قیمتی گھوڑا، ڈربی میں ایک کروڑ انعام اور پُرخطر کھیل: لاہور ریس کلب کے ایک چیمپیئن جوکی کی کہانی

بی بی سی اردو  |  May 06, 2026

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر باقی شہر سے الگ تھلگ لاہور ریس کلب اپنے اندر ایک وسیع دنیا ہے۔ یہاں ہر اتوار کو گھڑسواری کا میدان سجتا ہے تو مرکز نگاہ کروڑوں کی قیمت میں بکنے والے غیر ملکی گھوڑوں کی چال، ان کی نسل اور ان کے امیر مالک ہوتے ہیں۔

لیکن قسمت اور پیسے سے جڑے اس کھیل کے اصل کردار وہ جوکی یعنی سوار ہوتے ہیں جن کی چند سو میٹر کی ریس کے پیچھے چھپی ہوئی برسوں کی محنت اور بھوک کم ہی لوگوں کو نظر آتی ہے۔

ایسے ہی ایک کردار نوجوان اویس انجم بھی ہیں جو کبھی وکیل بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے لیکن پھر 14 سال کی عمر میں ایک دن ریس کے سحر کے شکار ہو کر اسی دنیا کا حصہ بن گئے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’تالیوں کا شور اور ریس جیتنے پر جوش دیکھ کر میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں بھی جوکی ہی بنوں گا۔‘ یہ فیصلہ اویس کے لیے زیادہ مشکل اس لیے نہیں تھا کیوں کہ ایک طرح سے ریس جوکی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ اویس کے والد اور دادا بھی جوکی تھے۔

چھ سال بعد اویس انجم ایک چیمپیئن جوکی بن چکے ہیں جو ڈربی سمیت مختلف کیٹگریز کی 300 سے زیادہ ریسیں جیت چکے ہیں۔ لاہور ریس کلب کے سیکریٹری شہزاد اختر کے مطابق موجودہ سیزن میں اویس انجم سب سے کامیاب جوکی ہیں۔

جس دن لاہور ریس کلب میں ہماری اویس سے ملاقات ہوئی، اس دن بھی انھوں نے تین ریسوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

لیکن ریس جوکی کیسے بنتے ہیں؟ گھوڑے اتنے مہنگے کیوں ہوتے ہیں؟ پاکستان میں ایک جوکی اس مہنگے کھیل سے کتنا پیسہ کماتا ہے؟ اور اس کھیل میں محنت اور بھوک جوکی کے لیے کیوں اہم ہیں؟ یہ کہانی اویس کی زبانی ہی سنتے ہیں۔

گھڑدوڑ یا ریس کسی بھی مالک کے لیے ایک مہنگا شوق ہے جبکہ جوکی کے لیے خطرات سے بھرپور۔ لیکن اس کے باوجود جیت کا جنون اور انعام کی رقم دونوں کو ہی پیسے اور قسمت کو آزمانے پر مجبور کرتے ہیں۔

لیکن اویس کے مطابق چیمپیئن جوکی بننے کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کا امکان موجود تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب تربیت کے دوران گرنے کے بعد ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ اویس کہتے ہیں کہ ’یہ کام خطرناک تو ہے، پہلی ہی ریس کے بعد میری ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور پھر ایک سے دو سال لگے واپسی میں۔‘

لیکن اویس نے ہمت نہیں ہاری اور قسمت نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ اویس کہتے ہیں کہ ’اگر کسی رائیڈر کو انجری ہوتی ہے تو ریس کلب آپریشن کا خرچہ اٹھاتا ہے اور ماہانہ خرچ بھی دیا جاتا ہے۔‘

BBCاویس کے مطابق چیمپیئن جوکی بننے کا یہ سفر آسان نہیں تھاخطرات سے بھرپور چیمپیئن جوکی بننے کا مشکل سفر

ریس کلب میں جوکی بننے کے لیے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ان میں سب سے پہلے یہاں کے سکول میں تربیت ہوتی ہے۔

اویس نے بتایا کہ ’دو سال کا وقت ہوتا ہے تربیت کا جس کے بعد ٹیسٹ ہوتا ہے تو اپرینٹیس کا لائسنس ملتا ہے۔‘

’سات ریس جیتنے کے بعد رائیڈر بنتے ہیں۔ ایک سال میں تیس ریس جیتنے کے بعد جوکی کا لائسنس ملتا ہے۔ پھر بڑی ریس جیتنے کے بعد چیمپیئن جوکی بنتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ مشکل کام ہے۔ پہلے گرومنگ سیکھی، پھر رائیڈنگ شروع کی۔ ریسنگ کے ساتھ ساتھ ٹریک ورک بھی سیکھنا پڑتا ہے کہ گھوڑے کو کیسے چلانا ہے۔‘

لیکن کسی بھی جوکی کے لیے اس تربیت سے بھی زیادہ سخت مرحلہ اپنی جسمانی ساخت اور وزن کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

