عضوِ تناسل مردوں کی صحت کا پیمانہ: وہ علامات جنھیں سنجیدگی سے لینا ضروری ہے

بی بی سی اردو  |  Jun 23, 2026

عضو تناسل کا درست کام نہ کرنا دل کے دورے، فالج، ذیابیطس اور ڈیمنشیا (یادداشت کی کمزوری) کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔ محققین کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ مریض اور ڈاکٹر دونوں اس بات کو سنجیدگی سے لیں۔

عضو تناسل کا درست کام نہ کرنا ایک خاموش وبا کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

مختلف سرویز کے مطابق 40 سال سے زیادہ عمر کے نصف سے زیادہ مرد اس مسئلے کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں اپنے قریبی لوگوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

اگر اس موضوع پر بات ہو بھی جائے تو اسے اکثر مذاق کے طور پر لیا جاتا ہے، نہ کہ آنے والی بیماری کی ابتدائی علامت کے طور پر۔ حالانکہ نئی تحقیق کے مطابق عضو تناسل اکثر مرد کی مجموعی صحت کا پیمانہ ہوتا ہے اور اس کا درست کام نہ کرنا کئی سنگین بیماریوں جیسے ذیابیطس، دل کا دورہ، فالج اور ڈیمنشیا کی پیشگی علامت ہو سکتا ہے۔

روم کی ٹور ورگاتا یونیورسٹی کے ماہر جنسیات ایمانیولے جینینی کے مطابق یہ ’کان پر بیٹھے پرندے‘ جیسا ہے، جو خطرے کی پہلے ہی نشاندہی کر دیتا ہے۔ اگر اس مسئلے کی بہتر جانچ پڑتال کی جائے تو ڈاکٹر مردوں کی صحت کو درپیش سنگین خطرات کو زیادہ بڑھنے سے پہلے ہی پہچان سکتے ہیں۔

لیکن بہت سے مرد اپنی جنسی صحت کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ان قیمتی مواقعوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اس مضمون میں وہ باتیں شامل ہیں جو آپ کو اس عام سے مسئلے کے بارے میں پتا ہونی چاہیں۔

Getty Imagesبہت سی طبی حالتوں کی طرح، عضو تناسل کے درست کام نہ کرنے کی اصل شرح اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آپ اسے کیسے بیان کرتے اور ناپتے ہیںجسمانی مسائل

بہت سی طبّی حالتوں کی طرح عضو تناسل کے درست کام نہ کرنے کی اصل شرح اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ آپ اسے کیسے بیان کرتے اور ناپتے ہیں۔

اسی وجہ سے مختلف تحقیقات میں بالغ مردوں میں اس کی شرح 3 فیصد سے لے کر 76.5 فیصد تک بتائی گئی ہے، جو ایک بہت بڑا فرق ہے۔

لیکن ایک بڑی اور تفصیلی تحقیق میں تقریباً 1200 افراد کا جائزہ لیا گیا، جس میں سوالناموں کے ذریعے معلوم ہوا کہ 40 سال کی عمر کے 39 فیصد مرد باقاعدگی سے کسی نہ کسی درجے کی کمزوری کا سامنا کرتے ہیں، جو 70 سال کی عمر میں بڑھ کر 67 فیصد ہو جاتی ہے۔

بہت سے لحاظ سے عضو تناسل کا درست کام نہ کرنا دراصل جسم کے نظام (خون کی نالیوں) کا مسئلہ ہوتا ہے۔

عضو تناسل کے اندر دو سپونجی (سوراخ دار) ساختیں ہوتی ہیں جنہیں کارپورا کیورنوسا کہا جاتا ہے، جو عام حالت میں نرم ہوتی ہیں۔

جب مرد میں جنسی خواہش پیدا ہوتی ہے تو دماغ کی طرف سے ایسے اشارے ملتے ہیں جو عضو تناسل کی شریانوں کے گرد موجود پٹھوں کو ڈھیلا کرتے ہیں، جس سے خون تیزی سے ان دونوں نلکیوں میں بھر جاتا ہے۔ جب یہ پھیلتی ہیں تو یہ ساختیں کھنچنے لگتی ہیں اور ان رگوں کو دبا دیتی ہیں جو خون کو باہر لے جاتی ہیں، جس سے خون اندر ہی رکا رہتا ہے۔

