برقع پہننے پر بنگلادیشی رائٹر کی شدید تنقید، اے آر رحمٰن کی بیٹی نے منہ توڑ جواب دے دیا

ہماری ویب  |  Feb 17, 2020

مشہور بھارتی گلوکار اے آر حمٰن کی بیٹی خدیجہ رحمٰن نے برقعے پر تنقید کرنے والی بنگلادیشی لکھاری تسلیمہ نسرین کو سوشل میڈیا پر جواب دے دیا۔

گزشتہ دِنوں بنگلادیشی رائٹر تسلیمہ نسرین نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی گلوکار اے آر رحمٰن کی بیٹی خدیجہ رحمٰن کی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں اُنہوں نے برقع اور حجاب پہنا ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بنگلادیشی رائٹر تسلیمہ نسرین کا کہنا تھا کہ ’مجھے اے آر رحمٰن کی گلوکاری پسند ہے لیکن میں جب بھی اُن کی بیٹی کو دیکھتی ہوں تو میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔‘

تسلیمہ نسرین نے لکھا کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک ثقافتی خاندان میں پرورش پانے والی لڑکی کا باآسانی برین واش ہو سکتا ہے۔‘

ان کے اِس تنقید آمیز ٹوئٹ پر گلوکار اے آر رحمان کی بیٹی خدیجہ رحمٰن بھی خاموش نہ رہیں اور اُنہوں نے انسٹاگرام پر اپنی حجاب میں ملبوس تصویر شیئر کی جس پر اُنہوں نے ایک طویل کیپشن لکھا۔

View this post on Instagram

Been only a year and this topic is in the rounds again..there’s so much happening in the country and all people are concerned about is the piece of attire a woman wants to wear. Wow, I’m quite startled. Every time this topic comes the fire in me rages and makes me want to say a lot of things..Over the last one year, I’ve found a different version of myself which I haven’t seen in so many years. I will not be weak or regret the choices I’ve made in life. I am happy and proud of what I do and thanks to those who have accepted me the way I am. My work will speak, God willing.. I don’t wish to say any further. To those of you who feel why I’m even bringing this up and explaining myself, sadly it so happens and one has to speak for oneself, that’s why I’m doing it. 🙂. Dear Taslima Nasreen, I’m sorry you feel suffocated by my attire. Please get some fresh air, cause I don’t feel suffocated rather I’m proud and empowered for what I stand for. I suggest you google up what true feminism means because it isn’t bashing other women down nor bringing their fathers into the issue 🙂 I also don’t recall sending my photos to you for your perusal 🙂

A post shared by 786 Khatija Rahman (@khatija.rahman) on

خدیجہ رحمٰن نے لکھا کہ ’بھارت میں اِس وقت بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن سب لوگ اِس بات کے لیے فکر مند ہیں کہ عورت کو کس طرح کا لباس زیب تن کرنا چاہیے اور یہ دیکھ کر میں بہت حیران ہوتی ہوں۔ ‘

اُنہوں نے لکھا کہ ’میں جب بار بار یہ موضوع سُنتی ہوں تو میرے اندر ایک آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔‘

خدیجہ رحمٰن نے اپنی پوسٹ پر یہ بھی لکھا کہ ’میں بہت ساری باتیں کہنا چاہتی ہوں، گزشتہ ایک سال میں مجھے اپنا جو ایک مختلف وژن ملا ہے وہ اِس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔‘

خدیجہ رحمٰن نے لکھا کہ ’میں کمزور نہیں ہوں اور نا ہی میں اپنی اِس زندگی کے انتخاب پر افسردہ ہوں بلکہ میں بہت خوش ہوں اور مجھے برقع اور حجاب پہننے پر بہت فخر ہے۔‘

اُنہوں نے لکھا کہ ’میں اُن لوگوں کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے مجھے اِس طرح قبول کیا اور وہ مجھے میرے کام سے جانتے ہیں۔‘

گلوکار کی بیٹی نے لکھا کہ ’میں اِس بارے میں صرف اتنا کہوں گی کہ میں اللّہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر زندگی بسر کر رہی ہوں۔‘

ان کا بنگلادیشی رائٹر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھنا تھا کہ ’محترمہ تسلیمہ نسرین! مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ آپ اپنے ہی لباس کی وجہ سے گُھٹن محسوس کر رہی ہیں، آپ کو کچھ تازہ ہوا لینے کی ضرورت ہے۔‘

خدیجہ رحمٰن نے لکھا کہ ’مجھے برقع پہننے سے کوئی گُھٹن محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ مجھے فخر محسوس ہوتا ہے اور میں اپنے اِس فیصلے میں بااختیار ہوں۔‘

اُنہوں نے لکھا کہ ’تسلیمہ نسرین میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ کو ایک بار گوگل کرکے حقیقی نسوانیت کا مطلب معلوم کرنا چاہیے ۔‘

خیال رہے کہ بنگلادیشی رائٹر تسلیمہ نسرین سوشل میڈیا پر اکثر اپنے ایسے متنازع بیان دینے میں آگے رہتی ہیں اور گزشتہ کچھ دِنوں سے وہ برقع پہننے کے خلاف بیان دیتی دکھائی دے رہی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More