آغا خان کا ’شیرگر‘: دنیا کے سب سے مہنگے گھوڑے کا پراسرار اغوا اور وہ جرم جو آج تک حل نہیں ہو سکااسپ لیلیٰ: رنجیت سنگھ کی وہ گھوڑی جسے کوہِ نور پہنایا گیاشیخ زید النہیان اور رحیم یار خان: جب اونٹ ریس جیتنے والا راتوں رات پچاس ایکڑ زمین کا مالک بن گیاگھوڑوں اور گھڑ دوڑ سے لگاؤ رکھنے والی ملکہ الزبتھBBCاویس کے مطابق ’سب سے زیادہ مشکل کام ہے کسی بھی جوکی کے لیے اپنا وزن کم رکھنا‘

اویس کہتے ہیں کہ ’جم میں جا کر سٹیمنا بھی بڑھانا ہوتا ہے۔ وزن کو برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ کھانے پر کنٹرول کرنا، چربی کم رکھنا، یہ سب سے زیادہ مشکل کام ہے کسی بھی جوکی کے لیے اپنا وزن کم رکھنا۔‘

دل تو بہت کرتا ہے کہ پیزا اور ایسی چیزیں کھائیں لیکن کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔

’ڈیڑھ کروڑ کا گھوڑا‘

جوکی جتنا بھی ماہر کیوں نہ ہو، یہ کھیل گھوڑے کے بغیر نامکمل ہے اور وہ بھی اچھی نسل سے تعلق رکھنے والا گھوڑا۔ اور ایسے گھوڑوں کو خریدنا اور پھر انھیں پالنا اور ان کی تربیت ایک مہنگا کام ہے۔ اور چند لوگ اچھی نسل کی تلاش میں بیرون ملک تک جا پہنچتے ہیں۔

ڈاکٹر ابوبکر، جن کے گھوڑے جیوپیٹر پر سواری کرتے ہوئے اویس نے 29 مارچ کو پاکستان ڈربی جیتی، نے ریس کلب کے قریب ہی اپنے اصطبل میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انگلینڈ سے اچھی نسل کا گھوڑا انھیں کتنا مہنگا پڑتا ہے۔

’انگلینڈ میں اچھی گھوڑی تقریبا تیس سے پینتیس ہزار پاؤنڈز میں ملتی ہے۔ لیکن اسے پاکستان تک لانے اور حکومتی ٹیکس کی ادائیگی کے بعد یہ لاگت ڈیڑھ کروڑ روپے تک جا پہنچتی ہے۔‘

لیکن یہ تو صرف ابتدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ابوبکر کے مطابق ایک سیزن میں ایک گھوڑے پر ڈیڑھ لاکھ تک خرچہ ہو جاتا ہے جس میں اس کی بورڈنگ، خوراک، سپلیمنٹس شامل ہیں۔

انگلینڈ کے موسم کی عادی گھوڑیاں پاکستان میں کیسے رہ پاتی ہیں؟ ڈاکٹر ابوبکر کہتے ہیں کہ ’انگریز گھوڑی ایک چیز برداشت نہیں کرتی، وہ ہے مکھی۔ اس کے لیے سپرے کیا جاتا ہے۔‘

BBC’انگلینڈ میں اچھی گھوڑی تقریبا تیس سے پینتیس ہزار پاونڈ میں ملتی ہے‘

بیرون ملک سے لائی جانے والی یہ گھوڑیاں پاکستان کی گرمی بھی برداشت نہیں کر سکتیں اور اسی لیے ایئر کنڈیشنر تک لگائے گئے ہیں۔

لیکن اگر یہ گھوڑی فاتح ہوں تو یہ مہنگا سودا نہیں۔

واضح رہے کہ دنیا کا سب سے مہنگا گھوڑا شیرگر مانا جاتا ہے جو آغا خان کی ملکیت تھا۔ انگلینڈ میں ’آئرش ڈربی‘ اور ’کنگ جارج چیس‘ میں فتوحات نے شیرگر کو عالمی سپر سٹار بنا دیا تھا اور آغا خان نے اس وقت اس کی قیمت کا تخمینہ دس ملین ڈالر لگایا تھا۔

پاکستان ڈربی میں ایک کروڑ روپے کا انعام

اویس اور ڈاکٹر ابوبکر کے لیے پاکستان ڈربی ہی وہ ریس تھی جسے جیتنے پر دونوں کو ہی فخر ہے۔

ڈاکٹر ابوبکر کہتے ہیں کہ ’کسی بھی جوکی کے لیے یہ بڑی بات ہے کہ وہ ڈربی جیتچکا ہو۔ یہاں کئی ایسے جوکی ہیں جن کی پوری عمر گزر چکی ہے لیکن وہ ڈربی نہیں جیت سکے اور اویس نے اتنی چھوٹی عمر میں ڈربی جیت لی ہے۔ اس نے ابھی اپنا گھر لیا ہے اور اپنے خاندان کو سپورٹ کرتا ہے۔‘