جیسے ہوا بھرنے سے غبارہ پھیلتا اور سخت ہوتا ہے، ویسے ہی عضو تناسل بھی سخت ہو جاتا ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے خون کا بہاؤ کم ہو جائے تو مرد کے لیے تناؤ (ایریکشن) حاصل کرنا یا برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اکثر یہ مسئلہ نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کے دوران ایڈرینالین اور کورٹیسول جیسے ہارمون بڑھ جاتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو سکیڑ دیتے ہیں اور اس عمل کو متاثر کرتے ہیں۔

زیادہ ذہنی دباؤ ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کو بھی کم کر سکتا ہے، جس سے جنسی خواہش کم ہو جاتی ہے اور جوش میں کمی آتی ہے۔ (خاص طور پر وہ افراد جنھیں غدود کی بیماریاں جیسے ہائپوگونادزم ہوتی ہیں، ان میں بھی ٹیسٹوسٹیرون کم بنتا ہے، اس لیے یہ بھی ایک سبب ہو سکتا ہے۔)

اس کے علاوہ ذہنی دباؤ کے باعث انسان کی توجہ بھی بٹ جاتی ہے، جس سے جنسی عمل پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

’جان بچانے کے لیے عضوِ تناسل کا 30 فیصد حصہ کاٹنا پڑا، اسی لیے سرجری کی ویڈیو بنانے کی اجازت دی‘عضو تناسل کھونے کا خوف اور ’ہوا سے موت‘: وہ پراسرار بیماریاں جن کی وضاحت سائنس بھی نہیں کر پائیدوائیوں پر خوراک کے ممکنہ اثرات کتنے سنگین ہو سکتے ہیں اور 'ویاگرا' کس پھل کے ساتھ نہیں لینی چاہیے؟جب ایک ڈاکٹر نے عضو تناسل کی ایستادگی میں کمی سے پریشان کسان میں بکرے کے خصیوں کی پیوندکاری کی

ارتقائی لحاظ سے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے: اگر کسی خطرے کے وقت ذہنی دباؤ جنسی خواہش کو روک دے تو جسم اپنی توانائی کو زندہ رہنے کے لیے بچا کر رکھتا ہے۔ جینینی کے مطابق ’اگر ماحول خطرناک ہو تو تولید نہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔‘

لیکن آج کے دور میں ہمیں اکثر ایسے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے جو جان کے لیے خطرناک نہیں ہوتے، اس لیے یہ حفاظتی نظام ضرورت سے زیادہ بار فعال ہو جاتا ہے۔

دل اور دماغ کے مسائل

بہت سے معاملات میں، عضو تناسل کا درست کام نہ کرنا وسیع تر صحت کے مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

مثال کے طور پر یہ ایتھروسکلروسس کی وجہ سے ہو سکتا ہے، ایک ایسی حالت جس میں خون کی نالیاں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں، جس سے دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

چونکہ عضو تناسل کی شریانیں جسم میں سب سے باریک ہوتی ہیں، اس لیے یہ سب سے پہلے متاثر ہوتی ہیں اور اس طرح یہ مسئلہ دل کی بیماری کی ابتدائی علامت بن سکتا ہے۔

154,794 افراد کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ایک حالیہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جن مردوں کو عضو تناسل کے مسائل ہوتے ہیں ان میں دل کی شریانوں کی بیماری ہونے کا امکان 59 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور فالج کا خطرہ 34 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

برطانیہ کی مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے تولیدی سائنس کے ماہر مائیکل کیرول کے مطابق ’خون کی نالیوں کی اچھی صحت کی ایک نشانی مضبوط تناؤ (ایریکشن) ہے۔‘

Getty Imagesعضو تناسل کے مسئلے میں مبتلا نصف سے زیادہ مرد شرمندگی اور گھبراہٹ کی وجہ سے ڈاکٹر سے مدد لینے سے بچتے ہیں

کچھ ابتدائی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ عضو تناسل کی خراب صحت ذہنی کمزوری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

تائیوان کی ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ جن مردوں میں عضو تناسل کا مسئلہ پایا گیا، ان میں سات سال کے دوران ڈیمنشیا ہونے کا امکان 68 فیصد زیادہ تھا۔

عضو تناسل کی طرح ہمارا دماغ بھی صحیح کام کرنے کے لیے اچھے خون کے بہاؤ پر انحصار کرتا ہے، جو اسے توانائی پہنچاتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے۔

