مسعود پزشکیان کی موجودگی میں شہباز شریف کو ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام پر وضاحت کیوں دینا پڑی؟

بی بی سی اردو  |  Jun 24, 2026

EPA

اسلام آباد میں منگل کے روز پاکستان اور ایران کے بیچ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات اور اِس دوران شہباز شریف کی جانب سے کی گئی گفتگو اور دورے کے اختتامی مرحلے پر پاکستانی وزیر اعظم اور ایرانی صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جو معاملہ بارہا سُننے کو ملا وہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق تھا۔

اسلام آباد میں وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ (امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی) مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ ’یہ معاملہ کبھی زیر غور آیا نہ ہی ایجنڈے کا حصہ تھا۔‘

اس ابتدائی گفتگو کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کی، جسے براہ راست نشر کیا گیا۔

شہباز شریف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں بلا خوفِ تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بیلسٹک میزائل کبھی بھی ایران اور امریکہ کے درمیان زیرِ بحث موضوع نہیں رہا۔ یہ معاملہ کبھی میز پر نہیں آیا اور نہ ہی اس کا ایم او یو میں کوئی ذکر موجود ہے۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر وضاحتوں کے بعد بہت سے صارفین یہ سوال کرتے نظر آئے کہ آخر وہ کیا معاملہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم ایرانی وفد کے دورے کے دوران اس معاملے پر بارہا گفتگو کر رہے ہیں۔

بدھ کو ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفننگ کے دوران کہا کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر ایرانی صدر کے ساتھ پریس ٹاک میں وضاحت کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس28 فروری کی صبح ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کا اعلان کرتے ہوئے جہاں یہ کہا تھا کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی وہیں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی ہدف قرار دیا تھا۔‘

امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران ’اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور ایسے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے بہت اچھے دوستوں اور یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

امریکہ کا اصرار رہا ہے کہ ایران کے بیلِسٹِک میزائل پروگرام پر بھی حدود مقرر کی جائیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اِس کے پیچھے بڑی حد تک ایران کے بارے میں اسرائیل کے تحفظات ہیں۔

قومی اسمبلی میں ’ایرانی بیلسٹک میزائلوں پر 60 روز میں گفتگو‘ کا تذکرہ

اس معاملے کی بظاہر ابتدا منگل (23 جون) کی صبح اُس وقت ہوئی جب وزیر اعظم پاکستان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران ’ایرانی بیلسٹک میزائلوں پر آئندہ 60 روز میں گفتگو‘ کا تذکرہ کیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان نہ صرف جنگ بندی ہو چکی بلکہ اگلے 60 دن میں تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے اور دوسرے معاملات کے اوپر چاہے وہ جوہری اثاثے ہیں، چاہے وہ بیلسٹک میزائلز ہیں، چاہے اُن کے منجمد اثاثے ہیں، اُن کے اوپر گفتگو ہو گی اور پوری امید ہے کہ یہ ایم او یو ساٹھ دن کے اندر ایک دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کرے گا اور دنیا میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہو گی۔‘

حکومت پاکستان کے آفیشل ایکس ہینڈل سے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی اس تقریر کے مختصر کلپس بھی منگل کی صبح پوسٹ کیے گئے تھے۔

بی بی سی اُردو نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی کو شہباز شریف کا یہ کلپ بھیج کر وضاحت چاہی کہ آیا قومی اسمبلی میں بیلسٹک میزائل کا تذکرہ محض زبان کی لغزش تھی اور کیا اسی وجہ سے اب وہ ایرانی وفد کے سامنے اس کی وضاحت کر رہے ہیں؟

عطا اللہ تارڑ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ جبکہ مشرف زیدی نے گذشتہ روز پاکستانی و ایرانی وفد کی ملاقات کے دوران شہباز شریف کی جانب سے کی گئی گفتگو کا ایک کلپ شیئر کیا جس میں وہ اسی معاملے کی وضاحت کر رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے براہ راست بی بی سی اُردو کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں پر مستقبل میں کسی گفتگو کا کوئی حوالہ نہیں اور بعدازاں ایرانی وفد کے سامنے اپنی وضاحت میں بھی شہباز شریف نے بارہا اس کا تذکرہ کیا۔

