انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت کے نوجوانوں اور کاکروچ یعنی لال بیگ کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مہم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ خاصی زیرِ بحث ہے۔
تاہم جسٹس سوریہ کانت نے سنیچر کو اپنے بیان پر وضاحت بھی دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا کے ایک حصے نے ان کی باتوں کو غلط انداز میں پیش کیا۔
انڈیا میں جسٹس سوریہ کانت کے بیان کے بعد ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم زور پکڑ رہی ہے جس میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ یعنی ’سی جے پی‘ بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
انٹرنیٹ پر اس کے نام سے ایک ویب سائٹ بن چکی ہے اور انسٹاگرام پر اس کے 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ویب سائٹ پر اس کی رکنیت کے لیے خود کو رجسٹر بھی کر لیا۔
سی جے پی کیا ہے اور اس کی شروعات کیسے ہوئی؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر اس کے بانی اور کنوینر کی معلومات دی گئی ہیں اور ان کا نام ابھیجیت دیپکے ہے۔
ابھیجیت دیپکے سے بی بی سی نیوز مراٹھی نے تفصیل سے بات کی جس میں انھوں نے اس مہم کے شروع ہونے کی وجہ بتائی۔
جب ابھیجیت دیپکے سے یہ سوال کیا گیا کہ اس طرح کی سوشل میڈیا مہم کا خیال انھیں کیسے آیا؟ تو اس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے ایکس پر انڈین چیف جسٹس کا بیان دیکھا تھا جس میں وہ مُلکی نظام پر تنقید کرنے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر رہے تھے۔‘
’مجھے یہ بات انتہائی مضحکہ خیز لگی کیونکہ چیف جسٹس کو مُلک کے آئین کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ وہ آئین جو ہر کسی کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ اب ایک ایسا شخص جو اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت کرنے والا ہو، وہ کیسے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور کیڑے مکوڑوں سے کر سکتا ہے۔‘
’تحریک کو موقع پرستوں نے ہائی جیک کر لیا‘: ’جین زی‘ گروپس کا نیپال میں پُرتشدد واقعات سے لاتعلقی کا اعلانبنگلہ دیش میں نوجوانوں کے انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات: جین زی کا خواب اب بھی ادھورا کیوں؟آج کل کے نوجوان فون کال کا جواب دینے سے گھبراتے کیوں ہیں؟بنگلہ دیش کے طلبہ جو عمران خان اور اردوغان کی طرح مقبول سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیں
’بس اسی بات پر مجھے شدید غصّہ بھی آیا اور انتہائی مایوسی بھی ہوئی جس کے بعد میں نے ایکس کا سہارا لیا اور اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار پر زور انداز میں کیا۔ میں نے پوچھا کہ اگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں تو کیا ہوگا۔ مجھے جین زی اور 25 سال تک کے نوجوانوں کی جانب سے اس پر شاندار ردِ عمل ملا اور انھوں نے کہا کہ ہمیں ساتھ آنا چاہیے اور ایک پلیٹ فارم بنانا چاہیے۔‘
’اس کے بعد میں نے یہ سوچا کہ ہمیں آن لائن ایک پیروڈی پارٹی بنانی چاہیے جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ ہو۔ اگر آپ ہمیں کاکروچ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے، ہم کاکروچ جنتا پارٹی بناتے ہیں۔ اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے میں نے شرائط طے کیں، جیسے آپ کو سست ہونا ہوگا جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا، آپ بے روزگار ہوں اور آپ مسلسل آن لائن رہنے والے ہوں جیسا کہ چیف جسٹس صاحب نے آپ کو کہا۔‘