ذیابیطس

ذیابیطس کے خطرے میں مبتلا افراد کے لیے عضو تناسل کے مسئلے پر نظر رکھنا خاص طور پر اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بیماری مختلف طریقوں سے خون کی گردش اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔

مثال کے طور پر خون میں شوگر کا اچانک بڑھ جانا، جو اس بیماری کے غلط کنٹرول میں عام بات ہے، خون کی نالیوں کی دیواروں میں موجود پروٹین کے ساتھ اضافی گلوکوز کے چپکنے کا سبب بنتا ہے۔ اس سے خون کی نالیاں اپنی لچک کھو دیتی ہیں، جسے گلیکیشن کہا جاتا ہے۔

ایتھروسکلروسس کی طرح یہ بھی خون کے بہاؤ کو کم کر دیتا ہے اور عضو تناسل کی باریک نالیاں سب سے پہلے متاثر ہوتی ہیں۔

بارسلونا کے سانت پاؤ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق بوگدان ولاخو کے مطابق ’ذیابیطس اور عضو تناسل کے مسئلے کے درمیان تعلق بہت مضبوط ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس والے مردوں میں اس مسئلے کے ہونے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہوتا ہے، جنھیں ذیابیطس نہیں ہوتی۔‘

ولاخو کی حالیہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن افراد کو ذیابیطس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ہوتا ہے، ان میں اعصابی نقصان (خاص طور پر ہاتھوں اور پیروں میں) ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جسے پیریفرل نیوروپیتھی کہا جاتا ہے۔

ان میں آنکھوں کی بیماری (ریٹینوپیتھی) کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے، جو اندھے پن کا سبب بن سکتی ہے اور زخموں کے بھرنے میں بھی مشکل پیدا کر سکتی ہے، جو بعض اوقات جسم کا حصہ کاٹنے تک کی نوبت لا سکتی ہے۔

اس کے باوجود ذیابیطس کے مریضوں میں اس مسئلے کی باقاعدہ جانچ عام طریقہ کار نہیں ہے۔

بارسلونا یونیورسٹی کے اینڈوکرائنولوجسٹ سانتیاگو مارٹینیز کے مطابق، ’ثبوت موجود ہیں کہ صحت کے ماہرین اس مسئلے کے بارے میں مریضوں سے بات نہیں کرتے۔‘

ممکنہ علاج

برطانیہ میں دی یورولوجی فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ عضو تناسل کے مسئلے میں مبتلا نصف سے زیادہ مرد شرمندگی اور گھبراہٹ کی وجہ سے ڈاکٹر سے مدد لینے سے بچتے ہیں، اور 20 فیصد نے تو یہاں تک کہا کہ وہ ایک مہینہ بیئر پینا چھوڑنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اس مسئلے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

لیکن کیرول کے مطابق ایسے تمام مردوں کو طبی مدد لینی چاہیے۔ اس سے نہ صرف ایک بڑی پریشانی اور ذہنی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے بلکہ آپ کی مجموعی جسمانی صحت کے بارے میں ایک اہم بات چیت بھی شروع ہو سکتی ہےجو بعض اوقات جان بچانے والی ثابت ہو سکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’جلد علاج کرنا بہت ضروری ہے۔‘

ویسے بھی عضو تناسل کا یہ مسئلہ لاعلاج نہیں ہے۔

ویاگرا (سیلڈینافل) جیسی ادویات عضو تناسل کی خون کی نالیوں کو پھیلا دیتی ہیں اور کچھ غیر رسمی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ جو مریض اپنی جنسی زندگی بہتر بنانے کے لیے یہ دوا لیتے ہیں، ان کی دل کی صحت میں بھی بہتری آ سکتی ہے، جس میں دل کی ناکامی کے خطرے میں کمی شامل ہے۔

اگرچہ ابھی یہ بات طبی تحقیقات میں مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئی۔ (ویاگرا اصل میں ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے دل کی دوا کے طور پر تیار کی گئی تھی، بعد میں جنسی صحت کے حوالے سے اس کا معروف اثر سامنے آیا۔)

ایک تحقیق کے مطابق یہ ادویات ڈیمنشیا کے خطرے کو بھی کم کر سکتی ہیں، جس میں 885,000 سے زیادہ مریضوں کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ اس سے الزائمر کی بیماری کا خطرہ تقریباً آدھا ہو جاتا ہے۔

