کیا لمبے اور گھنے بالوں کے لیے ان میں 100 بار کنگھی پھیرنا واقعی فائدہ مند ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jun 25, 2026

Getty Images

گھنے اور دلکش بالوں کا راز محض ایک چیز میں پوشیدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ آپ کے بالوں کی نوعیت سے لے کر انھیں کنگھی کرنے کے لیے استعمال ہونے والے برش کے ڈیزائن تک کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

جب سے میں اتنی بڑی ہوئی کہ اپنے بالوں کا سٹائل خود منتخب کر سکوں، تب سے میرے بال ہمیشہ کمر سے نیچے تک رہے۔ بچپن میں تو گویا مجھے ہر وقت انھیں برش کرنے کا شوق تھا۔۔ جاگتے ہی، ہر بار باتھ روم جاتے ہوئے اور یہاں تک کہ جب ہوم ورک سے ذرا سا وقفہ درکار ہوتا۔

میں بار بار اپنے بالوں میں برش پھیرتی رہتی اور ذہن میں آسٹریا کی شہزادی ایلیزبتھ ایمپریس سیسی کا تصور لاتی، جو انیسویں صدی میں اپنے غیرمعمولی لمبے بالوں کے لیے مشہور تھیں۔ ان کے بال میرے جیسے سیدھے اور بھورے تھے مگر لمبائی میں ٹخنوں تک پہنچتے تھے۔

کہا جاتا تھا کہ وہ ہر رات اپنے بال سو بار برش کرتی تھیں تاکہ وہ صحت مند رہیں۔ اس کہانی پر میرا یقین واقعی پختہ تھا یہاں تک کہ اس مضمون کی تحریر کے دوران معلوم ہوا، اور کچھ مایوسی بھی ہوئی، کہ یہ محض ایک افسانہ ہے جسے برسوں سے دادی نانی نسل در نسل دہراتی آئی ہیں۔

اب جبکہ میں بڑی ہو چکی ہوں، تو میرا معمول اس کے برعکس نہایت سادہ ہو گیا۔ میں اپنے بالوں کو اچھی طرح صرف نہاتے وقت برش کرتی ہوں اور بس۔۔۔۔ اس کے باوجود، میری نظر میں ان کی حالت، شکل و صورت اور احساس ویسا ہی ہے جیسا پہلے تھا۔

درحقیقت، اگرچہ وکٹورین دور کی یہ روایتی باتیں کچھ حقیقت کی جھلک ضرور رکھتی ہیں مگر بالوں کو کتنی بار برش کرنا چاہیے، اس کے پیچھے موجود سائنس کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ماہرینِ طبیعات سے لے کر ماہرینِ آرائشِ بال تک سب تحقیق میں مصروف ہیں۔

آخرکار، اس کا کوئی ایک سادہ جواب نہیں۔ یہ آپ کے بالوں کی قسم، برش، روزمرہ عادات اور دیگر کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

لہٰذا آئیے یہ جانتے ہیں کہ بالوں میں صحیح اور مؤثر طریقے سے کیسے کنگھی کی جائے۔

تاریخ میں کنگھی کا استعمالBBC

کنگھیاں اور برش اور بال سنوارنے کا عمل، انسانی تاریخ جتنا ہی قدیم ہے۔ انسان ہمیشہ صفائی اور زیبائش کے لیے اپنے اردگرد دستیاب اشیا کو بروئے کار لا کر مختلف اوزار بناتا آیا ہے۔

’ہیئر ہسٹورین‘ کی بانی ریچل گبسن کے بقول ’انسان نے ہر دور میں اپنے آس پاس موجود وسائل کو استعمال کر کے صفائی اور آرائش کے لیے آلات تیار کیے، اس لیے بالوں کو برش کرنا دنیا کے مختلف خطوں میں اہم رہا۔‘

بالوں کو سو بار برش کرنے کا تصور وکٹورین دور میں ابھرا، جب خواتین کے لمبے، گھنے بال ان کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ سماجی مقام کی بھی علامت سمجھے جاتے تھے۔ ریچل گبسن کے مطابق ان بالوں کو عورت کے ’تاج کی شان‘ سمجھا جاتا تھا اور یہ ان کی نسوانیت اور وقار کا اہم جزو تھے۔

اس زمانے میں بالوں کی دیکھ بھال ایک باقاعدہ عمل تھا: پہلے کنگھی کی مدد سے بالوں کو سلجھایا جاتا، ان میں سے گرد، آلودگی، جوئیں اور ان کے انڈے نکالے جاتے اور پھر قدرتی ریشوں جیسے اکثر سور کے بالوں سے بنے برش کے ذریعے انھیں ہموار کیا جاتا تاکہ قدرتی تیل بالوں کی جڑوں سے سروں تک یکساں پھیل سکے اور ان میں قدرتی چمک برقرار رہے۔

