کورونا وائرس کے خوف نے دنیا بھر میں ہونے والی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے جبکہ ملک بھر میں نمازوں اور خاص طور پر نمازِ جمعہ کے لئے بھی منع کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے کئی علماء کرام نے فتویٰ بھی دیا ہے جبکہ کچھ لوگ اس فیصلے پر کافی تنقید کرتے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جنوبی کوریا میں انتہائی افسوس ناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہاں ہونے والی مجلسوں کے اجتماع پر پابندی نہیں لگائی گئی۔
ہوا کچھ یوں کہ ساؤتھ کوریا میں ایک خاتون جن کو مریض نمبر اکتیس کا نام دیا گیا ہے، کورونا وائرس سے متاثر تھیں۔ انہوں نے 9 اور 16 فروری کے دو مسلسل اتواروں کو چرچ کی عبادتی مجلس میں شرکت کی۔
اس کے بعد جنوبی کوریا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک دم سے ہزاروں تک پہنچ گئی۔ اس تعداد کو تیس سے ہزاروں تک پہنچانے کی ذمہ دار یہ خاتون تھی جس نے چرچ سروس میں شریک ہوکر سینکڑوں لوگوں کو یہ وائرس لگایا جن سے مزید ہزاروں لوگوں تک یہ وائرس منتقل ہوگیا۔