’یہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے‘: بی بی سی نے ایران کے سفر کے دوران کیا دیکھا؟

بی بی سی اردو  |  Apr 16, 2026

شمال مغربی ایران کے میدانی علاقوں سے لے کر برف پوش پہاڑی علاقوں تک پھیلے بادام کے درختوں پر جیسے بہار آ گئی ہے۔

ایک نازک جنگ بندی کے نے نافذ العمل ہونے کی وجہ سے ایران کی سڑکوں پر ٹریفک کچھ زیادہ ہے اور جنگ کی ابتدا میں نقل مکانی کرنے والے بہت سے ایرانی اب واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

’میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اپنے بیٹے کے ساتھ ترکی میں رہا ہوں۔‘ ترکی کی سرحد پر موجود ایک ایرانی شہری نے مجھے یہ بتایا۔ وہ ترکی کی سرحد سے ایران میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

ترکی، ایران سرحد پر حال ہی میں ہونے والی برفباری کے باعث اس جگہ کافی سردی تھی۔

پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے حوالے سے اس ایرانی شہری کا کہنا تھا کہ ’میرے شہر میں ہونے والے اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کا بنیادی ہدف فوجی تنصیبات تھیں، اس دوران گھروں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں اب محض چند روز ہی باقی رہ گئے ہیں۔

سر پر سکارف پہنے ایک بزرگ خاتون، جن کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی، نے مجھے بتایا کہ ’میں قدرے خوفزدہ ہوں۔‘

یہ بزرگ خاتون اُن ایرانی نوجوان کے لیے بھی پریشان تھیں، جنھیں جنگ کے دوران ایران کی نیم فوجی ادارے ’بسیج‘ کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ شہر کے گلی محلوں میں گرنے والے شیل بھی اُنھیں خوفزدہ کرتے تھے۔

BBCلیز ڈوسیٹ نے ترکی کی سرحد سے تہران تک کا زمینی سفر کیا ہے’یہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے‘

اپنے ہاتھ بلند کر کے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’یہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘

ترکی، ایران کی اس کراسنگ کے ویٹنگ ایریا میں موجود بہت سے دیگر افراد نے اپنی اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کیا۔

سُرخ جیکٹ پہنے ایک خاتون نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’یقیناً جنگ بندی برقرار نہیں رہے گی، کیونکہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول کبھی نہیں چھوڑے گا۔‘

اسی نوعیت کے گفتگو کے دوران ہم ترکی کے محکمہ کسٹمز کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ایران میں داخل ہو گئے۔

میں نے اپنے سے آگے ایک شخص سے موجودہ صورتحال کے بارے میں پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ ایران کو کبھی نہیں چھوڑیں گے، وہ ہمیں نِگلنا چاہتے ہیں۔‘

ترکی کی سرحد سے تہران کی جانب طویل زمینی سفر کے دوران یہ ممکن نہیں تھا کہ ہم صدر ٹرمپ اور امریکی فوج کے سربراہ کے بارے میں نہ سوچتے۔ دارالحکومت تک پہنچنے کا واحد راستہ اب گاڑی کے ذریعے ہی ہے، کیونکہ ہوائی اڈے ابھی تک بند ہیں۔

راستے میں جابجا سڑکوں پر بنے پلوں سے گزرنا پڑا جو بہار کی دھوپ میں چمک رہے تھے۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر دھمکی دی تھی کہ وہ ایران میں ہر پُل کو تباہ کر سکتے ہیں۔

صدر نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم (ایران) ان کے ہر پُل اور بجلی گھر کو ایک گھنٹے میں تباہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے۔‘

ایرانی تہذیب کی علامتیںBBC

دارالحکومت تہران کے اس 12 گھنٹے کے سفر کے دوران گاڑیاں اب ایک دیہی راستے سے گزرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ زنجان کے راستے شمالی شہر تبریز کو تہران سے ملانے والا مرکزی پل گذشتہ ہفتے میزائل کی زد میں آ کر گر گیا تھا۔

بین الاقوامی ماہرین نے امریکہ کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر تنقید کی ہے اور وہ اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک طرح سے جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

سفر کے دوران ہم نے اُن مقامات کو بھی دیکھا، جن میں تبریز کے نواح میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کور کی تباہ حال بیرکس بھی شامل تھیں۔ یہاں بوسیدہ ستونوں پر ایک بہت بڑا ایرانی جھنڈا لپیٹا ہوا تھا۔ اس علاقے میں فوجی اور پولیس تنصیبات اور کچھ کارخانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عاصم منیر تہران اور شہباز شریف جدہ میں: ’یہ دلچسپ ہے کہ امریکہ اب پاکستان کو واحد ثالث قرار دے رہا ہے‘ٹرمپ کا اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کا عندیہ: ایران، امریکہ مذاکراتی عمل کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟’ٹرمپ نے کہا کہ میں آپ کی جگہ ہوتا تو اسلام آباد میں ہی رُکتا‘: جب امریکی صدر خود فون کر کے آپ کو خبر دےثالثی کے لیے ’اچھے میزبان‘ پاکستان کو مذاکرات سے کیا حاصل ہوا اور اب اس کے لیے آگے کا راستہ کیا ہے؟

