وینزویلا میں زلزلوں کے بعد 1400 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق، ہزاروں تاحال لاپتہ

بی بی سی اردو  |  Jun 29, 2026

Getty Images

وینزویلا میں پانچ روز قبل یکے بعد دیگرے آنے والے شدید زلزلوں میں مرنے والوں کی تعداد جہاں 1400 سے بڑھ گئی ہے وہیں ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امید دم توڑنے لگی ہے اور ہلاک شدگان کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بدھ کو ملک کے شمالی حصے میں آنے والے ان زلزلوں سے دارالحکومت کراکس سمیت بڑے علاقے میں عمارتیں تباہ ہوئیں جن کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ اتوار کو ملبے سے 33 افراد کو زندہ نکالا گیا۔

ایک برطانوی ریسکیو اہلکار کے مطابق ایسے حالات میں متاثرین کے زندہ نکلنے کی مدت 96 گھنٹے تک سمجھی جاتی ہے جو اتوار کی شام ختم ہو گئی اور اب امدادی کارکنوں کو ’معجزات‘ کی امید ہے۔

تلاش اور بچاؤ کے عمل میں حصہ لینے کے لیے غیرملکی ٹیموں کی وینزویلا آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ سینکڑوں بین الاقوامی امدادی کارکن وینزویلا پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید کی آمد متوقع ہے تاہم ملبہ اٹھانے کے لیے درکار مشینری کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وینزویلا میں حکومت کی جانب سے تاحال لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں تاہم زلزلے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے والی ایک نجی ویب سائٹ کے مطابق 46 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا زلزلے کے بعد اپنے اہلخانہ سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔

کراکس میں موجود بی بی سی کی یوگیتا لمائے کے مطابق ہسپتالوں کی بیرونی دیواریں لاپتہ افراد کی تصاویر سے بھرتی جا رہی ہیں۔

زلزلوں کے فوراً بعد امریکی ارضیاتی سروے نے زلزلے کی شدت اور متاثرہ علاقے کی آبادی کے حساب سے اندازہ لگایا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد دس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے۔

امریکی ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق بدھ کے روز آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 تھی اور اس کے چند ہی سیکنڈ بعد اس سے بھی زیادہ طاقتور 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔

پہلا زلزلہ زمین کی سطح سے 20.3 کلومیٹر نیچے جبکہ دوسرا 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا۔ یہ پچھلی ایک صدی میں ملک میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک تھا۔

حکام کے مطابق دارالحکومت کے شمال میں واقع ساحلی شہر لا گوائیرا سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یہ ملک کی دو بڑی بندرگاہوں میں سے ایک اور ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ بھی یہاں واقع ہے۔

لا گوائیرا میں ناتاشا دیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی دو بیٹیاں، جن کی عمریں 22 اور 23 برس ہیں، ایک منہدم شاپنگ سینٹر کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ وہ دونوں وہاں کام کرتی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’وہ اپنے دوستوں کے ساتھ تھیں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ مل جائیں۔ مجھے یقین اور امید ہے کہ وہ وہیں ہیں۔‘

’میں صرف انھیں واپس اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہوں۔ وہ ہی میرا سب کچھ ہیں۔‘

قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے جمعے کو ایک ٹی وی بریفنگ میں کہا کہ درجنوں افراد کو زندہ نکال لیا گیا، جو ’ہمارے لیے باعثِ خوشی ہے کہ وہ اپنے خاندان اور پیاروں سے دوبارہ مل سکے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی زلزلوں کے بعد سے 214 آفٹر شاکس آ چکے ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے کئی ممالک نے تعاون کی پیشکش کی ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے 15 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان بھی شامل ہے۔

ہورخے روڈریگز کے مطابق 250 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا۔ ان میں سے بیشتر عمارتیں لا گوائیرا میں واقع تھیں جہاں بی بی سی نے ایک 10 منزلہ ہوٹل کے ملبے میں تبدیل ہونے کی ویڈیو کی تصدیق کی۔

وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کاراکس میں بھی کئی عمارتیں منہدم ہوئی ہیں جبکہ تروخیلو، یاراکوئے، کارابوبو، اراگوا اور میراندا کی ریاستیں بھی زلزلے سے متاثر ہوئی ہیں۔

Getty Images’جب زلزلہ آیا تو میں نے دروازے کے فریم کو زور سے پکڑ لیا‘

امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

کاراکس کے میٹروپولیٹن علاقے میں شامل شاکاؤ کے میئر گوستاوو ڈوکے نے جمعرات کو ایک تباہ شدہ عمارت کے باہر بتایا کہ وہاں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 23 کو زندہ نکال لیا گیا۔

