’یقین نہیں تھا جیل سے زندہ نکل آؤں گا‘: سعودی عرب میں 34 کروڑ روپے دیت ادا کرنے والے انڈین شہری واپس وطن پہنچ گئے

بی بی سی اردو  |  May 30, 2026

BBC

سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے کیرالہ کے عبدالرحیم 20 سال قید کے بعد واپس انڈیا پہنچ گئے ہیں۔

عبدالرحیم کی رہائی کے لیے دنیا بھر خصوصاً انڈین ریاست کیرالہ کے لوگوں نے ’دیت‘ یعنی خون بہا کی مد میں کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے 34 کروڑ انڈین روپے جمع کیے۔

46 سالہ عبدالرحیم جمعرات کی صبح سعودی دارالحکومت ریاض سے روانہ ہوئے اور کیرالہ کے ایئرپورٹ پہنچے۔ایئرپورٹ پر ان کے اہلخانہ، سماجی کارکنوں اور عوام نے ان کا استقبال کیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عبدالرحیم نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’ایک موقع پر مجھے یقین بھی نہیں تھا کہ میں جیل سے زندہ نکل آؤں گا۔ میں ہر اس شخص کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے مجھے بچانے کے لیے دعا اور میری مدد کی۔‘

یہ معاملہ تقریباً 20 سال پہلے شروع ہوا تھا۔ نومبر سنہ 2006 میں عبدالرحیم نے کوژیکوڈ میں آٹو رکشہ چلانے کا کام چھوڑ کر سعودی عرب میں ڈرائیور کی ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نئی ملازمت شروع کیے ابھی صرف 28 دن ہی ہوئے تھے کہ انھیں ایک 17 سالہ مفلوج لڑکے کی دیکھ بھال کی اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔ اسی دوران عبدالرحیم پر اپنے مالک کے بیٹے کے قتل کا الزام عائد کر دیا گیا۔

عبدالرحیم کا مؤقف تھا کہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے لڑکے کا سانس لینے والا آلہ غلطی سے الگ ہو گیا تھا۔ وہ اس لڑکے کو ریاض کے ایک ہائپر مارکیٹ لے جا رہے تھے۔

عبدالرحیم کے اہلِ خانہ اور معاونتی کمیٹی کے ارکان حالیہ دنوں میں شدید پریشانی میں مبتلا تھے کیونکہ 20 مئی کو ان کی عمر قید کی سزا مکمل ہو چکی تھی۔

نصیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گرفتاری کے چھ ماہ بعد میرے والد کو اس واقعے کی اطلاع ملی۔ وہ شدید صدمے میں چلے گئے اور خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا۔ چند ماہ بعد ہی ان کی وفات ہو گئی۔‘

دو سال قبل ’دیت‘ کی رقم ادا کیے جانے کے بعد سے نصیر کی والدہ مسلسل کہتی آ رہی ہیں کہ ’رحیم ایک دن ضرور گھر واپس آئے گا۔‘ وہ آج بھی اسی اُمید پر زندہ ہیں۔

اس دوران مختلف عدالتوں میں متعدد اپیلیں دائر کی گئیں جبکہ سعودی فرمانروا سے سزائے موت معاف کرنے کی درخواست بھی کی گئی تاہم عبدالرحیم کے سر پر سزائے موت کی تلوار لٹک رہی ہے۔

مذاکرات اور قانونی جنگ

عبدالرحیم لیگل سسٹنس کمیٹی کے رکن اشرف وینگاٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنہ2011 میں پہلی مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے بعد ہی ہم نے مقتول لڑکے کے والد سے بات چیت شروع کر دی تھی، لیکن جون سنہ 2024 میں جا کر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس دوران کمیٹی کے ارکان نے ریاض میں انڈین سفارت خانے کے اُس وقت کے ویلفیئر افسر یوسف کننمل کی مدد سے قانونی جنگ جاری رکھی۔

ساتھ ہی مقتول لڑکے کے اہلِ خانہ سے معافی اور تصفیے کے لیے مذاکرات بھی کیے جاتے رہے۔

پاکستان میں دیت کی رقم میں 17 لاکھ روپے کا اضافہ: یہ قانون ہے کیا اور تنقید کی زد میں کیوں رہتا ہے؟دیت کا قانون: طاقتور کو تحفظ دینے کا ہتھیار کیوں؟اسلام آباد میں گاڑی کی ٹکر سے 40 سالہ شخص کی ہلاکت: 69 لاکھ دیت کی ادائیگی کے بعد ملزمہ کی ضمانت منظورصلاح الدین کیس میں پولیس کو معافی کیسے ملی

