سرگودھا کی آٹھ سالہ منتہا زہرا جو گھر سے چیز لینے نکلیں مگر زندہ نہ لوٹ سکیں: ’بچی دُکان میں داخل ہوتی نظر آئی، مگر واپس نہ نکلی‘

بی بی سی اردو  |  Jun 23, 2026

اس رپورٹ میں قتل کے جرم سے متعلق تفصیلات ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں پولیس نے ایک آٹھ سالہ بچی کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کی غرض سے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے کر دیا ہے۔

سرگودھا کے تھانہ سٹی میں اس واقعے کی ایف آئی آر آٹھ سالہ منتہا زہرہ کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔ یہ ایف آئی آر قتل اور بچوں کے ساتھ ریپ سے متعلق دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔

والد کی جانب سے مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو اس کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے چاروں نامزد ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

تاہم اس کیس کی ایف آئی آر میں درج تفصیلات اور پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں کچھ فرق ہے۔

سرگودھا پولیس اس کیس کی کیا تفصیلات بتاتی ہے؟Getty Imagesفائل فوٹو

ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بچی صبح گیارہ بجے کے قریب اپنے گھر سے نکلی تھی اور قریب واقع ایک دکان پر گئی جو ایک جنرل سٹور تھا۔

اُن کے مطابق منتہا کے گھر اور دکان میں تقریباً 200 فٹ کا فاصلہ ہے اور جس عمارت میں یہ جنرل سٹور تھا وہ تین منزلہ عمارت ہے، جس کے گراونڈ فلور پر جنرل سٹور ہے، جس کے بعد پہلی اور دوسری منزل ہے اور پھر عمارت کی چھت ہے۔

صہیب اشرف کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق پیر کے روز ’صبح 11.15 بجے منتہا اپنے گھر سے نکلی اور 11.25 منٹ پر اُس کے والدین کو محسوس ہوا کہ بچی دس منٹ گزرنے کے باوجود واپس نہیں آئی ہے۔ گھر والوں نے فوراً ہی بچی کو ڈھونڈنا شروع کر دیا اور اگلے لگ بھگ ایک گھنٹے تک یہ لوگ بچی کو اپنی مدد آپ کے تحت ڈھونڈتے رہے۔‘

ڈی پی او سرگودھا کے مطابق جب والدین کو بچی نہیں ملی تو انھوں نے 12.45 بجے پولیس سے پہلا رابطہ کیا اور گمشدگی کی اطلاع دی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’جہاں منتہا کا گھر ہے، اُس گلی میں صرف ایک کیمرہ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کیمرے کی فوٹیج حاصل کی جس میں نظر آیا کہ بچی گھر کے قریب واقع دکان کے اندر تو گئی لیکن وہ اُس دکان سے باہر نہیں آئی۔‘

اُن کے مطابق ’فوٹیج میں ایک جگہ پر منتہا کی عمر کی ایک بچی کو ایک خاتون کے ہمراہ دکان سے نکلتے دیکھا گیا، لیکن یہ ویڈیو زیادہ کلیئر نہیں تھی جس پر ابتدائی سوال یہ پیدا ہوا کہ کہیں بچی کسی خاتون کے ساتھ تو نہیں چلی گئی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس موقع پر پولیس نے دکان اور گراؤنڈ فلور کی تلاشی کے بعد اُوپر والی منزل کی تلاشی بھی لینا شروع کر دی۔

’پہلی منزل کو چیک کرنے کے بعد جب ایس ایچ او بمعہ اہلکار دوسری منزل پر پہنچے تو وہاں خون کے دو، تین قطرے پڑے نظر آئے۔ اِسی منزل پر ایک واش روم تھا اور جب اس کو کھولا گیا تو وہاں مزید خون کے نشانات تھے جبکہ ساتھ موجود گٹر پر ایک چھری پڑی ہوئی تھی اور وہاں قریب ہی پچاس روپے بھی پڑے ہوئے تھے جو غالبا بچی گھر سے لے کر چیز لینے آئی تھی۔‘