لا گوائرا میں گراسیلا مورا کو ایک منہدم عمارت کے ملبے سے ہنگامی امدادی کارکنوں اور رضاکاروں نے زندہ نکالا۔ نکالے جانے کے وقت وہ ہوش میں تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب زلزلہ آیا تو میں دروازے کے فریم کو جتنی مضبوطی سے پکڑ سکتی تھی، پکڑ لیا۔ اتنی زور سے کہ میری انگلی ٹوٹ گئی۔‘

انھیں زخمی حالت میں بچایا گیا اور ان کی ایک انگلی بھی ٹوٹ گئی تھی لیکن زلزلے میں ان کے ساتھ موجود ایک دوست کی ہلاکت ہوئی۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ امدادی کارکنوں کے پہنچنے تک وہ اپنی دوست کا ہاتھ تھامے رہیں تاکہ وہ مرتے وقت تنہا نہ ہوں۔

بچائے جانے کے چند لمحوں بعد، جب وہ ابھی سٹریچر پر تھیں، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں نے ان کا ہاتھ اس طرح دیکھا اور اسے پکڑ لیا۔‘

AFP via Getty Images ’مجھے لگا عمارت میرے اوپر گِر جائے گی‘

کاراکس میں زیرِ تعلیم میڈیکل کے طالب علم ہوان اورتیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک قریبی دوست کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی جبکہ ایک اور دوست کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقے میں رہنے والے ان کے جاننے والے تقریباً 20 افراد لاپتہ ہیں۔

’میں صدمے اور الجھن کا شکار ہوں اور اس بات پر مایوس ہوں کہ میں کوئی مدد نہیں کر پا رہا۔‘

جب بدھ کی شام وینزویلا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے جانے لگے تو ویرونیکا کو لگا کہ ان کے اپارٹمنٹ کی دیواریں انھی پر آ گریں گی۔

انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’مجھے لگا میں مر جاؤں گی۔‘

وہ اپنی والدہ کے ساتھ ایک سرکاری تعطیل منا رہی تھیں جب شہر میں زلزلوں کے دو شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس کی سڑکوں پر ملبہ بکھرا ہوا ہے جبکہ امدادی کارکن منہدم عمارتوں کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

کچھ ویڈیوز میں لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

وینزویلا کے دیگر متاثرہ حصوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی بندش نے افراتفری بڑھا دی ہے۔

شام ڈھلتے ہی بہت سے مقامی لوگ عملی طور پر بے گھر ہو چکے تھے۔ وہ سڑکوں پر گھومتے رہے اور اپنے گھروں یا عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر رہے۔

ویرونیکا بی بی سی منڈو کی نامہ نگار ویلنٹینا اوروپیزا کی بہن ہیں۔ صحافی نے زلزلوں کے بعد کئی گھنٹے اپنے خاندان کا سراغ لگانے میں گزارے۔

ویلنٹینا کے فون پر ویرونیکا کا ایک گھبرایا ہوا وائس نوٹ موصول ہوا جس میں وہ حقیقی وقت میں ’خوفناک‘ جھٹکوں کی تفصیل بیان کر رہی تھیں جبکہ پس منظر میں ان کی والدہ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔

زلزلے کی پیش گوئیاں غلط کیوں نکلتی ہیں؟اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے: روات فالٹ لائن کیا ہے اور یہ کتنی طویل ہے؟’نامعلوم زلزلہ‘: زمین میں لگاتار نو دن تک تھرتھراہٹ کا معمہ کیسے حل ہواصدیوں پہلے آنے والا مہلک ترین زلزلہ، جس سے قبل لوگ قدرتی آفات کو ’خدا کا عذاب‘ سمجھتے تھے

خوف زدہ ویلنٹینا نے اپنے رابطوں سے مدد مانگنا شروع کر دی کیونکہ ان کے فون پر ان کی گلی میں تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر آنے لگی تھیں۔

جب وہ آخرکار ان سے رابطہ کر سکیں تو ویرونیکا نے تصدیق کی کہ وہ اور ان کی والدہ محفوظ ہیں لیکن کہا کہ غالباً ان کا گھر تباہ ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’عمارت مکمل طور پر تباہ ہو چکی، دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔‘

یہ پہلا موقع نہیں جب وییزویلا کے دارالحکومت کو کسی بڑے زلزلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