اگر کم از کم آپ اس مسئلے کے بارے میں ڈاکٹر سے بات کریں تو وہ دل کی بیماری کے عام خطرات جیسے ہائی بلڈ پریشر اور ایتھروسکلروسس کی جانچ کر سکتے ہیں اور موٹاپے جیسے مسائل کے بارے میں مشورہ دے سکتے ہیں جو دل کی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔

بعض صورتوں میں خوراک میں تبدیلی اور ورزش جیسے آسان اقدامات بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خون میں شوگر کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

تاہم، مارٹینیز اور ولاخو کے مطابق اس بات پر ابھی مزید تحقیق درکار ہے کہ یہ علاج عضو تناسل کے مسئلے کے ساتھ ساتھ دیگر پیچیدگیوں کے خطرے کو بھی کم کرتے ہیں یا نہیں۔

اس کے علاوہ اس مسئلے کی وجوہات معلوم کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عادتوں جیسے پورن دیکھنے کی لت اور ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

کیرول کہتے ہیں ’اگر کسی شخص کو ذیابیطس یا دل کی بیماری ہو تو اس کا تعلق سمجھنا اور علاج کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لیکن اگر طرزِ زندگی جیسے شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کے ساتھ نفسیاتی یا رویے کے عوامل بھی شامل ہوں، جیسے زیادہ پورن دیکھنا، تو اس کا علاج زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اکثر ایسے مرد اپنی عادتیں بتانے سے ہچکچاتے ہیں۔‘

کھوئی ہوئی ہڈی

آج کی صحت کے لحاظ سے ان نتائج کی اہمیت کے علاوہ جینینی اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ عضو تناسل کا درست کام کرنا مجموعی صحت کی علامت ہونا ارتقا کے نقطۂ نظر سے کیا معنی رکھتا ہے۔

انسان اس لحاظ سے کچھ مختلف ہیں کہ وہ عضو تناسل کو سخت کرنے کے لیے خون کے بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں۔

زیادہ تر دوسرے بندر نما جانوروں، جن میں ہمارے قریبی رشتے دار چمپینزی بھی شامل ہیں، میں ایک ہڈی ہوتی ہے جسے بیکولم کہا جاتا ہے۔

یہ ہڈی ضرورت کے وقت باہر آتی ہے اور عضو تناسل کو سہارا دیتی ہے، جس سے وہ سخت رہتا ہے۔ اس وجہ سے ان کی جنسی کارکردگی کا ان کی مجموعی صحت سے وہ تعلق نہیں ہوتا جو انسانوں میں ہوتا ہے۔

تو پھر انسانوں میں یہ ہڈی کیوں ختم ہو گئی اور اس کے نتیجے میں جنسی کمزوری اور حساسیت کیوں بڑھ گئی؟

یہ سوال کئی ماہرینِ ارتقا کو الجھائے رکھتا ہے۔

جینینی کا خیال ہے کہ انسانوں میں یہ ہڈی اس لیے ختم ہوئی تاکہ عورتیں بہتر طور پر یہ پہچان سکیں کہ کون زیادہ صحت مند ساتھی ہے اور کون بہترین جینز اپنی اولاد کو منتقل کرے گا۔

جینینی کہتے ہیں ’یہ عجیب بات ہے کہ ہم نے تولید کے لیے سب سے اہم ہڈی کھو دی، کیونکہ ہمارا ردِعمل غیر متوقع ہوتا ہے۔ لیکن اسی وجہ سے یہ دائمی بیماریوں کی ایک بہترین علامت بھی بن جاتی ہے۔‘

اپنے جنسی عدم اطمینان کے بارے میں کُھل کر بات کرنے کا میرا تجربہ کیسا رہا؟جب ایک ڈاکٹر نے عضو تناسل کی ایستادگی میں کمی سے پریشان کسان میں بکرے کے خصیوں کی پیوندکاری کیویاگرا استعمال کرنے والے مردوں میں ’الزائمر کا خطرہ کم ہو سکتا ہے‘دوائیوں پر خوراک کے ممکنہ اثرات کتنے سنگین ہو سکتے ہیں اور 'ویاگرا' کس پھل کے ساتھ نہیں لینی چاہیے؟عضو تناسل کھونے کا خوف اور ’ہوا سے موت‘: وہ پراسرار بیماریاں جن کی وضاحت سائنس بھی نہیں کر پائی’جان بچانے کے لیے عضوِ تناسل کا 30 فیصد حصہ کاٹنا پڑا، اسی لیے سرجری کی ویڈیو بنانے کی اجازت دی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More