’انھوں نے (چیف جسٹس نے) جن بھی الفاظ کا استعمال نوجوانوں کو بے عزت کرنے کے لیے کیا، ہم نے انھیں اس پارٹی کا رکن بننے کی اہلیت بنا دیا یعنی وہ سب کی سب خصوصیات اس پارٹی میں شامل ہونے کے لیے اُمیدوار میں ہونی ضروری قرار دیں۔ بس پھر کیا تھا چند ہی گھنٹوں میں اس نے کمال کر دیا اور ہر کوئی اس پر ردِعمل دینے لگا اور خود کو اس پارٹی میں رجسٹر کرنے لگا۔‘
’اس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں اور اب یہ بات مذاق سے آگے بڑھنے والی ہے کیونکہ لوگ مایوس ہو چکے تھے۔ پھر ہم نے ایک ویب سائٹ بنائی، پارٹی کا منشور تیار کیا۔ انسٹاگرام پر اب ہمارے چار ملین سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں اور دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے خود کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رکن کے طور پر رجسٹر کیا اور ایسا انڈین سیاست میں کافی عرصے بعد ہوا جو غیر معمولی بات ہے۔‘
کامیابی کی وجہ کیا بنی؟
کئی معروف شخصیات نے بھی ابھیجیت دیپکے کی اس مہم کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
اس پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’سابق کرکٹر اور رکنِ پارلیمان کیرتی آزاد نے کہا کہ وہ اس پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ ٹی ایم سی کی رکنِ پارلیمان مہوا موئترا نے بھی اس کی حمایت کی۔ ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں نے ہمارا ساتھ دیا اور جس کی وجہ سے آج یہ موضوعِ بحث ہے۔ ساتھ ہی یہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔‘
جب ہم اس بارے میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا میں ایک طرح کی بڑی تبدیلی ہے۔
سوشل میڈیا پر 40 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہونے کے پیچھے کیا کہانی نظر آتی ہے؟
اس سوال پر ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’نوجوانوں کے اندر کئی سال سے جو مایوسی اور غصہ پل رہا ہے، وہی اتنے بڑے ردِعمل کی وجہ بنا۔ حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے نوجوان بے روزگار ہیں۔ انھیں ایک پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنی مایوسی اور غصہ نکال سکتے ہیں۔‘
ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟
کسی بھی سیاسی جماعت یا تحریک کے لیے ایک لیڈر بہت ضروری ہوتا ہے۔ تو پھر ابھیجیت دیپکے آخر کون ہیں؟
ابھیجیت دیپکے نے اپنے بارے میں بتایا کہ ’میں مہاراشٹر کے چھترپتی سنبھاجی نگر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے پونے سے گریجویشن کی۔ اس کے بعد مجھے کچھ سال تک عام آدمی پارٹی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جہاں میں ان کی کمیونیکیشن ٹیم میں تھا۔‘
’میں عام آدمی پارٹی کی صحت اور تعلیم سے متعلق پالیسی کی وجہ سے اُن کی جانب راغب ہوا تھا۔ جیسے آج کاکروچ جنتا پارٹی نئی ہے، ویسا ہی مجھے لگا کہ وہ بھی کوئی نیا نظام لانے یا کسی بڑی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کچھ وقت ان کے ساتھ کام کیا پھر مجھے لگا کہ مجھے مزید پڑھنے کی ضرورت ہے اور میں گھر پر ماسٹرز کی تیاری کرنے لگا۔ مجھے بوسٹن یونیورسٹی جانے کا موقع ملا۔ میں دو سال سے یہاں ہوں اور اپنی گریجویشن مکمل کر چکا ہوں۔‘
ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اس پارٹی کا منشور انڈیا کے موجودہ جمہوری نظام اور موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ وہ جج جنھیں غیر جانبدار رہنا چاہیے، جن کا حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت سے فائدے لے رہے ہیں۔ یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ عدلیہ کو آزاد رہنا ہوتا ہے۔ اگر عدلیہ بھی حکومت کی راہ پر چلے گی تو پھر باقی کیا رہ جائے گا؟ پھر جمہوریت کا کیا ہوگا اور اسے کون بچائے گا؟‘
