تفصیلات کے مطابق گوگل نے ایک رپورٹ جاری کی جو لوگوں کے اسمارٹ فون لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ کووڈ 19 کمیونٹی موبیلیٹی رپورٹس کے نام سے گوگل نے یہ ڈیٹا جاری کیا۔
ڈیٹا جمع کرنے کا مقصد حکومت کے عہدیداران کو عوامی نقل و حمل سے آگاہ کرنا ہے تاکہ اس کے مطابق ریاست اقدامات کر سکے۔
گوگل نے اپنی رپورٹ میں ایسے افراد کا ڈیٹا شامل کیا ہے جنہوں نے اپنی لوکیشن ہسٹری گوگل میں محفوظ کرنے کا آپشن آن کیا ہوا ہے۔ اس سے یہ با آسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ حکومت کی جانب سے دی گئی سماجی دوری کی ہدایات پر کس طرح عمل کر رہے ہیں اور آیا کر بھی رہے ہیں یا نہیں۔
اس حوالے سے پاکستان سمیت 131 ممالک کا ڈیٹا جاری کیا گیا جبکہ کمپنی نے کہا ہے کہ اس وقت جب عالمی برادری کووڈ 19 وبا پر ردعمل ظاہر کررہی ہے، وہیں عوام کے لئے طبی حکمت عملیوں، جیسے سماجی دوری کے اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے، اس مقصد کے لیے ہم نے ڈیٹا اکٹھا کیا تاکہ بتایا جاسکے کہ مخصوص مقامات پر اب کتنے لوگ ہوتے ہیں؟ مقامی کاروبار پر کس وقت زیادہ رش ہوتا ہے؟ پارکس، ریسٹورنٹس پر کتنے لوگوں کا مجمع ہے؟
گوگل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ہر ملک میں عوامی نقل و حرکت کے مقامات کو 5 مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پارکس میں پلازے، ساحلی مقامات، اور دیگر عوامی مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔
ورک پلیسز دفاتر پر مشتمل کیٹیگری ہے، جبکہ ریذیڈنس لوگوں کے گھروں کو کور کرنے والا شعبہ ہے۔
گروسری اینڈ فارمیسی میں فارمرز مارکیٹ، سودا سلف کی مارکیٹیں، میڈیکل اسٹور، فوڈ وئیر ہائوس، کھانے پینے کی دکانیں شامل ہیں۔
ٹرانزٹ اسٹیشنز کی کیٹیگری میں پبلک ٹرانسپورٹ مراکز شامل کیے گئے ہیں۔
ریٹیل اینڈ ریکریشن میں کیفے، تھیم پارکس، لائبریریز، ریسٹورنٹس، شاپنگ سینٹرز، میوزیم، اور سنیما گھروں کو شامل کیا گیا۔
گروسری کیٹیگری میں گھروں سے خریداری کے لیے باہر نکلنے والوں کی شرح 55 فیصد تک کم ہوگئی جبکہ تفریحی مقامات پر جانے کی شرح میں 45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ریسٹورنٹس، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر لوگوں کے جانے کی شرح میں 70 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے مراکز پر جانے کی شرح میں 62 فیصد کمی ہوئی، جبکہ دفاتر جانے والے افراد کی تعداد 41 فیصد کم ہوگئی۔ اس کے برعکس گھروں پر لوگوں کی مجودگی میں 18 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
واضح رہے گوگل نے یہ رپورٹ جمعہ کو جاری کی جبکہ مذکورہ ڈیٹا میں کسی فرد کی معلومات کی شناخت نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کسی مخصوص کیٹیگری والے مقام پر جانے کے اعدادوشمار دیئے گئے ہیں۔
گوگل کے مطابق وہ جلد ہی ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر اس پر عملدرآمد کے دورانیے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
تاہم اس ڈیٹا میں 16 فروری سے 29 مارچ تک ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھا گیا مگر اس سے اندازہ ہوتا ہے بنیادی طور پر کمی یا اضافے کا سلسلہ 10 سے 29 مارچ کے درمیان دیکھنے میں آیا۔