ایران کا اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کا دفاع

وزیر اعظم پاکستان کی اس تقریر کے چند ہی گھنٹے بعد ایرانی وزارت خارجہ کا بھی اسی معاملے پر ایک بیان بھی سامنے آیا تاہم اس میں کسی بھی موقع پر پاکستان یا وزیر اعظم شہباز شریف کا حوالہ نہیں تھا۔

ایرانی سرکاری خبررساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سوال ہوا کہ آیا سوئٹزرلینڈ میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان حالیہ مذاکرات کے دوران ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں پر بات ہوئی، یا مستقبل میں ہو سکتی ہے؟ اس پر ترجمان نے جواب دیا کہ ’ہرگز نہیں۔‘

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کبھی بھی ہمارے مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہیں اور نہ ہی یہ کسی فریق کے ساتھ آئندہ مذاکرات کا موضوع بنیں گی۔‘

بعد ازاں ارنا کے مطابق ایرانی صدر نے اس امکان کو مسترد کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر بھی بات ہو گی۔

’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟کیا ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے؟’اسرائیل سے زیادہ خلیجی ممالک پر میزائل حملے‘: حالیہ جنگ میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور حکمت عملی میں کیا تبدیلی آئی؟کیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟شہباز شریف نے کیا وضاحت دی؟

منگل کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد پاکستان پہنچا تھا۔ اسلام آباد میں وفود کی سطح پر ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایک معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سب کو یہ پیغام دیا کہ ہمارے بھائی مسعود پزشکیان ہماری دعوت پر پاکستان آ رہے ہیں اور یہ ہمارے لیے انتہائی خوشی کا موقع ہے۔ ہم سب بہت مسرور ہیں اور بے حد خوش ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ آپ مشکلات سے مزید مضبوط ہو کر نکلتے ہیں اورآپ ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی بن جاتے ہیں۔‘

’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ (امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی) مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ یہ معاملہ نہ کبھی زیر غور آیا اور نہ ہی ایجنڈے کا حصہ تھا اور یہاں تک کہ ایران اس سے متعلق بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا یہ کوئی تاثر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بارے میں کسی قسم کا کوئی شبہ یا دوسرا خیال نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا بھر میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ عظیم ایرانی قوم جنگ کی تباہ کاریوں سے نکل کر آگے بڑھے۔ میں یہ بات بھی نہایت وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ بیلسٹک میزائل کے معاملے پر دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، یعنی کچھ ممالک تو بیلسٹک میزائل رکھ پائیں مگر ایران کو اس کی اجازت نہ ہو۔ اس قسم کی امتیازی سوچ کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔‘

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’لہٰذا میں یہ انتہائی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بطور ثالث میرے دستخط سے طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل کا قطعاً کوئی ذکر نہیں اور یہی ہمارا واضح اور حتمی مؤقف ہے۔ اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے۔‘

اس ابتدائی گفتگو کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس بھی کی، جسے براہ راست نشر کیا گیا۔

پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں کی گفتگو کے بعد سوال و جواب کا مختصر سلسلہ ہوا۔

EPA

پہلا سوال پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے نمائندے کی جانب سے صدر مسعود سے پوچھا گیا کہ کیا ایران پاکستان کی جانب سے ادا کیے جانے والے ثالثی کے کردار سے مطمئن ہے؟ اس سوال کا جواب مسعود پزشکیان کی جانب سے مثبت انداز میں دیا گیا اور پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی۔

دوسرا سوال ایرانی میڈیا سے وابستہ صحافی کا تھا۔ انھوں نے شہباز شریف سے پوچھا کہ ’میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آیا کسی موقع پر آپ نے پاکستانی پارلیمنٹ میں ایرانی دفاعی صنعت اور ایران کی میزائل صلاحیت کے حوالے سے کوئی ریمارکس دیے کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیلسٹک میزائل اور جوہری صلاحیتوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا؟‘

شہباز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے قومی اسمبلی میں ایک بیان دیا، ایک مختصر بیان اور اس میں میں نے پاکستانی عوام، ارکانِ پارلیمنٹ اور سرکاری حکام کو مبارکباد دی کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم ایک نہایت اہم سنگِ میل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ کامیابی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی صورت میں حاصل ہوئی، جس پر میرے انتہائی عزیز بھائی ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے تہران میں دستخط کیے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غالباً اس وقت فرانس میں تھے جبکہ میں نے بطور ثالث یہاں اسلام آباد میں اس دستاویز پر دستخط کیے۔ میں نے یہ بھی آگاہ کیا کہ میری درخواست پر صدر مسعود پزشکیان پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور پوری پاکستانی قوم ان کا پرتپاک استقبال کرے گی۔‘

