ٹی ٹی پی، کشمیر کا ذکر اور چینی شہریوں کے ’تحفظ‘ کا مطالبہ: شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران کیا ہوا؟

بی بی سی اردو  |  May 26, 2026

چینی صدر شی جن پنگ نے پیر کے روز بیجنگ میں پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انھیں اپنا ’پرانا دوست‘ کہا اور اس بات پر زور دیا کہ ’بین الاقوامی صورت حال جیسے بھی تبدیل ہو، چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔‘

دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے 75ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ’نہ ٹوٹنے والی دوستی‘ اور ’ہر موسم میں قائم رہنے والی شراکت‘ کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

پاکستان اُن محدود ممالک میں شامل ہے جنھیں چین ’ہر موسم کا تزویراتی شراکت دار‘ قرار دیتا ہے جس میں قریبی معاشی، تجارتی اور سکیورٹی تعاون شامل ہے۔

ماضی میں بیجنگ کی طرف سے پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں پر حملوں کی مذمت کی گئی تھی اور سکیورٹی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جبکہ ایران جنگ کے دوران ثالث کے طور پر اسلام آباد کے امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بھی مثبت رہے ہیں۔

اسلام آباد کی ثالثی کی حمایت مگر چینی شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین نے پاکستان کے ساتھ زراعت، صنعت، مصنوعی ذہانت اور افرادی صلاحیت کی تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ مشترکہ مستقبل کے حامل چین۔پاکستان برادری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے اور چینی رہنما نے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو برقرار رکھنے اور تزویراتی روابط کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

شہباز شریف نے اس کے جواب میں چین اور پاکستان کو دو ’آہنی بھائی‘ ممالک قرار دیا۔ شہباز شریف کے ہمراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے جو حال ہی میں ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے لیے تہران گئے تھے۔

شی جن پنگ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ابھی ایران سے واپس آئے ہیں اور آپ نے قیام امن کے لیے مثبت کوششیں کی ہیں۔ ہم پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔‘

سی سی ٹی وی کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کو علاقائی امن اور استحکام کے لیے اعلیٰ سطح پر اور زیادہ وسیع سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ تاہم انھوں نے کسی مخصوص تنازعے کا ذکر نہیں کیا۔

پاکستان کے لیے اپنی ثالثی کی کوششوں میں چین کو شامل کرنا اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ بیجنگ اور تہران کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔

مارچ کے دوران چین اور پاکستان نے بیجنگ میں اپنے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد ایک اقدام کا اعلان کیا تھا جس میں امن مذاکرات اور آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمد و رفت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر صدر شی کی تجاویز خطے میں امن کے حصول کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

پیر کو ہی چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ نے بھی شہباز شریف سے ملاقات کی اور کہا کہ چین سی پیک کی تعمیر کو مزید آگے بڑھانے، پاکستان سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات درآمد کرنے اور دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے کے بہتر ورژن کی تشکیل کے لیے تیار ہے۔

لی نے امید ظاہر کی کہ پاکستان ملک میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

شہباز شریف نے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے خوش آمدید کہا اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایک محفوظ اور بہتر کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے مضبوط اقدامات جاری رکھے گی۔

مذاکرات کے بعد لی اور شہباز شریف نے تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، خوراک اور انسانی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔

چائنہ ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور پاکستانی برآمدات کے لیے دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سی پیک کے تحت 25.9 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی گئی اور دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں۔

ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟کیا پوتن چین سے خالی ہاتھ واپس لوٹے؟چین کی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریاں جو پابندی کا شکار ایرانی تیل خرید کر منافع کماتی ہیںپاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات: کیا بیجنگ مستقل سیز فائر کروا سکے گا؟مشترکہ اعلامیے میں تائیوان اور کشمیر کا ذکر

دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’چین نے دو پاکستانی خلا بازوں کی تربیت کے لیے ملک آمد کا خیر مقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایک پاکستانی خلا باز چین کے خلائی سٹیشن میں ابتدائی مرحلے میں شامل ہونے والے پہلے غیر ملکی خلا باز بن جائیں گے۔‘

اس بیان میں جہاں پاکستان نے تائیوان، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور دیگر مسائل پر چینی موقف کی حمایت کی تو وہیں چین نے سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا۔

مشترکہ اعلامیے میں لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان نے ون چائنہ اصول پر اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ تائیوان چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ پاکستان نے چین کی قومی وحدت کے حصول کی کوششوں کی حمایت کی اور تائیوان کی علیحدگی کی ہر شکل کی مخالفت کی۔۔۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں حمایت کا اعادہ کیا۔‘