سفر کے دوران جب ہم ایک ریستوران میں رُکے تو اُس دوران مجھے صدر ٹرمپ کی دھمکی یاد آئی۔ سات اپریل کو اُنھوں نے کہا تھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔‘

یہاں سینکڑوں سال پرانے کاروان سرائے اور مسافروں کے سرائے ہیں جہاں پتھر کی چھتیں اور شیشے کی کھڑکیاں ہیں، جو ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کی علامت ہیں۔

آج کے دور کے ایران کا رہن سہن بھی ہمارے سامنے ہے، جہاں کچھ خواتین نے برقعے پہن رکھے ہیں جبکہ بعض نے سکارف لے رکھے ہیں جبکہ کچھ سر ڈھانپے بغیر گھوم رہی ہیں۔ یہ سنہ 2023-2022 میں ایران میں خواتین کی آزادی کے سلسلے میں ہونے والے مظاہروں کی میراث ہے۔

خواتین اب ماضی کے ایران میں جانے سے انکاری ہیں، حالانکہ اب بھی ملک میں خواتین سے متعلق سخت قوانین ہیں اور خلاف ورزی پر سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔

ایران میں شاہراہوں پر سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بینرز آویزاں ہیں، جن پر آیت اللہ روح اللہ خمینی، آیت اللہ علی خامنہ ای اور مجتبی خامنہ ای کی تصاویر ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ مجتبی خامنہ ای بھی ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور اس کے بعد سے انھیں عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ اور ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے قدیم دُشمن (امریکہ) کے ساتھ صدیوں پرانے تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک نیا سیاسی اور سیکیورٹی نظریہ تیار کر رہے ہیں۔

ان تنازعات میں جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا معاملہ بھی شامل ہے۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹوں تک ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بدھ کو مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

جب امریکی نائب صدر اتوار کی صبح اسلام آباد سے روانہ ہوئے تو اُنھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے ’آخری اور بہترین پیشکش‘ میز پر رکھ دی ہے۔ اس دوران صدر ٹرمپ کے بیانات بھی تواتر سے آ رہے ہیں جس میں وہ عندیہ دے رہے ہیں کہ سفارتکاری کا عمل جاری ہے۔

بدھ کو ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران جنگ کا مکمل خاتمہ، پابندیاں ہٹانا اور ایران امریکہ، اسرائیل حملے سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایران آئندہ کبھی یورینیم کو افزودہ نہ کرے اور اس سلسلے میں اپنی تمام سہولیات کو بھی ختم کرے۔

امریکہ کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولے جبکہ خطے میں اپنے شراکت داروں اور پراکسیوں بشمول حماس اور حزب اللہ کے لیے فنڈنگ ختم کرے۔

EPA

ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران نے جوہری افزودگی پر 20 سال کی پابندی کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور پانچ سال کے وقفے کی تجویز پیش کی ہے جو اس نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے بھی پیش کی تھی۔

ایران افزودہ کی گئی 440 کلوگرام یورینیم بھی حوالے کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

بدھ کے روز ایران کی اعلیٰ ترین آپریشنل کمانڈ کے طاقتور کمانڈر علی عبداللہی نے دھمکی دی کہ ایران خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں بھی سمندری ٹریفک کی روانی میں خلل ڈال سکتا ہے۔

جیسے ہی ہم جلدی جلدی میں تہران پہنچے تو معلوم ہوا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ثالثی کی کوششوں کو تیز کرنے اور اختلافات کم کرنے کے لیے دارالحکومت تہران پہنچے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے بارے میں بات چیت جاری ہے، جس کے دوبارہ اسلام آباد میں ہونے کی توقع ہے اور پاکستان ہی ثالثی کرے گا۔

واشنگٹن سے اب یہ تاثر مل رہا ہے کہ امریکہ دوبارہ کسی بڑے حملے کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔ ایران میں بھی شہریوں نے اب چیزوں کی ذخیرہ اندوزی ختم کر دی ہے۔ لیکن اب بھی لوگ ملک کے مستقبل کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔

ابھی اپریل کا وسط ہے، ایرانی عوام پہلے ہی غیر معمولی ملک گِیر مظاہرے دیکھ چکے ہیں جنھیں طاقت کے ذریعے کچل دیا گیا تھا اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دوران انٹرنیٹ کی بندش اور دیگر پابندیوں نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا تھا۔

بہت سے لوگ اب کسی معاہدے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جس سے ایران پر سے پابندیاں ہٹ جائے اور اس کے ذریعے ایسی تبدیلی آئے جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لایز ڈوسیٹ تہران سے اس شرط پر رپورٹ کر رہی ہیں کہ ان کا کوئی بھی مواد بی بی سی کی فارسی سروس پر استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں ایران میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی میڈیا تنظیموں پر لاگو ہوتی ہیں۔

سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران جنگ اور لیگو: بی بی سی کو پروپیگنڈا ویڈیوز بنانے والے ایرانی شہری نے کیا بتایا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More