1967 کے دوران کاراکس میں 6.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Getty Imagesحکام کو خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے

لیکن ویلنٹینا کی والدہ کے مطابق بدھ کے زلزلے زیادہ طویل اور شدید محسوس ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم ایسی کسی چیز کا سامنا کریں گے۔‘

مشرقی کاراکس کی رہائشی کورو مارٹینیز نے بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہی بات بتائی۔

56 سالہ خاتون نے کہا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا کچھ محسوس نہیں کیا۔‘

’ایک بہت زور دار دھماکے جیسی آواز آئی۔ گھر میں چیزیں گر گئیں، فریج کے اندر رکھے جگ بھی۔‘

بی بی سی منڈو کی صحافی نیکول کولسٹر نے دیکھا کہ وسطی کاراکس کے اہم علاقے پالوس گراندیس میں واقع ساتویں منزل پر اپارٹمنٹ کی کھڑکیاں لرزنے لگیں اور ان کے پاس پناہ لینے کے لیے صرف چند لمحے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے ذہن میں صرف یہی آیا کہ سامنے والے دروازے اور پتھر کی دیوار کے درمیان کھڑی ہو جاؤں تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکوں۔‘

’مجھے لگا عمارت میرے اوپر گر جائے گی۔‘

Reutersزلزلے کے بعد منہدم عمارت کا منظر

انھوں نے بتایا کہ جب وہ سڑک پر نکلیں تو ملبے کے ڈھیروں میں سے آوازیں آ رہی تھیں۔

بچ جانے والے لوگ، جو فرار ہونے کی اتنی جلدی میں تھے کہ جوتے پہننا بھی بھول گئے تھے، ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے اور رو رہے تھے۔

کئی گھنٹے بعد بھی بہت سے لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے یا بعد کے جھٹکوں کے خوف سے واپس جانے کی ہمت نہیں کر رہے تھے۔

شہر بھر میں سیکڑوں افراد نے چوراہوں اور سڑکوں پر رات گزاری۔ فٹ پاتھوں کے حصے خیموں سے بھر گئے جبکہ کھڑی گاڑیاں عارضی بستروں میں تبدیل ہو گئیں۔

لاس پالوس گراندیس کی ایک خاتون، جو سونے کی کوشش بھی نہیں کر رہی تھیں، نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ وہ صدمے میں ہیں۔

جمعرات کی ابتدائی ساعتوں میں انھوں نے کہا کہ ’آپ ایسے حالات میں دوبارہ زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟ یہ تو کسی فلم جیسا منظر ہے۔‘

مضافاتی علاقے کے چند لوگ، جو کراچیس کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ نکلنے میں کامیاب رہے۔

ملک کے دیگر حصوں میں استاد ایلن چنگ جیسے کئی افراد بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کہ آیا ان کے پالتو جانور زندہ بچ سکے ہیں یا نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’میرے پاس دو بلیاں ہیں۔ بدقسمتی سے میں اب تک اپنے اپارٹمنٹ واپس نہیں جا سکا تاکہ دیکھ سکوں کہ وہ ٹھیک ہیں یا نہیں۔ دعا ہے کہ سب خیریت ہو۔‘

Reutersحکام کے مطابق 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں

لا گوائرا جیسے علاقوں سے اطلاعات کی ترسیل، جو کاراکس کے شمال میں واقع سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے متاثر ہوئی۔

تاہم علاقے سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں منہدم عمارتیں، بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ اور ریاستی دارالحکومت کے فیلڈ ہسپتالوں میں زخمیوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ شہر میں ’درجنوں‘ عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور اسے ’آفت زدہ علاقہ‘ اور ’حقیقی سانحہ‘ قرار دیا۔

صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ حکام ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا سکے۔

شدید متاثر ہونے والے دیگر علاقوں میں میرانڈا، اراگوا، کارابوبو اور فالکون ریاستیں شامل ہیں۔

صدیوں پہلے آنے والا مہلک ترین زلزلہ، جس سے قبل لوگ قدرتی آفات کو ’خدا کا عذاب‘ سمجھتے تھے’پیسیفک رنگ آف فائر‘ کیا ہے اور دنیا کے 90 فیصد زلزلے اسی علاقے میں کیوں آتے ہیں؟اسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے: روات فالٹ لائن کیا ہے اور یہ کتنی طویل ہے؟’نامعلوم زلزلہ‘: زمین میں لگاتار نو دن تک تھرتھراہٹ کا معمہ کیسے حل ہوازلزلے کی پیش گوئیاں غلط کیوں نکلتی ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More