’دوسری اہم بات خواتین کی نمائندگی کی ہے۔ میں بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ جمہوری سیاسی نظام میں خواتین کی 33 فیصد مخصوص نشستیں ہوں گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا۔ اگر خواتین کو جمہوری سیاسی نظام میں شامل کرنا ہے توانھیں 50 فیصد نشستیں دیں۔‘
انڈین ’جین زی‘ کیسے ہیں؟
نیپال اور سری لنکا میں جین زی کی جانب سے چلائی جانے والی تحریکوں نے دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں جگہ بنائی۔ نیپال میں احتجاج کے بعد حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا۔ سری لنکا اور نیپال کی جین زی کا انڈیا کی جین زی سے موازنہ کرنے کے بارے میں ابھیجیت کیا سوچتے ہیں؟
اس پر وہ کہتے ہیں کہ انڈیا کی جین زی کا موازنہ سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کی جین زی سے کرنا ’بڑا توہین آمیز عمل‘ ہوگا کیونکہ وہ انڈین جین زی تشدد کا سہارا لینے والے نہیں۔
ابھیجیت کہتے ہیں کہ ’انڈین جین زی طنز کے ذریعے اپنی ناراضی ظاہر کر رہے ہیں۔ کاکروچ کا لباس پہن کر وہ مقدس دریا جمنا کو صاف کر رہے ہیں اور کچرا ہٹا رہے ہیں۔ وہ اس کے ذریعے موجودہ نظام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ سڑکوں پر جا کر تشدد نہیں بھڑکا رہے اور اگر کل وہ سڑکوں پر نکلتے بھی ہیں تو وہ یہ کام جمہوری اور پُرامن طریقے سے کریں گے۔ ہماری جین زی ہماری کابینہ میں شامل افراد سے زیادہ پڑھی لکھی ہے۔ ہمیں یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم پر ان پڑھ لوگ حکومت کیوں کر رہے ہیں۔‘
کاکروچ جنتا پارٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یہ صرف ایک طنزیہ سوشل میڈیا مہم بن کر رہ جائے گی؟ ابھیجیت کہتے ہیں کہ یہ تو صرف شروعات ہے، کل مزید نوجوان تنظیمیں سامنے آئیں گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان موجودہ سیاسی نظام سے تنگ آ چکا۔ آئندہ چند سال میں آپ دیکھیں گے کہ نوجوان تبدیلی کا مطالبہ کرے گا کیونکہ گذشتہ 10سے 12 سال میں نوجوانوں نے ’ہندو مسلم‘ کے بیانیے کے علاوہ کچھ نہیں سنا۔‘
’نوجوان اس سیاسی نظام کو بدلنا چاہتا ہے جہاں ہم تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ہوں اور جہاں روزگار ملے۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں دنیا کے بہترین ممالک سے اپنا موازنہ کرنا چاہیے۔ ہم کب تک نیپال، پاکستان اور بنگلہ دیش سے اپنا موازنہ کرتے رہیں گے‘
جب ابھیجیت سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انڈیا واپس آئیں گے، تو انھوں نے کہا کہ وہ ضرور واپس آئیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں نے گذشتہ ہفتے ہی اپنی گریجویشن مکمل کی اور میں واپس آ کر اس تحریک کو آگے بڑھاؤں گا کیونکہ لوگ ایک ساتھ آ رہے ہیں اور وہ بہتر تبدیلی چاہتے ہیں۔ ہماری تنظیم کے قیام کے چوتھے ہی دن ہمارے پاس دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ممبران تھے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جین زی اپنا علیحدہ اور آزاد سیاسی میدان چاہتی ہے۔‘
’تحریک کو موقع پرستوں نے ہائی جیک کر لیا‘: ’جین زی‘ گروپس کا نیپال میں پُرتشدد واقعات سے لاتعلقی کا اعلانبنگلہ دیش میں نوجوانوں کے انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات: جین زی کا خواب اب بھی ادھورا کیوں؟بنگلہ دیش کے طلبہ جو عمران خان اور اردوغان کی طرح مقبول سیاسی جماعت بنانا چاہتے ہیںپاکستان، بنگلہ دیش تعلقات: شیخ حسینہ مخالف تحریک کو جنم دینے والی ڈھاکہ یونیورسٹی میں پاکستانی تعلیم حاصل کر سکیں گےآج کل کے نوجوان فون کال کا جواب دینے سے گھبراتے کیوں ہیں؟