اٹلی اور چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر کے لوگوں میں خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
تاہم لوگ اتنا ڈر چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن سے قبل تقریباً ہر بندہ اس وائرس سے بچاؤ کے لئے ماسک پہن رہا تھا جبکہ کچھ لوگ گھروں میں رہتے ہوئے بھی ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔ کیا واقعی اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
تفصیلات کے مطابق پیر کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عالمی ادارہ صحت ایمرجنسی پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان نے مختلف وبائی بیماریوں کی ماہر ڈاکٹر ماریہ وین کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔
ڈاکٹر مائیک ریان نے بتایا کہ 'ہمیں تاحال کوئی ایسے شواہد نہیں مل سکے جس سے یہ بات کہی جائے کہ وائرس سے بچاؤ کے لئے ماسک لگانا ضروری یا فائدے مند ہے'۔
ڈاکٹر مائیک کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ویسے ہی عالمی سطح پر ماسک کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ اس وقت ماسک کی سب سے زیادہ ضرورت فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ہے جو ہر دن، ہر سیکنڈ وائرس سے لڑ رہے ہیں۔ ان کو ہی اگر ماسک مہیا نہ ہوا تو یہ انتہائی ہولناک ہے'۔
تاہم ڈاکٹر ماریہ وین کا میڈیا بریفنگ میں کہنا تھا کہ 'ان لوگوں کے لئے ماسک لازمی ہے جن کو اس کی سب زیادہ ضرورت ہے۔ جیسے کہ نرسز، ڈاکٹرز اور تمام طبی عملہ جو براہ راست بیماروں سے رابطے میں رہتا ہے'۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'ہم تمام شہریوں کو مشورہ دیں گے کہ وہ ماسک پہن کر خود کو بیمار نہ کریں، ماسک صرف وہ لوگ پہنیں جو اس وائرس سے متاثر ہیں یا جو گھروں پر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں'۔