ملک میں تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق ہو رہی ہیں۔ مختلف کھیل، شادی کی تقریبات، کیفے، ریسٹورنٹس ہر چیز عام دنوں کی طرح انجام پائی جا رہی ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی شخص ماسک نہیں پہن رہا جبکہ عالمی یوم صحت پر ترکمانستان میں سائیکل ریلی بھی منعقد کی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے حصہ لیا۔


15 کلومیٹر پر مشتمل سائیکل ریس کی قیادت بھی ملک کے صدر 'قربان قلی بردی محمدوف' نے کی اور خود بھی اس میں شریک رہے۔


تفصیلات کے مطابق ترکمانستان کی حکومت نے فوری انتظامات کر کے فروری میں ہی چین سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی اور تمام بین الاقوامی پروازوں کا رخ دارالحکومت کے شمال مشرقی شہر ترکمن آباد کی جانب موڑ دیا تھا جہاں قرنطینہ سینٹر بنا ہوا تھا۔

حکومت نے کورونا وائرس کا نام لینے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت کی جانب سے میڈیا سمیت عوام پر بھی مہلک وائرس کا نام لینے پر پابندی لگا دی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکمانستان کی حکومت کا اتنا بڑا دعویٰ درست بھی ہے یا نہیں؟

اس حوالے سے لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر مارٹن مکی کا کہنا ہے کہ 'ترکمانستان کی وزارت صحت کی جانب سے ملک میں ایک بھی کورونا وائرس کا کیس رپورٹ نہ ہونے کا دعویٰ ناقابل اعتبار ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ان کی جانب سے ماضی میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں ایڈز کا کوئی مریض نہیں ہے جو ناقابل یقین ہے جبکہ 2000 کی دہائی میں بہت سی وبائیں پھیلی تھیں جن میں طاعون کی وبا بھی شامل تھی لیکن اس کو دبایا گیا تھا'۔

رپورٹس کے مطابق ترکمانستان میں لوگ کورونا وائرس کا نام لینے پر بھی خوفزدہ ہیں جس کی وجہ حکومت کی جانب سے سختیاں ہیں۔

تاہم اس حوالے سے اقوام متحدہ کی نمائندہ ایلینا پنوا نے کہا ہے کہ 'وہ حکومت کی جانب سے بتائے جانے والے اعداد و شمار سے متفق ہیں کیوں کہ پوری دنیا میں اِس وقت اس ڈیٹا کے اعداد و شمار مانے جا رہے ہیں جو حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے ٹیسٹ سے حاصل ہو رہے ہیں'۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More