اقرارالحسن پاکستان کا وہ نام ہے جِس سے شاید ہی کوئی ناواقف ہوگا۔ ان کا دلیرانہ انداز ہی ان کی کامیابی کا راز ہے کیونکہ یہ ہمّت سب میں نہیں ہوتی کہ بِنا ڈرے کسی بھی علاقے میں جائے اور عوام کو اس معاشرے میں پھیلی برائیوں سے آگاہ کرے، یہ ہی وجہ ہے کہ ہر کوئی اقرار نہیں ہوتا۔
اپنے کیرئیر کے آغاز سے ہی اقرارالحسن نے بے انتہا محنت کی۔ شروعات میں انہوں نے پاکستان ٹیلیویژن میں نیوز اینکر کی پوسٹ کے لیے اپلائی کیا جس کے بعد انہیں ٹریننگ پر رکھ لیا گیا۔ اقرار کو گھنٹوں بیٹھ کے پریکٹس کرنی پڑتی کہ خبریں کس طرح پڑھتے ہیں۔ چھ مہینے بعد اقرار کو جاب پر رکھ لیا گیا جہاں انہیں ایک بلیٹن پڑھنے کے محض 250 روپے مِلا کرتے تھے جو انتہائی کم رقم ہے۔ اقرار کا یہ ماننا ہے کہ محنت میں عظمت ہے لہٰذا محنت سے کبھی انہوں نے جان نہیں چھڑائی جس کا ثمر انہیں آج اس صورت میں مِل رہا ہے کہ بچہ بچہ انہیں جانتا ہے یہاں تک کہ وہ پاکستان کے بہترین اینکرز میں سے ایک ہیں۔
اقرارالحسن وہ خوش قسمت انسان ہیں جنہیں 1000 لوگوں کی بھیڑ میں سے اے آر وائی میں جاب مِلی۔ 1000 افراد نے آڈیشنز دیے لیکن جاب صرف 2 کو مِلی۔ جاب حاصل کرنے والے ایک اقرارالحسن خود تھے جبکہ دوسرے وسیم بادامی تھے۔
اقرارالحسن ہمیشہ سے ہی برابری کے قائل رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی عورت پر مرد کو فوقیت نہیں دی اس کی وجہ ان کا فیملی بیک گراؤنڈ بھی ہے۔ اقرار شروع سے ہی اپنے تمام کام خود کرنے کے عادی رہے ہیں پِھر چاہے وہ کپڑے استری کرنا ہوں یا اپنے کھانے کے برتن دھونا۔ جب وہ اور ان کی اہلیہ جاب کی وجہ سے دبئی میں مقیم تھے تب ان دونوں نے اپنے کام آپس میں بانٹ لیے تھے۔ اقرار کھانا بناتے اور برتن دھو دِیا کرتے تھے کیونکہ ان کی اہلیہ بھی ایک جاب کرنے والی خاتون تھیں۔
اقرار کو بے شمار ٹی وی اشتہارات کرنے کی آفرز مِلیں جن کو انہوں نے رد کر دیا۔ ان کے مطابق لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں، اگر انہوں نے یہ اشتہارات کیے تو لوگ وہ اشیاء خریدیں گے جن کی انہیں بھی کوئی گارنٹی نہیں۔
اقرار اور ان کی پہلی اہلیہ کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ گریجوئیشن کے طالبعلم تھے جبکہ ان کی اہلیہ قراۃ العین ایک اسکول میں ٹیچر تھیں۔ بعدازاں اقرار کو ان سے محبت ہوگئی اور پِھر دونوں نے شادی کرلی۔