خاندان سے دوری، قزاقوں کا خطرہ اور لاکھوں کی آمدنی: سمندر کو گھر سمجھنے والے ملاحوں کی لہروں پر زندگی کیسے گزرتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jun 28, 2026

دنیا میں لاکھوں افراد کا روزگارایسے جہازوں سے جڑا ہے جو مختلف ممالک کے درمیان سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔

ان افراد کو سی فیئررز یا میرینز(جہاز راں) کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے مختلف جہازوں پر تقریباً تین لاکھ انڈین ملاح کام کر رہے ہیں۔

دنیا کے بحری عملے کا 17 فیصد حصہ انڈین شہریوں پر مشتمل ہے۔ یعنی دنیا میں ہر پانچ میں سے ایک جہاز راں انڈین ہے۔

نو جون کو عمان کے ساحل کے قریب سیٹبیلو نامی مرچنٹ جہاز پر امریکی بحری حملے میں تین انڈین جہاز ران ہلاک ہو گئے۔ ان میں وشاکھاپٹنم سے تعلق رکھنے والے چیف انجینئر پٹنالا سریش بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد جہاز رانوں کی زندگی کے بارے میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔

عالمی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے والا جہاز رانی کا پیشہ اپنے اندر کتنے چیلنجز لیے ہوئے ہے۔ اس پیشے سے وابستہ لوگ کس طرح کی زندگی گزارتے ہیں۔ بی بی سی نے اس بارے میں کچھ تیلگو جہاز رانوں سے بات کی ہے۔

ریٹائرڈ سی فیئرر شووکاری ناگیشورا راؤ نے بی بی سی کے ساتھ اپنے تجربے کے حوالے سے گفتگو میں بتایا کہ ’مرچنٹ نیوی میں ملازمت کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپ جنگ پر جا رہے ہوں۔‘

سمندر میں نو ماہ

اچھی آمدنی، دنیا دیکھنے کے مواقع اور خاندان کے لیے مالی تحفظ ۔۔۔ یہی وہ عوامل ہیں جو بہت سے لوگوں کو اس شعبے کی جانب راغب کرتے ہیں۔

میرینز کے مطابق ’ٹرینی سطح پر آمدنی ماہانہ 40 ہزار سے 50 ہزار (انڈین) روپے کے درمیان ہوتی ہے تاہم جیسے جیسے تجربہ بڑھتا ہے یہ ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ کچھ عہدوں پر ماہانہ تقریبا ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ کمانے کا امکان بھی ہوتا ہے۔‘

تاہم اس آمدنی کے لیے جہاز پر سوار ہونے کے بعد آپ کو چھ سے نو ماہ سمندر کے بیچ گزارنے پڑتے ہیں۔

’سمندر، جو پوری دنیا ہے‘

ارجالا چنتی کا تعلق ایک ساحلی گاؤں سے ہے۔ انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرکے انھوں نے مرچنٹ نیوی کے جہازوں پر کام کرنا شروع کیا۔

اپنی زندگی کے شب و روز کے حوالے سے بی بی سے بات کرتے ہوئے ارجالا چنتی نے کہا کہ وہ مرچنٹ نیوی کی بدولت اپنے خاندان کو اچھی زندگی فراہم کر سکے۔

ان کے مطابق ’مرینزکے لیے سمندر ہی گھر ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق وہ ہفتوں اور مہینوں تک سمندر میں ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں اور باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے یہ جاننے کے لیے انھیں انٹرنیٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

’باہر کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کا علم صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ ہم دن کے 24 گھنٹے جہاز پر ہی ہوتے ہیں۔‘

بہت سے جہازوں پر سیٹلائیٹ انٹرنیٹ ہوتا ہے لیکن اس کی اپنی حدیں ہیں۔ ان کے مطابق بعض کمپنیاں صرف ’ماہانہ 8 سے 20 جی بی ڈیٹا‘ فراہم کرتی ہیں۔

ارجالا چنتی کہتے ہیں کہ ’اسی لیے ہم انٹرنیٹ بہت محتاط اور محدود انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ حد سے زیادہ استعمال کریں تو یہ دوبارہ نہیں ملتا۔ ضرورت ہونے پر بھی انٹرنیٹ دستیاب نہیں ہوتا۔ آپ کو اپنے ڈیٹا کی سونے (گولڈ) کی طرح قدر کرنا چاہیے۔‘

سمندر میں طوفان، لہریں اور حادثات

سمندر میں زندگی کا مطلب صرف سفر تک محدود نہیں بلکہ طوفان، بلند لہریں اور غیر یقینی حالات بھی اس کا حصہ ہیں۔

ریٹائرڈ میرین ناگیشورا راؤ اپنے اس تجربے کو یاد کرتے ہیں جب وہ 18 دن تک شدید لہروں میں پھنسے رہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے تھے۔ برتن بھی ایک جگہ نہیں ٹھہر پاتے تھے۔ کیبن میں ہونے کے باوجود ہمیں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی بھی لمحے ہم گرنے والے ہوں۔‘