ڈی پی او کے مطابق اس منزل پر ایک سیڑھی موجود تھی جو چھت کی جانب جاتی ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ چھت کی چابی دکان پر کام کرنے والے ایک لڑکے کے پاس ہوتی ہے۔

’وہ لڑکا اس وقت دکان پر موجود نہیں تھا، مگر ہماری ٹیم نے طریقے سے اسے ٹریپ کر کے دکان پر بلایا اور جب وہ وہاں آ گیا تو پولیس اسے ساتھ لے کر اوپر گئی۔‘

’جب پولیس چھت پر گئی تو یہ ایک کُھلی چھت تھی جس کے ایک طرف چھوٹا سا شیڈ بنا ہوا تھا جہاں بوریاں اور کاٹھ کباڑ موجود تھا، جب پولیس نے وہ بوریاں ہٹائیں تو اس کے پیچھے سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔‘

ڈی پی او نے دعویٰ کیا کہ دکان کے ملازم، جس کے پاس چھت کی چابی موجود تھی، کی چپل پر بھی خون کے معمولی قطرے موجود تھے اور اس کو وہیں موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔

لاپتہ بیٹی، گمنام کال اور تین ملزمان کی گرفتاری: جھنگ میں پُراسرار حالات میں ہلاک ہونے والی 17 سالہ ایشال فاطمہلاہور میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی موت: ملزمان کے خلاف مقدمے میں مبینہ گینگ ریپ اور اسقاط حمل کے بعد قتل کی دفعات شاملڈاکٹر وردہ کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے‘ ہلاک، ایبٹ آباد پولیس کا دعویٰبلوچستان میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والی پولیس کانسٹیبل ملک ناز کون تھیں؟

ڈی پی او سرگودھا صہیب اشرف نے اس کیس کی ابتدائی تفتیش سے متعلق بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم نے بتایا ہے کہ ’بچی چیز لینے آئی تو میں اُسے کہا اگر تم نے چیز لینی ہے تو اُوپر پڑی ہے، میں نے اسے اُوپر بھیج دیا۔ جب وہ اُوپر چلی گئی تو وہاں میں نے ریپ کی کوشش کی لیکن اس دوران بچی نے شور مچا دیا جس پر میں نے چھری سے اسے کاٹ دیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا ارادہ تھا کہ جب رات کو دکان بند ہو گی تو وہ لاش کو وہاں سے نکال کر کہیں پھینک دے گا۔

ڈی پی او صہیب اشرف کے مطابق ’بچی کا پوست مارٹم ہو چکا ہے اور ڈی این اے سیمپلز پنجاب فرانزک لیب بھیجوا دیے گئے ہیں۔‘

صہیب اشرف نے کہا کہ ابھی یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی ہے کہ آیا بچی کا ریپ ہوا یا نہیں اور اس کا حتمی تعین مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈی این اے رپورٹس کے بنیاد پر ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے بعد یہ کیس اب سی سی ڈی کے حوالے کر دیا ہے اور وہی مزید تفتیش کریں گے اور ملزمان کا ریمانڈ لیں گے۔

ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟Getty Images

تاہم ایف آئی آر میں درج تفصیلات ڈی پی او سرگودھا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات سے کچھ مختلف ہیں۔

ایف آئی آر میں والد کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اُن کی بیٹی منتہا 22 جون (پیر) کو دن 11 بجے کارخانہ بازار میں واقع ایک کریانہ سٹور سے چیز لینے کے لیے نکلی تھی اور یہ سٹور اُن کے گھر کے قریب ہی واقع تھا۔