یوسف کننمل کے مطابق ’اکتوبر سنہ 2019 میں ایک وکیل کے ذریعے سنجیدہ سطح پر مذاکرات شروع ہوئے۔ اکتوبر سنہ 2023 میں ہم ایک مفاہمتی معاہدے تک پہنچ گئے۔

اس وقت مقتول کے خاندان نے ’دیت‘ کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ سعودی ریال، یعنی انڈین کرنسی میں تقریباً 34 کروڑ روپے قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔‘

عبدالرحیم کا خاندان اتنی بڑی رقم جمع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، اس لیے ’عبدالرحیم لیگل اسسٹنس کمیٹی‘ کو ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔

نصیر نے بتایا کہ ’ابتدائی چند ہفتوں میں کراؤڈ فنڈنگ ایپ کے ذریعے صرف دو سے تین کروڑ روپے جمع ہوئے تھے، لیکن بعد میں مقامی ٹی وی چینلز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی وجہ سے یہ خبر دور دور تک پھیل گئی۔ مندروں اور گرجا گھروں میں بھی میرے بھائی کے لیے فنڈ جمع کرنے کی اپیلیں کی گئیں۔‘

کاروباری شخصیت بوبی چیمنور کی جانب سے ایک کروڑ روپے عطیہ کرنے کے بعد ترواننت پورم میں فنڈ ریزنگ کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی۔

سیاسی جماعتوں اور ملیالم فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات نے بھی اس مہم میں حصہ لیا۔

47 کروڑ روپے کا فنڈ جمع

اشرف نے بتایا کہ کراؤڈ فنڈنگ ایپ یکم مارچ سنہ 2024 کو شروع کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’رقم 34 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ وہ رمضان کا 27 واں دن تھا، شاید اسی وجہ سے لوگوں نے بڑی تعداد میں عطیات دیے لیکن ہدف مکمل ہونے کے بعد ایک غیر متوقع بات ہوئی۔‘

اشرف کے مطابق ’لوگوں نے اس اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانا جاری رکھی اور مجموعی رقم 47 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ہمارے بینک اکاؤنٹ میں اب بھی 13 کروڑ روپے موجود ہیں۔ عبدالرحیم کی واپسی کے بعد کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ اس اضافی رقم کا کیا کیا جائے۔‘

کمیٹی نے ’دیت‘ کی رقم انڈین وزارتِ خارجہ کے حوالے کی جس کے بعد وزارت نے یہ رقم ریاض میں انڈین سفارت خانے کو منتقل کر دی۔

اشرف نے بتایا کہ ’چیک ریاض کے گورنر آفس کے حوالے کیا گیا، جہاں سے اسے عدالت میں جمع کرایا گیا۔ دو جون سنہ 2025 کو عدالت نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ سنایا۔‘

یوسف کننمل نے کہا کہ ’وکیل کی مدد کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ وہ وکیل مقتول لڑکے کے خاندان کے رشتہ دار بھی تھے۔‘

انڈین سفارت خانے کے اس ریٹائرڈ افسر نے سعودی عرب میں نو انڈین شہریوں کو سزائے موت سے بچانے میں کردار ادا کیا۔

عبدالرحیم سمیت ان نو افراد میں پنجاب، بہار اور اتر پردیش سے تعلق رکھنے والا ایک ایک شخص جبکہ کیرالہ کے مزید پانچ افراد شامل ہیں۔

پاکستان میں دیت کی رقم میں 17 لاکھ روپے کا اضافہ: یہ قانون ہے کیا اور تنقید کی زد میں کیوں رہتا ہے؟دیت کا قانون: طاقتور کو تحفظ دینے کا ہتھیار کیوں؟اسلام آباد میں گاڑی کی ٹکر سے 40 سالہ شخص کی ہلاکت: 69 لاکھ دیت کی ادائیگی کے بعد ملزمہ کی ضمانت منظورصلاح الدین کیس میں پولیس کو معافی کیسے ملیاسلام آباد: ’تفتیشی افسر نے والدہ سے کہا کہ اپنے ہاتھ سے درخواست لکھیں ورنہ بیٹے کی لاش نہیں ملے گی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More