ارجالا چنتی نے کہا کہ ’ہمارے اردگرد سمندر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہمیں ہر وقت خوف کا سامنا ہوتا ہے۔‘

Getty Imagesبحری جہاز سمندر سے زیادہ خطرناک کیسے؟

سمندر میں رہتے ہوئے خطرہ ہمیشہ پانی سے ہی نہیں ہوتا۔

اپنی اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ناگیشورا راؤ نے ایک واقعہ بی بی سی سے شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار وہ جہاز پر ایک ٹینک میں گر گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایک اور واقعے میں وہ اس وقت بال بال بچے جب جہاز میں مرمت کے دوران آگ بھڑک اٹھی۔

ان کے مطابق اسی لیے اس شعبے میں شامل ہونے سے پہلے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جس میں آگ کے خطرات، ڈوبنے کی صورتِ حال اور ہنگامی بچاؤ کے اقدامات سے متعلق ٹریننگ شامل ہے۔

بیچ سمندر بیمار ہونے پر کیا ہوتا ہے؟

ایسے میرینز جو مہینوں تک سمندر میں رہتے ہیں، اگر انھیں صحت کے مسائل لاحق ہو جائیں تو ان کے لیے خصوصی نظام موجود ہوتا ہے۔

جہاز کے افسران کمپنی کے ڈاکٹروں سے مشورہ کرتے ہیں۔ میرینز بتاتے ہیں کہ ہنگامی صورتِ حال میں مریض کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کا انتظام بھی موجود ہوتا ہے۔

ارجالا چنتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کمپنی کے ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی صحت کا مسئلہ ہو تو ہم جہاز کے سیکنڈ افسر کو بتاتے ہیں۔ وہ ای میل کے ذریعے کمپنی کو اطلاع دیتا ہے کہ ایک مخصوص عہدے کا افسر طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر پا رہا۔‘

ان کے مطابق ’ہر بات کمپنی کو بتانا ضروری ہوتا ہے۔ کوئی فیصلہ خود سے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایمرجنسی ہو تو ہیلی کاپٹر بلایا جاتا ہے۔ مریض کو جہاز سے قریبی بندرگاہ پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں سے اسے ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔‘

بحری قزاق

دنیا کے بہت سے بحری راستوں میں قزاقوں (بحری ڈاکو) کا خطرہ ابھی بھی پایا جاتا ہے۔

ناگیشورا راؤ نے بی بی سی کو اس حوالے سے بتایا کہ ’کچھ علاقوں میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں جہاں قزاقوں نے جہازوں کے قریب آنے کی کوشش کی۔ ایسے میں اضافی حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔‘

میرینز کے مطابق دنیا کے کئی سمندری راستوں، خصوصاً افریقہ کے ساحل کے قریب بعض علاقوں میں (جہاں ماضی میں قزاقوں کے حملے زیادہ ہوتے رہے ہیں) قزاقی کا خطرہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ناگیشورا راؤ کہتے ہیں کہ بعض مواقع پر قزاق چھوٹی کشتیوں کے ذریعے جہازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ایسے علاقوں سے گزرتے وقت جہازوں پر اضافی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ڈیک کے گرد خصوصی رکاوٹیں نصب کرنا، 24 گھنٹے نگرانی برقرار رکھنا، اور سکیورٹی اہلکار تعینات کرنا جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جیسے ہی خطرے کے آثار نظر آئیں، قریبی ممالک کے کوسٹ گارڈز اور بحری افواج کو اطلاع دینے کے نظام بھی موجود ہوتے ہیں۔ تاہم سمندر کے بیچ تنہا سفر کے دوران قزاقوں کے خطرے کے بارے میں سوچ کر خوف محسوس ہونا فطری بات ہے۔‘

شووکاری ناگیشورا راؤ کے مطابق ’خوف محسوس ہوتا ہے تاہم اس کے لیے حفاظتی انتظامات موجود ہوتے ہیں۔‘

جہاز پر زندگی کے چیلنجز

مہینوں تک سمندر میں رہنے کے باوجود میرینز اپنے لیے ایک چھوٹی سی دنیا بنا لیتے ہیں۔ جہازوں پر کام کے بعد سکون حاصل کرنے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مختلف سہولیات موجود ہوتی ہیں۔

بہت سے جہازوں پر جم، ٹیبل ٹینس، سوئمنگ پول جیسی سہولیات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ باربی کیو پارٹیاں اور دیگر تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔

چنتی اور ناگیشورا راؤ بتاتے ہیں کہ کچھ بڑے جہازوں پر کرکٹ میچ بھی کھیلے جاتے ہیں۔

چنتی کہتے ہیں، کہ ’جہاز پر ہر کسی کا اپنا کیبن ہوتا ہے۔ آپ شام کو جم جا سکتے ہیں۔ میس روم میں پارٹیاں کی جا سکتی ہیں۔ ہر 15 دن یا مہینے میں ایک بار باربی کیو پارٹیاں بھی ہوتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ فارغ وقت میں وہ ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں، فلمیں دیکھتے ہیں اور ورزش کرتے ہیں۔ سالگرہ اور خاص تہوار بھی منائے جاتے ہیں۔