والد کے مطابق اُن کی بیٹی ’اکثر وہاں سے چیز لینے جاتی تھی، کچھ دیر گزری اور میری بیٹی واپس نہ آئی تو مجھے فکر لاحق ہوئی جس پر میں کریانہ سٹور گیا اور دکان مالک سے اپنی بیٹی کی بابت پوچھا تاہم اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق کوئی جواب نہ ملنے پر والد (دیگر افراد کے ہمراہ) دکان کے اوپر تیسری منزل پر پہنچے تو وہاں موجود مرکزی ملزم (دکان پر کام کرنے والا ملازم)، جس نے قمیض نہیں پہنی ہوئی تھی، انھیں دیکھ کر اپنے ہاتھ میں موجود چھری پھینک کر چھتوں کے ذریعے فرار ہو گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ جب اپنی بیٹی کے پاس پہنچے تو وہ آخری سانسیں لے رہی تھی۔

والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں دعویٰ کیا کہ دو دن قبل اُن کی حساب کتاب کے معاملے پر دکان مالک سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر انھیں دھمکی دی گئی کہ ’میں تمہیں ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ ساری عمر یاد رکھو گے۔‘

والد نے پولیس سے استدعا کی کہ ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

والد کا ایف آئی آر سے متعلق کیا کہنا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بچی کے والد نے کہا کہ ابتدائی تلاش کے دوران وہ خود دکان کی عمارت کے اُوپر کی منزل پر گئے تھے مگر انھیں اپنی بچی نہیں ملی تھی۔

انھوں نے کہا کہ جب اُن کے کال کرنے پر پولیس آئی تو انھوں نے پہلے کیمرے کی فوٹیج دیکھی اور پھر اپنے اعلیٰ افسران کو اس کی اطلاع دی جو موقع پر پہنچے اور مزید کارروائی کی گئی۔

ان کے مطابق اس دوران ریسکیو 1122 اور شواہد اکٹھے کرنے والے اہلکار بھی آ گئے۔ والد کے مطابق ’جب ایس ایچ او موقع پر پہنچے اور انھوں نے فوٹیج دیکھی تو انھوں نے مزید نفری کو طلب کیا اور اس کے بعد اوپر کی منزل پر کیا ہوا اس کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہیں ہے۔‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ اُن کی درخواست پر درج ہونے والی ایف آئی آر میں پولیس نے لکھا ہے کہ بچی کے والد نے خود دیکھا کہ ملزم کے ہاتھ میں چھری تھی اور وہ اُن کے سامنے فرار ہوا؟ اس پر والد کا کہنا تھا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں اور پڑھے لکھے نہیں ہیں۔

تاہم انھوں نے ایف آئی آر میں درج اس بات کی تصدیق کی کہ اُن کی دو روز قبل دکان والوں سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔

ایف آئی آر اور پولیس کی جانب سے بیان کیے گئے واقعات میں تضاد پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی پی او سرگودھا کا کہنا تھا کہ ’لیگل سسٹم اور پراسیکیوشن کے مسائل کی وجہ سے حقیقی واقعات اور ابتدائی رپورٹنگ میں کچھ چیزیں ایسی ایڈ ہو جاتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ پولیس کی جانب سے ریلیز کی گئی تصاویر میں بھی بچی کی میت چھت پر موجود کاٹھ کباڑ کے پاس پڑی ہوئی نظر آتی ہے۔

لاپتہ بیٹی، گمنام کال اور تین ملزمان کی گرفتاری: جھنگ میں پُراسرار حالات میں ہلاک ہونے والی 17 سالہ ایشال فاطمہلاہور میں 18 سالہ گھریلو ملازمہ کی موت: ملزمان کے خلاف مقدمے میں مبینہ گینگ ریپ اور اسقاط حمل کے بعد قتل کی دفعات شاملسات سالہ بچی کا پڑوسی کے ہاتھوں مبینہ ریپ اور قتل: ’کٹا سر باتھ روم سے جبکہ جسم کے باقی حصے چارپائی کے نیچے سے برآمد ہوئے‘ثنا یوسف کا قتل سے ایک دن پہلے والد سے وعدہ: ’اپنی جان دے دوں گی لیکن آپ کی عزت کا خیال رکھوں گی‘بلوچستان میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والی پولیس کانسٹیبل ملک ناز کون تھیں؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More