اس کے بعد کشمیر کے حوالے سے بیان میں درج ہے کہ ’دونوں فریقوں نے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کا اعادہ کیا اور جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ تمام حل طلب تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

’پاکستان نے چین کو جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ چین نے اس امر کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع تاریخی معاملہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر، متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔‘

دریں اثنا دونوں ملکوں نے ’قراقرم ہائی وے منصوبے کو مرحلہ وار مکمل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ انھوں نے گوادر بندرگاہ کو علاقائی روابط کے مرکز کے طور پر فروغ دینے اور خنجراب پاس کے ذریعے زمینی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔‘ دونوں ممالک 'سی پیک کی ترقی میں مزید فریقین کی شرکت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

اس بیان کے مطابق پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ملک میں چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ عالمی سکیورٹی انیشی ایٹیو کی حمایت کرتا ہے۔ ’چین پاکستان کے ساتھ مل کر عالمی سکیورٹی اقدام پر مکمل عملدرآمد کرے گا، چین۔پاکستان سکیورٹی شراکت داری قائم کرے گا، انسداد دہشت گردی کے شعبے میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون جاری رکھے گا اور فوجی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔‘

اس میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے اپریل 2026 میں چین کے شہر ارومچی میں چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کے کامیاب انعقاد کو سراہا۔ اس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطوں کے لیے مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے پر چینی فریق کا خیر مقدم کیا۔‘

دونوں فریقین نے افغانستان کے معاملے پر ’قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فرد، گروہ یا تنظیم، بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کو کسی بھی سرزمین کو علاقائی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے یا دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘

شہباز شریف کے لیے علی بابا کے چینی اے آئی ٹول نے مسودہ تیار کیا

شہباز شریف کے چار روزہ دورے پر انھوں نے متعدد چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں جن میں علی بابا کے سربراہ جو سائی بھی شامل تھے۔ اس دوران پاکستان کی وزارت آئی ٹی اور علی بابا کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت طے پائی جس کا مسودہ اطلاعات کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔

دراصل اس ملاقات کے آغاز میں شہباز شریف نے علی بابا کے سربراہ سے کہا تھا کہ ’آئیے کچھ بڑا کرتے ہیں۔۔۔ ہم مکمل ڈیجیٹلائزیشن چاہتے ہیں۔‘

’آئیے آج اربوں ڈالروں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب ایک دن میں حاصل نہیں ہو سکے گا۔ آج رات ہم مصافحہ کریں، ایک معاہدے پر دستخط کریں اور مرحلہ وار رکاوٹیں دور کریں۔ میں اسی مقصد کے لیے یہاں آیا ہوں۔‘

جب شہباز شریف نے کہا کہ 10 سالہ منصوبے کا مطالبہ کیا تو علی بابا کے سربراہ نے اتفاق کیا جس پر ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔

اس کے بعد جو سائی نے فون پر ایک مسودہ کر پڑھ کر سنایا اور تمام نکات پر شہباز شریف ہامی بھرتے نظر آئے۔ آخر میں شہباز شریف نے کہا ’مسٹر چیئرمین آپ نے میرا دن سنوار دیا، آپ کا بہت شکریہ۔‘

جو سائی نے بتایا کہ یہ مسودہ علی بابا کے مصنوعی ذہانت کے ٹول کوئن کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق جو سائی نے اپنے سمارٹ فون پر چند کلیدی الفاظ درج کیے جس کے بعد کوئن نے دوطرفہ مذاکرات کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت کا مسودہ تیار کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت نہ صرف پاکستان کے آئی ٹی اور اے آئی سیکٹرز میں انقلاب برپا کرے گی بلکہ زراعت، صنعت، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بھی اس سے تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

اس موقع پر جو سائی نے کہا کہ علی بابا کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں پاکستانی عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ آپ کے کاروباری پس منظر کے تناظر میں آپ رفتار اور کارکردگی کو اہمیت دیتے ہیں۔‘

انھوں نے اے آئی ٹول کوئن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ابھی شریف سپیڈ کا مشاہدہ کیا ہے۔‘

ٹرمپ نے ایران معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کیوں جوڑا اور کیا سعودی عرب اور پاکستان انکار کر سکیں گے؟کیا پوتن چین سے خالی ہاتھ واپس لوٹے؟چین کی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریاں جو پابندی کا شکار ایرانی تیل خرید کر منافع کماتی ہیںگاڑی میں ٹوائلٹ سیٹ: کیا چینی کمپنی کار میں بیت الخلا نصب کرنے جا رہی ہے؟پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات: کیا بیجنگ مستقل سیز فائر کروا سکے گا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More