ریچل گبسن یہ بھی بتاتی ہیں کہ وکٹورین عہد کی خواتین خاص قسم کی چادریں (کیپس) استعمال کرتی تھیں تاکہ ٹوٹ کر گرنے والے بال کپڑوں پر نہ گِریں۔ وہ ان بالوں کو ایک برتن میں جمع کرتی تھیں اور بعد میں ان ہی سے ’ڈیڈ ہیئر ڈونٹس‘ تیار کیے جاتے، جنھیں بالوں کے مختلف سٹائل میں استعمال کیا جاتا تھا۔

انیسویں صدی کے اواخر میں اس روایت میں اہم تبدیلی آئی۔ سنہ 1898 میں امریکی ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والی افریقی نژاد ہیئر ڈریسر لیڈا نیومین نے مصنوعی ریشوں والا پہلا برش ایجاد کیا۔ اس ایجاد نے اس صنعت میں انقلاب برپا کر دیا کیونکہ اب برش نہ صرف سستے بلکہ آسانی سے تیار ہونے لگے۔

اس کے نتیجے میں بالوں کو برش کرنا عام ہوتا چلا گیا مگر اس کے ساتھ ہی اس موضوع سے متعلق کئی غلط فہمیاں بھی پھیل گئیں، جن میں سے بعض آج تک لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔

بالوں سے جڑی سائنسی حقیقتبالوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بہترین غذائیںبال گرنے کی عام وجوہات کیا ہیں اور کیا ہیئر ٹرانسپلانٹ ہی سب سے آسان حل ہے؟بالوں کی صحت اور نشوونما سے متعلق چند دلچسپ غلط فہمیاں اور ان کی حقیقتکیا ہیلمٹ پہننے سے بال گِرتے ہیں؟

یہ تصور کہ زیادہ برش کرنے سے بال تیزی سے بڑھتے ہیں، دراصل عام مگر غلط فہمی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ضرورت سے زیادہ برش کرنا بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سنہ 2025 کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اب بھی 46 فیصد سے زائد افراد اس خیال پر یقین رکھتے ہیں۔ تاہم امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ہیئر سیلون کی مالک نِکی کورزین واضح کرتی ہیں کہ بالوں کو زیادہ برش کرنے سے ان کی بڑھوتری میں کوئی تیزی نہیں آتی۔

سائنسی نقطۂ نظر سے بھی یہی بات سامنے آئی۔ محققین نے جب بالوں کو سنوارنے کے عمل کے اثرات کو باقاعدہ طریقے سے جانچنے کے لیے تجربات کیے، تو معلوم ہوا کہ حد سے زیادہ برش کرنا بالوں کو کمزور کر سکتا ہے اور بعض صورتوں میں بال جھڑنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ایک تحقیق میں بالوں کے آپس میں الجھنے اور پھر انھیں کھینچ کر سلجھانے کے عمل کی نقل کی گئی۔ اس سے پتا چلا کہ جب دو بال آپس میں گرہ بنا لیتے ہیں اور انھیں زور دے کر الگ کیا جاتا ہے تو بال اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اگرچہ صحت مند بال نسبتاً بہتر مزاحمت دکھاتے ہیں، مگر مسلسل دباؤ کے نتیجے میں ان میں بھی بیرونی سطح سے اندر کی جانب دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔

اس تحقیق کے شریک مصنف، آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے انجینئرنگ پروفیسر ڈیوڈ ٹیلر کے مطابق ’ہماری رائے میں یہی عمل دو مونھوں کی بنیادی وجہ ہے کیونکہ اس دوران بال غیرمعمولی طور پر مڑتا ہے اور عام حالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ برداشت کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ ہم بالوں کو برش کرتے ہیں، نقصان کا امکان بھی اتنا ہی بڑھتا ہے لیکن اصل مسئلہ برش کرنے کی تعداد سے زیادہ اس قوت کا ہے جو اس عمل میں استعمال کی جاتی ہے۔‘

اسی سلسلے میں، بالوں کے ٹوٹنے پر کیے گئے مختلف تجزیوں میں ٹی آر آئی پرنسٹن کے محقق ٹریفر ایونز نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بار بار سنوارنے سے بالوں میں ایک قسم کا ’تھکن کا نقصان‘ پیدا ہوتا ہے۔

تاہم ایونز یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ لیبارٹری میں حاصل ہونے والے نتائج کو مکمل طور پر روزمرہ زندگی پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، عام حالات میں برش کرنے سے ہونے والا نقصان زیادہ تر لوگوں کے لیے نہایت معمولی ہوتا ہے خاص طور پر جب اس کا موازنہ کیمیائی علاج یا ہیٹ سٹائلنگ جیسے عوامل سے کیا جائے۔

