Getty Images
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران پر نئے حملے کیے ہیں، جن میں ایرانی میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے ’اپنے دفاع‘ میں کیے گئے اور ان کا مقصد ’اپنے فوجیوں کو ایرانی فوج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانا‘ تھا۔
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج ’جنگ بندی کے دوران تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن تنازع کے خاتمے کا کوئی معاہدہ ’فوری طور پر متوقع نہیں۔‘
ہاکنز نے کہا کہ حملوں کا ہدف بندر عباس کے قریب ایک علاقہ تھا۔ یہ ایران کے جنوب میں ایک ساحلی شہر ہے اور امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی بحریہ کا ایک اڈا بھی یہیں واقع ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد مقامی حکام تحقیقات کر رہے تھے۔
ایران نے ابھی تک امریکی حالیہ حملوں پر رد عمل نہیں دیا ہے۔ تاہم یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے خطرے میں پڑ گیا ہے۔
’معاہدہ اب بھی ممکن ہے‘AFP via Getty Images
ان حملوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انھوں نے منگل کے روز ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیر خارجہ کی قطر کے وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی طرف اشارہ کیا۔
انڈیا کے سرکاری دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’قطر میں مذاکرات جاری تھے، دیکھنا ہوگا کہ کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ میرا خیال ہے کہ زیادہ وقت دستاویزات کے متن میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اصطلاحات کی درستی پر صرف ہوتا ہے، اس لیے اس میں چند دن لگیں گے۔‘
واضح رہے کہ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی قطر کے امیر اور اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچے ہیں۔
خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی نے ایک با خبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کے دونوں سینئر عہدیدار قطر کے وزیرِ اعظم سے اہم علاقائی اور سفارتی امور پر بات چیت کریں گے۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز اور ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل یہ خبر دی تھی کہ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی ’منجمد اثاثوں پر سے پابندیوں کے خاتمے اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن‘ کے سلسلے میں قطر پہنچے ہیں۔
گذشتہ ہفتے قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ایران کا دورہ کر چکا ہے۔
انڈیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے مزید کہا: ’صدر یا تو ایک اچھا معاہدہ حاصل کریں گے یا کوئی معاہدہ نہیں کریں گے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ہر صورت آبنائے ہرمز کو کھولیں گے۔ ان کا کہنا تھا: ’جو کچھ وہاں ہو رہا ہے، وہ غیر قانونی ہے اور قواعد کے خلاف ہے۔ یہ دنیا کے لیے عدم استحکام کا باعث ہے اور ناقابل قبول ہے۔‘
اس ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ فریقین معاہدے کے قریب ہیں، لیکن بعد میں کہا کہ انھوں نے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی ہے کہ ’جلدی نہ کریں۔‘ جبکہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ممکن ہے پیر کو کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جواب دیا تھا کہ ’یہ کہنا درست ہے کہ ہم زیر بحث معاملات کے ایک بڑے حصے پر کسی نتیجے تک پہنچ گئے ہیں، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ معاہدے پر دستخط ہونے والے ہیں، ایسا دعویٰ کوئی بھی نہیں کر سکتا۔‘
سرو ابرکوه: ایران میں موجود 4500 سال پرانا درخت اور صدر مسعود پزشکیان کا تاریخ سے متعلق اشارہآبنائے ہرمز سے مزاحمت کے محور تک: وہ نکات جن کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیںایرانی کشتیوں کے ’مچھر بیڑے‘ نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو کیسے مشکل میں ڈالا؟آئل کمپنیوں سے لے کر بڑے بینکوں تک: وہ ادارے جو ایران جنگ سے اربوں ڈالر منافع کما رہے ہیںممکنہ معاہدے کے خدوخال
زیر بحث مفاہمتی یادداشت میں مبینہ طور پر جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مزید مذاکرات کا منصوبہ شامل ہے۔
بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز نے امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے پہلے روز زخمی ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک نا معلوم مقام پر موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ایلچیوں سے رابطہ مشکل ہو گیا ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ مذاکرات فوری طور پر کسی حتمی تصفیے تک نہیں پہنچیں گے۔ متنازع امور پر ممکنہ طور پر بعد میں بات چیت ہو گی۔ ان امور میں ایران پر پابندیوں میں نرمی کی تفصیلات، منجمد ایرانی فنڈز کا جاری کیا جانا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنے سے متعلق امریکی مطالبات شامل ہیں۔
جنگ کے آغاز پر، خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیم تھا جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا تھا، اور ایک مختصر سے عمل سے اسے ہتھیاروں کے درجے تک (90 فیصد) افزودہ کر کے ایٹم بم بنایا جا سکتا ہے۔
منگل کی صبح سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم یا تو ’فوری طور پر‘ امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا، یا ’ایران کے ساتھ مل کر وہیں تباہ کر دیا جائے گا۔‘
ٹروتھ سوشل پر ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے دو خاکے شیئر کیے، ایک پر نقدی کا ڈھیر پڑا ہے اور لکھا ہے ’اوباما (سابق امریکی صدر) کی ایران پالیسی‘۔ جبکہ دوسرے خاکے میں امریکی پرچم بردار بحری جنگی جہاز دکھایا گیا ہے جو بمباری کر رہا ہے۔ اس پر تحریر ہے ’ٹرمپ کی ایران پالیسی‘۔
امریکہ اور ایران میں جنگ بندی آٹھ اپریل کو ہوئی تھی اور اس کے بعد سے برقرار ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی بحری آمد و رفت پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے، جبکہ امریکی بحریہ نے ایران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر وسیع پیمانے پر حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر حملے کیے اور عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی بہت زیادہ بڑھ گئیں۔
ٹرمپ کا بیان، اسرائیلی تحفظات اور تہران کا پاکستان کو پیغام: ایران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟’تمام ممالک بیک وقت معاہدہ ابراہیمیپر دستخط کریں‘: ٹرمپ کا پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک سے مطالبہپاسدار سے ’جانِ فدا‘ تک: ایران میں نئی یکجہتی مہم جس میں حکومت کے بقول تین کروڑ سے زائد لوگ شامل ہو چکے ہیں ایرانی افسران پر جاسوسی کے الزام سے رہبر اعلی کے ساتھ اختلافات اور نااہلی تک، محمود احمدی نژاد کون ہیں؟’اس کا مطلب ہے وہ جنگ چاہتے ہیں‘: خلیج فارس اتھارٹی کا ایرانی نقشہ جسے متحدہ عرب امارات نے ’خواب کا ٹکڑا‘ قرار دیا