'جہاں تک بیلسٹک میزائل کا سوال ہے تو میں بلا خوفِ تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بیلسٹک میزائل کبھی بھی ایران اور امریکہ کے درمیان زیرِ بحث موضوع نہیں رہا۔ یہ معاملہ کبھی میز پر نہیں آیا اور نہ ہی اس کا ایم او یو میں کوئی ذکر موجود ہے۔ اگر آپ اس معاہدے کی شقوں کا جائزہ لیں تو اس میں بیلسٹک میزائل کا کہیں بھی ذکر نہیں ملتا۔ لہٰذا میں یہ بات بغیر کسی ابہام کے بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں۔‘

’اگر ہمارا برادر ملک ایران اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بیلسٹک میزائل رکھتا ہے، تو دنیا میں کئی دیگر ممالک بھی ایسے ہیں جن کے پاس اسی نوعیت کے میزائل موجود ہیں۔ پھر ایران کے بیلسٹک میزائل پر اعتراض کیوں کیا جائے؟ اس طرح کا رویہ ایک غیر ضروری تنازع کو جنم دے گا، جو بلا وجہ تاخیر، شکوک و شبہات اور سوالات پیدا کرے گا۔ آخر میں، میں دوٹوک انداز میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بیلسٹک میزائل نہ کبھی زیرِ بحث ایجنڈے کا حصہ تھے، نہ ہی وہ اس ایم او یو کا حصہ ہیں اور نہ ہی یہ معاملہ کبھی میز پر آیا۔‘

شہباز شریف نے آخر میں ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کروائی کہ دنیا میں بہت سے سپوائلرز ہیں جو اس معاہدے پر خوش نہیں ہوں گے اور جو اس پر شکوک اور کفیوژن پیدا کریں گے تاہم انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران، پاکستان اور دیگر ثالثی والے ممالک ایسے سپائلرز کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوں گے۔

اس کے جواب میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’میں اس بات کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ آپ (شہباز شریف) نے کہا، ہمارا میزائل پروگرام مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں تھا۔‘

ایرانی میزائل پروگرام پر اعتراضات کیوں؟

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کو اس حوالے سے خدشات ہیں کہ ایران مفاہمتی یادداشت میں مجوزہ 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو کے فنڈ کو اپنی فوجی صلاحیت کی بحالی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اس معاہدے میں تہران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو خلیجی ریاستوں کے لیے ایک تشویش کا باعث ہے کیونکہ جنگ کے دوران ان تمام ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم تہران کا خیال ہے کہ خلیجی ریاستوں نے امریکی جنگی کارروائیوں کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کی تھیں جبکہ وہ امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کر رہی تھیں، اس لیے ایران انھیں جائز اہداف سمجھتا ہے۔

چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر دوسرے ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے پاس ان کا نہ ہونا غیر منصفانہ ہوگا۔

پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر دوسرے ممالک کے پاس یہ (میزائل) موجود ہیں تو پھر ان (ایران) کے پاس میزائل نہ ہونا تھوڑا غیر منصفانہ ہے۔‘

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اگر سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں اور ان سب کے پاس کچھ نہ کچھ موجود ہے تو میں کہوں گا کہ متناسب سطح پر یہ ٹھیک ہے۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہاتھا کہ تہران کے ساتھ خطے میں تقریباً چار ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے معاہدے کے بعد بھی امریکہ کچھ عرصے تک خلیج میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ اپنی فوج کو خلیج میں ’کچھ عرصے تک‘ رکھے گا۔

’اسرائیل سے زیادہ خلیجی ممالک پر میزائل حملے‘: حالیہ جنگ میں ایران کی دفاعی صلاحیت اور حکمت عملی میں کیا تبدیلی آئی؟’چلتا پھرتا مردہ‘: ماہی گیر کا رُوپ دھار کر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے پرزے یمن پہنچانے کا الزام، پاکستانی شہری کو 40 برس قید کی سزاکیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟’سات منٹ میں تل ابیب‘ تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے والا ایرانی سجیل میزائل کتنا خطرناک ہے؟’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟’خیبر شکن‘: ایران کا نیا بیلسٹک میزائل کن خصوصیات کا حامل ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More