اٹلی اور چین سے شروع ہونے والے خطرناک وبائی مرض کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہر ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ کس طرح چینی حکومت نے اس وائرس سے اپنے ملک کو نجات دلائی۔
برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں انکشاف ہوا۔ تحقیق کے مطابق کووڈ 19کی وبا کے ابتدائی مرحلے پر چین کا ہنگامی ردعمل مددگار ثابت ہوا، اس فیصلے نے ووہان سے باہر 7 لاکھ سے زائد کیسز کی روک تھام میں مدد کی۔
لیکن وہ فیصلہ آخر تھا کیا؟
تحقیق میں بتایا گیا کہ چین میں 19 فروری کے روز یعنی وبا کے 50 ویں دن تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 30 ہزار کے قریب تھی اور ووہان میں سفری پابندیاں عائد کر دی گئیں، اگر سفر پر پابندی اور قومی ایمرجنسی ردعمل کو اختیار نہ کیا جاتا تو ووہان سے باہر چین میں کیسز کی تعداد 7 لاکھ سے زائد ہوسکتی تھی۔
تفصیلات کے مطابق چینی حکومت کی جانب سے 23 جنوری 2020 کو ووہان میں ملکی سطح پر سخت سفری پابندیاں عائد کی گئیں، تاہم مختلف شہروں میں وبا کی صورتحال کے مطابق مختلف اوقات میں مختلف اقدامات کیے گئے۔
محقق پروفیسر کرسٹوفر ڈائی کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں مدد ملی، کیونکہ اس سے وائرس کے شکار افراد اور صحت مند لوگوں کے درمیان تعلق کی روک تھام ہوئی۔