ان کے مطابق، بالوں کو برش یا کنگھی کرنے سے ہونے والا نقصان ’اکثر افراد کے لیے تقریباً غیر اہم‘ ہے اور مجموعی نقصان کے مقابلے میں ’سمندر میں چند قطروں‘ کے مترادف ہے۔

برش کرنے کے پوشیدہ فوائد

کورزین کے مطابق ’نرمی اور شعوری انداز میں کیا گیا برش کرنا نقصان دہ نہیں ہوتا اصل مسئلہ برش کرنے کا نہیں، بلکہ اس طریقے کا ہے جس سے یہ کیا جاتا ہے۔‘

باقاعدگی سے بالوں کو برش کرنے سے بڑی اور پیچیدہ گرہیں بننے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہیں اور بال الجھنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ یوں جب آپ بعد میں بال سنوارتے ہیں تو نہ زیادہ زور لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے، نہ زیادہ کھنچاؤ ہوتا ہے اور نہ ہی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

بایئو کیمسٹ جیئرڈ رینولڈز، جو ایک ہیئر کیئر برانڈ کے بانی بھی ہیں، اس حوالے سے کہتے ہیں ’ہفتے بھر بالوں کو نظرانداز کرنے اور پھر اچانک سختی سے برش کرنے کے بجائے، روزانہ ایک یا دو بار نرمی کے ساتھ باقاعدگی سے برش کرنا کہیں زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔‘

تاہم وہ اس بات کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ لیبارٹری میں کیے جانے والے تجربات روزمرہ زندگی کے حقیقی حالات کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔

باقاعدہ برش کرنے کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے گرے ہوئے بال، مردہ جلد کے ذرات اور کھوپڑی پر جمع ہونے والی گرد و آلودگی صاف ہو جاتی ہے۔ اگر یہ سب مواد مسلسل جمع ہوتا رہے تو کھوپڑی پر ایسا ماحول بن سکتا ہے جو خارش، جلن اور دیگر مسائل کا سبب بن جائے۔

بالوں کو صحیح طریقے سے کیسے برش کریں

بہترین طریقۂ کار کا انحصار آپ کے بالوں کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ امریکہ کے شہر میامی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ آرائشِ بال نکولا لنچ کے مطابق، زیادہ تر افراد جن کے بال سیدھے یا ہلکے لہردار ہوں (اور بہت زیادہ گھنگھریالے نہ ہوں)، ان کے لیے مناسب ہے کہ وہ ہفتے میں کم از کم تین بار بالوں کو برش کریں جبکہ ضرورت محسوس ہو تو یہ عمل روزانہ ایک سے دو بار بھی دہرایا جا سکتا ہے۔

رینولڈز اور کورزین بھی اسی حد تک اعتدال کی تائید کرتے ہیں۔

لنچ کے مطابق سیدھے یا لہردار بال رکھنے والوں کو گیلے بالوں میں برش کرنے سے احتیاط برتنی چاہیے۔ اگرچہ گیلے بال بظاہر مضبوط اور گھنے محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اس حالت میں زیادہ کمزور اور نازک ہوتے ہیں۔

اس کی وجہ بال کی ساخت میں پوشیدہ ہے۔ ہر بال بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، کورٹیکس، جو اس کا اندرونی حصہ ہے اور کٹیکل، جو بیرونی حفاظتی تہہ پر مشتمل ہوتا ہے۔

یہ تہہ کیراٹین کی باریک پرتوں سے بنی ہوتی ہے، وہی مادہ جس سے ناخن بنتے ہیں اور چھت کی ٹائلوں کی مانند ایک دوسرے پر جمی ہوتی ہے۔ جب سیدھے یا لہردار بال بھیگ جاتے ہیں تو ان پرتوں کے کنارے قدرے اٹھ جاتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں، جس سے بال میں وقتی لچک تو پیدا ہو جاتی ہے مگر ساتھ ہی وہ ٹوٹنے اور خراب ہونے کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس، جن افراد کے بال بہت زیادہ گھنگھریالے ہوں، ان کے لیے ہدایات مختلف ہیں۔ ایسے بالوں کو خشک حالت میں برش کرنا مناسب نہیں بلکہ انھیں صرف دھوتے وقت ہی نرمی کے ساتھ سلجھانا چاہیے۔

گھنگھریالے بالوں کی ساخت اور خصوصیات، سیدھے اور لہردار بالوں سے نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہیں، ایک ایسا پہلو جسے ماضی میں سائنسی تحقیق میں خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔

جارجیا، امریکا کے سپیلمن کالج میں کیمسٹری اور حیاتی کیمیا کی پروفیسر مشیل گینز، جو بالوں کی کیمیائی ساخت کا مطالعہ کرتی ہیں، کے مطابق انھوں نے گھنگھریالے بالوں کی ایک سائنسی درجہ بندی بھی مرتب کی۔ ان کے مشاہدے کے مطابق جیسے جیسے بال زیادہ گھنگھریالے ہوتے جاتے ہیں، ان میں موجود کیمیائی بندشیں بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔

یہ تبدیلی محض ساختی نہیں بلکہ عملی اثرات بھی رکھتی ہے، بالوں کی مضبوطی پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس بات کا تعین کرتی ہے کہ وہ کتنی آسانی سے ٹوٹ سکتے ہیں۔

پروفیسر مشیل گینز کے ابتدائی مشاہدات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گھنگھریالے بالوں کی بیرونی تہہ (کٹیکل) لہردار بالوں کے مقابلے میں زیادہ باریک، ایک دوسرے کے قریب اور کسی قدر کھردرے کناروں کی حامل ہوتی ہے۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے بال نمی کو دیر تک برقرار نہیں رکھ پاتے، چنانچہ وہ جلد خشک ہو کر آسانی سے الجھ جاتے ہیں اور نقصان کا شکار بن سکتے ہیں تاہم اس سلسلے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔

پروفیسر مشیل گینز اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں کہ معاشرتی فیشن اور بناوٹ کے رواج اکثر بالوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالتے ہیں۔ بار بار کنگھی یا برش کرنا، بال سیدھے کرنا، کیمیائی مواد کا استعمال یا اضافی بالوں کے ساتھ چوٹیاں بنانا۔۔۔ یہ سب عوامل مل کر بالوں کو کمزور اور متاثر کر سکتے ہیں۔

اسی لیے وہ تاکید کرتی ہیں کہ بالوں کی حفاظت کے لیے ایسی مصنوعات استعمال کی جائیں جو الجھے ہوئے بالوں کو آسانی سے سلجھانے میں مدد دیں تاکہ کنگھی یا برش کرتے وقت غیر ضروری کھچاؤ سے بچا جا سکے۔

ساتھ ہی یہ بات بھی بے حد اہم ہے کہ اپنے بالوں کی نوعیت کے مطابق برش یا کنگھی کا انتخاب کیا جائے۔ اگر بال گھنگھریالے یا پھر سیدھے اور لہردار بالوں کو گیلی حالت میں سنوارنا مقصود ہو تو سخت کنگھی کے بجائے نرم اور لچکدار برش استعمال کرنا بہتر ہے، جو خاص طور پر الجھن دور کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔

جبکہ خشک بالوں کے لیے ایسا برش مناسب رہتا ہے جس کے نرم ریشے بالوں کی جڑوں سے لے کر سروں تک قدرتی تیل کو یکساں پھیلا دیں اور کھوپڑی کے لیے بھی نرم ہوں۔ ایسے برش آج بھی عموماً اپنے اسی پرانے نام سے جانے جاتے ہیں، جو ماضی کی یاد دلاتا ہے، جب وہ واقعی جانوروں کے بالوں سے تیار کیے جاتے تھے۔

مزید یہ کہ دونوں خصوصیات کو یکجا کرنے کے لیے اب ایسے برش پر بھی کام ہو رہا ہے جس میں لمبے دانت اور نرم ریشے ایک ساتھ ہوں۔۔۔ لمبے دانت بالوں کو الگ کرتے ہیں اور نرم ریشے انہیں ہموار کر کے چمک اور حجم دیتے ہیں۔ اس امتزاج کو ماہرین نہایت موزوں قرار دیتے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو کنگھی اور برش انسانی تاریخ میں ہمیشہ مختلف شکلوں میں استعمال ہوتے آئے ہیں۔ قدیم زمانے کے سادہ اوزاروں سے لے کر آج کے جدید ڈیزائن تک اور بعید نہیں کہ آئندہ وقتوں میں، جب بالوں کی ساخت اور فطرت کو مزید گہرائی سے سمجھ لیا جائے گا، تو ان کی حفاظت کے لیے بالکل نئے اور بہتر طریقے سامنے آئیں۔

بالوں کی صحت اور نشوونما سے متعلق چند دلچسپ غلط فہمیاں اور ان کی حقیقتبالوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے بہترین غذائیںبھیڑ بکریوں کے بالوں سے بننے والے کپڑےکیا ہیلمٹ پہننے سے بال گِرتے ہیں؟کم عمری میں ہی بال سفید کیوں ہو جاتے ہیں اور اس کا علاج کیا ہے؟سر میں مسلسل خارش اور پھر تیزی سے گِرتے بال: ’پراسرار بیماری‘ جو متاثرہ افراد کو صرف ’تین دن میں گنجا‘ کر دیتی ہے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More