سمندری لہروں پر دنیا گھومنے کا خواب جس کے لیے صارفین نے ہزاروں ڈالر ادا کیے مگر یہ سفر کبھی شروع نہ ہو سکاصومالی قذاقوں سے خوفزدہ پاکستانی اور ایرانی مچھیرے: ’یہ اپنی موت کی طرف خود چل کر جانے جیسا ہے‘صومالی قزاقوں کا اغوا شدہ جہاز پر موجود پاکستانیوں سمیت دیگر عملے کی رہائی کے لیے 30 لاکھ ڈالر کا مطالبہ: انصار برنی ٹرسٹبحری عملے کو سمندر میں بے سہارا چھوڑ دینے والےممالک میں انڈیا سرِ فہرست: ’دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، ہم صرف گھر جانا چاہتے ہیں‘

چنتی اور ناگیشورا راؤ کے مطابق ’ہم ہر ہفتے اتوار کو اپنے بڑے جہاز پر کرکٹ کھیلتے تھے۔ وہاں سوئمنگ پول، ٹیبل ٹینس اور جم موجود تھا۔ اگر ہم طویل عرصے تک سفر پر ہوتے تو ہر 15 دن بعد باربی کیو پارٹی کرتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب خشکی کہیں نظر نہ آ رہی ہو اور وہ سینکڑوں کلومیٹر گھر سے دور ہی کیوں نہ ہوں ایسے میں وہ جہاز کو اپنا دوسرا گھر بنا لیتے تھے۔

سمندر میں کام کرنے والا فرد اور ساحل پر انتظار کرتا خاندان

جتنی مشکل سمندر میں موجود شخص کی کہانی ہوتی ہے، اتنے ہی جذباتی اتار چڑھاؤ سے ساحل پر انتظار کرنے والے ان کے اہلِ خانہ بھی گزرتے ہیں۔

جہاز پر کام کرنے والے ناگیشورا راؤ کی اہلیہ اوشا رانی کہتی ہیں کہ ماضی میں معلومات صرف ہر دو ماہ میں ایک بار ملتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ اب ویڈیو کالز اور انٹرنیٹ کی سہولیات کے باعث صورتحال بدل گئی ہے لیکن خاندان سے دوری کی وجہ سے ہونے والی تنہائی اب بھی ویسی ہی ہے۔

ناگیشورا راؤ کی اہلیہ اوشا رانی نے کہا کہ ’گھر کے سربراہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات پیش آتی تھیں۔ لیکنہم ان سب کو برداشت کرتے ہیں۔‘

اوشا رانی اور ناگیشورا راؤ نے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی میرینز بنایا۔ ان میں سے ایک گذشتہ سات برس سے سمندر میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہا ہےجبکہ دوسرے بیٹے نے میرین کے طور پر شمولیت اختیار کی لیکن تین ماہ بعد ملازمت پسند نہ آنے پر وہ سافٹ ویئر کے شعبے میں چلا گیا۔

پیسے زیادہ تاہم مشکلات بے شمار

خطرات، تنہائی، اور مہینوں تک خاندان سے دور رہنے کے باوجود ہزاروں لوگ جہاز رانی کے پیشے کا انتخاب کرتے ہیں جو میرینز کے مطابق ان کے خاندان کے لیے مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ناگیشورا راؤ کہتے ہیں کہ ’آج میں خوش ہوں کیونکہ میں نے مرچنٹ نیوی میں خدمات انجام دی ہیں۔‘

ناگیشورا راؤ نے اپنے تعمیر کیے گئے دو منزلہ مکان، عمارت کے سامنے کھڑی گاڑی اور ہیوی بائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ مرچنٹ نیوی کی بدولت ہے۔

انھوں نے اپنے پیشے کو ایک جملے میں سمیٹ دیا۔

’ہم خاندان سے دور رہیں گے۔ ہمیں زیادہ پیسہ ملے گا۔ اور ہم دونوں چیزوں کے عادی ہو جائیں گے۔‘

سمندری لہروں پر دنیا گھومنے کا خواب جس کے لیے صارفین نے ہزاروں ڈالر ادا کیے مگر یہ سفر کبھی شروع نہ ہو سکاصومالی قزاقوں کا اغوا شدہ جہاز پر موجود پاکستانیوں سمیت دیگر عملے کی رہائی کے لیے 30 لاکھ ڈالر کا مطالبہ: انصار برنی ٹرسٹ’کبھی میزائل جہاز کے اوپر سے گزرتا ہے تو کبھی ملبہ جہاز کے قریب گِرتا ہے‘: آبنائے ہرمز پر پاکستانی اور دیگر ملاحوں نے کیا دیکھا؟صومالی قذاقوں سے خوفزدہ پاکستانی اور ایرانی مچھیرے: ’یہ اپنی موت کی طرف خود چل کر جانے جیسا ہے‘بحری عملے کو سمندر میں بے سہارا چھوڑ دینے والےممالک میں انڈیا سرِ فہرست: ’دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، ہم صرف گھر جانا چاہتے ہیں‘انڈین بحری جہاز کے کپتان نے آبنائے ہرمز میں کیا دیکھا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More