اویس کہتے ہیں کہ ’کلاسک ریس میں زیادہ پیسے ہوتے ہیں۔ پاکستان ڈربی میں ایک کروڑ پرائز منی تھی جس میں سے دس فیصد مجھے ملا۔‘

لاہور ریس کلب کے سیکریٹری شہزاد اختر نے بتایا کہ ’کلب کے قواعد کے مطابق کسی بھی ریس جیتنے والے جوکی کو انعامی رقم کا دس فیصد حصہ کلب کی جانب سے دیا جاتا ہے جبکہ دس فیصد ہی ٹرینر کو دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’سیزن میں بڑی ریسوں میں پاکستان ڈربی کے علاوہ کوئین الزبتھ کپ، نیو ایئر کپ اور تھاوزنڈ گنیز جیسی ریسیں بھی شامل ہوتی ہیں جن میں انعامی رقم بیس لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔‘

BBC

یاد رہے کہ لاہور ریس کلب میں ایک سیزن کا آغاز ستمبر میں ہوتا ہے جو اپریل کے اواخر تک جاری رہتا ہے۔

لاہور ریس کلب کے سیکریٹری شہزاد اختر نے بتایا کہ اس کے علاوہ باقی گھڑسواروں یا جوکیز کو بھی ایک طے شدہ فیس ادا کی جاتی ہے تاکہ ایسے جوکی جو جیت نہیں سکے ان کی بھی حوصلہ افزائی ہو سکے۔

’گھوڑا بغیر جوکی کے جیت نہیں سکتا‘

سلمان اور ان جیسے دیگر افراد، جو اس شعبے سے وابستہ ہیں، کے لیے بھی ریس کلب ایک ایسی جگہ ہے جس کا ان کے کاروبار سے براہ راست تعلق ہے۔

ان کے مطابق عام طور پر ’ریس کے شوقین مالکان ان سے یا دیگر فارمز سے دو سالہ بچہ خریدتے ہیں اور پھر اسے کم از کم چھ ماہ تربیت دی جاتی ہے۔‘

’چار سال کی عمر میں کلاسیک گھوڑے ریٹائر کر دیے جاتے ہیں۔ جوکی کی کوئی ریٹائرمنٹ کی عمر نہیں، جب تک اپنے آپ کو فٹ رکھے اور وزن برقرار رکھے۔‘

لیکن یہ اندازہ کیسے لگایا جائے کہ کون سا گھوڑا اچھا ہے؟ سلمان کہتے ہیں کہ ’عام آدمی کے لیے اندازہ لگانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے کیوں کہ گھوڑے کی نسل کا پتہ ہونا چاہیے۔‘

BBC

ان کا کہنا تھا کہ ’نیزہ بازی کے کھیل میں سارا کمال سوار کا ہوتا ہے۔ یہاں ٹرینر بھی ہے، جوکی ہے، مالک ہے اور سب سے بڑی بات کہ گھوڑے کو کیسے گروم کیا گیا ہے۔‘

اویس کے مطابق ’ریس سے پہلے ایک پلان بنتا ہے کہ کیسے گھوڑے کو بھگانا ہے اور کب اسے تیز چھوڑنا ہے۔ ایک سے ڈیڑھ منٹ کی ریس ہوتی ہے اور پھر اس کے بیچ میں بھی فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ گھوڑے کے جسم کے ساتھ چلنا پڑتا ہے کیوں کہ اسے بھی پتہ ہوتا ہے کہ وننگ پوسٹ کے بعد ہی اسے آرام ملنا ہے۔‘

ڈاکٹر ابوبکر کے مطابق ’گھوڑا جوکی کو جوکی بناتا ہے لیکن گھوڑا بغیر جوکی کے جیت نہیں سکتا۔ آپ اچھا گھوڑا کسی برے سوار کو دیں تو وہ ہار جائے گا اور آپ ایک درمیانی سطح کے گھڑسوار کو اچھا گھوڑا دیں تو وہ اپنی مہارت سے جیت سکتا ہے۔‘

آغا خان کا ’شیرگر‘: دنیا کے سب سے مہنگے گھوڑے کا پراسرار اغوا اور وہ جرم جو آج تک حل نہیں ہو سکااسپ لیلیٰ: رنجیت سنگھ کی وہ گھوڑی جسے کوہِ نور پہنایا گیاجب ایک گھوڑے کی وجہ سے فلائٹ کو منزل پر پہنچنے کی بجائے واپس مُڑنا پڑاگھوڑوں اور گھڑ دوڑ سے لگاؤ رکھنے والی ملکہ الزبتھشیخ زید النہیان اور رحیم یار خان: جب اونٹ ریس جیتنے والا راتوں رات پچاس ایکڑ زمین کا مالک بن گیاکولمبیا کے لیے دردِ سر بننے والے ایسکوبار کے دریائی گھوڑے اور اننت امبانی کی پیشکش
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More