تقریباً 40 دن کی جنگ کے بعد بالآخر امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی بات چیت کے ذریعے کسی دیرپا امن معاہدے تک پہنچ جائے گی۔
جب وزیرِاعظم شہباز شریف کی کابینہ میں شامل وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے مذاکرات کی کامیابی کی امیدوں کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ: ’ہم دعا گو ہیں، کوشش کر رہے ہیں، اچھے کی امید رکھیں۔‘
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر امریکہ کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف شامل ہیں۔
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مذاکراتی وفود کی نقل و حرکت پوشیدہ رکھے جانے کا امکان ہے، لیکن اسلام آباد میں صورتحال سے آگاہ ایک ذریعے نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ فی الحال توقع یہی ہے کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ دو دنوں پر محیط ہوگا۔
ذریعے کا دعویٰ ہے کہ گفت و شنید کے ابتدائی راؤنڈ میں پاکستانی قیادت دونوں وفود کے ساتھ ساتھ علیحدہ ملاقاتیں کرے گی اور پھر بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔ تاہم سرکاری طور پر پاکستانی حکومت نے اس بارے میں تاحال کچھ نہیں کہا ہے۔
Getty Images
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکی، مصر اور چند دیگر ممالک کی کوششوں کے سبب ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ضروری ہوئی ہے لیکن اسلام آباد کے لیے اس عارضی جنگ بندی کو کسی دیرپا معاہدے تک پہنچانا آسان کام نہیں ہوگا۔
’مذاکرات کی کامیابی ایران اور امریکہ پر ہی منحصر ہے‘
بدھ کی رات سے ایران کی قیادت کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جنھیں پڑھ کر لگا کہ شاید یہ جنگ بندی زیادہ دیر قائم نہیں رہ پائے گی۔
اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے اور ایران نے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی تھا، جہاں اس کا حامی عسکری گروہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف لڑ رہا ہے۔
تاہم امریکہ اور اسرائیل دونوں نے اس کی تردید کی، لیکن پھر جمعرات کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ بنیامین تین یاہو نے اپنی حکومت کو لبنان کے ساتھ مذاکرات کی ہدایات دے دی ہیں۔
اس بیان کی آمد سے قبل لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے گفتگو کی تھی اور پاکستان کے وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق لبنانی وزیر اعظم نے ملک پر حملوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ’حمایت‘ مانگی تھی۔
اس پیشرفت کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کم از کم ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور تو ضرور ہوگا، لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ ان کی کامیابی کا دارومدار تہران اور واشنگٹن پر ہی ہوگا۔
’قابلِ قبول‘ وینس اور پاسدارانِ انقلاب کا ’سیاسی چہرہ‘ قالیباف: ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیمیں اور بات چیت سے جڑی اُمیدیںایران-امریکہ جنگ بندی: پاکستان کی سفارتی کوششوں نے کیسے دو حریفوں کو مذاکرات پر راضی کیا؟جنگ بندی میں لبنان کی شمولیت پر ’غلط فہمی‘ کا تنازع کیا ہے؟’پتھر کے دور‘ سے ’مشرق وسطیٰ کے سنہرے دور‘ تک: جنگ بندی کا مطلب وقتی مہلت ہے، جو شاید دیرپا نہ ہو
ایرانی امریکی تاریخ دان اور پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی پر لکھی جانے والی کتاب ’دا شیڈو کمانڈر‘ کے مصنف آرش عزیزی نے بی بی سی اردو کوبتایا کہ ’پاکستان نے اب تک بطور ثالث ایک اہم کردار ضرور ادا کیا ہے لیکن یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان ہی ہوں گے۔‘
’سارے عمل کا دارومدار اسی بات پر ہوگا کہ ایران اور امریکہ اپنے بیان کردہ مؤقف سے کتنا پیچھے ہٹیں گے۔‘
آرش عزیزی سمجھتے ہیں کہ ’کسی معاہدے کی راہ میں اب بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں، تاہم فریقین دوبارہ میدانِ جنگ کی طرف لوٹنے کے معاملے میں محتاط نظر آتے ہیں، لگتا یہی ہے کہ جنگ بندی کا کوئی (دیرپا) معاہدہ ممکن ہے۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے میں پاکستان کی سویلین حکومت اور چیف آف ڈیفینس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں نے گذشتہ ایک مہینے سے زیادہ کے عرصے میں عوامی اور نجی سطح پر دنیا کے بیشتر ممالک کے سربراہوں سے بات چیت کی ہے۔
جہاں ایک طرف وزیرِاعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ایران، خلیجی ممالک، چین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں تھے، وہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت متعدد غیرملکی رہنماؤں سے پسِ پردہ رابطے کرتے رہے ہیں۔
تاہم مذاکرات میں آگے کا سفر شاید تھوڑا مشکل ہو۔
پاکستان پر لکھی گئی متعدد کتابوں کے مصنف اور امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے بطور سینیئر فیلو منسلک ڈینیئل مارکی اسی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
Getty Images
انھوں نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’پاکستان کا کردار بات چیت میں ایک سہولت کار کا ہے اور وہ ایک ثالث نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان فریقین کے درمیان پیغام رساں کا کردار ادا کر کے انھیں اس جنگ سے نکلنے کے لیے فیس سیونگ کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔‘
تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ: ’لیکن پاکستان اتنا اثر و رسوخ نہیں رکھتا کہ وہ کسی بھی فریق کو کوئی ایسا قدم لینے کے لیے قائل کر سکے جس وہ (فریقین) قومی مفاد میں نہ سمجھتے ہوں۔‘
کچھ مبصرین کو خدشہ ہے کہ شاید مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات نمٹ نہ سکیں۔
امریکہ میں مقیم دفاعی اور خارجہ امور کی تجزیہ کار ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ ’(دیر پا) جنگ بندی کے لیے مذاکرات اکثر زیادہ وقت لیتے ہیں اور یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی پہلی کوشش ناکام ہو جاتی ہے۔‘
تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ ’اس صورتحال میں سب سے بڑی بات یہی ہے کہ بالآخر جنگ بندی پر کام ہو رہا ہے اور بالآخر پاکستان اور دیگر ممالک امریکہ اور ایران کو دو ہفتوں کی جنگ بندی اور ایک نیوٹرل مقام پر بیٹھنے کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘
پاکستان، ایک ’بین الاقوامی کھلاڑی اور امن کار‘
جہاں ایک طرف پوری دنیا کی نظریں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر ہیں، وہیں ماہرینِ خارجہ أمور گذشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کی بدلتی ہوئی ساکھ کو بھی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
آرش عزیزی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ٹرمپ انتظامیہ اور ایرانی حکومت دونوں سے ہی ’شانداز‘ تعلقات ہیں اور ’وہ کوشش کرے گا کہ دنیا میں اپنی ساکھ بطور بین الاقوامی کھلاڑی اور امن کار تسلیم کروائے۔‘
’اس نے اس صورتحال میں چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر کیا ہے اور اس کے سبب انڈیا میں کچھ لوگوں کو غصہ بھی ہے کہ اس سب کے نتیجے میں پاکستان کا قد بڑا ہو رہا ہے۔‘
تاہم یہ بات بھی یقینی ہے کہ اس جنگ کے اختتام سے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی اپنے مفادات جُڑے ہیں۔
ڈینیئل مارکی کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے کسی طویل جنگ کے معاشی اور سیاسی نتائج سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتا۔‘
Getty Images
صدر جو بائیڈن کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ نظر آیا تھا لیکن صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں گذشتہ برس سے اسلام آباد نے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔
ڈینیئل مارکی کے مطابق ’ٹرمپ انتظامیہ نہ صرف پاکستان کے رہنماؤں کی تعریف کرتی ہوئی نظر آتی ہے بلکہ انھیں وائٹ ہاؤس بھی مدعو کرتی رہی ہے۔‘
گذشتہ ایک برس کے عرصے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر دو مرتبہ صدر ٹرمپ سے ملنے وائٹ ہاؤس جا چکے ہیں اور ایک موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ان کے ہمراہ تھے۔
غزہ کے لیے قائم کردہ بورڈ آف پیس کی افتتاحی تقریب میں بھی صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم شہباز شریف اچھے ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔
ڈینیئل مارکی کہتے ہیں کہ ’پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ وہ یہ مثبت روش جاری رکھے اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں بطور سہولت کار کام کر کے وہ امریکہ کے لیے فائدے مند ثابت ہونا چاہتا ہے۔‘
’سفارتی تنہائی سے نکل جانا، خطے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بہتر کرنا اور امریکہ اور سعودی عرب جیسے مالدار اور طاقتور ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری پاکستانی قیادت کے لیے کسی انعام جیسا ہی ہے۔‘
Getty Images
لیکن اگر ایران اور امریکہ کے درمیان بنا کسی نتیجے کے ختم ہوئے تو کیا ہوگا؟ ڈاکٹر سحر خان اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ: ’اگر یہ مذاکرات ناکام بھی ہوئے تب بھی پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہے۔‘
’مذاکرات کی میزبانی سے یہ بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان ہر کسی کا نقطہ نظر سمجھتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے بات چیت کے لیے قائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اگر مذاکرات کا پہلا دور بلا نتیجہ ختم ہوا تب بھی اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کا کام جاری رکھے گا۔
’اس سارے معاملے میں پاکستان کے لیے سب سے مفید بات یہ ہے کہ اب خطے میں اب اس کی حیثیت بڑی ہو رہی ہے، اس کی علاقائی اور سٹریٹجک قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
’اب وہ بین الاقوامی سطح پر ایک مرکزی کھلاڑی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اسے اب دیوار سے نہیں لگایا جا سکے گا۔‘
ایران - امریکہ، اسرائیل جنگ میں آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ثابت ہو رہی ہے؟ایرانی سرزمین پر امریکی اہلکار کو ریسکیو کرنے کا مشن: ’بتایا گیا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک مشن ہے، مجھے لگا کہ خطرہ مول لیا جا سکتا ہے‘ ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟’ناکامی کے امکانات سے بھرپور‘: ایرانی یورینیم قبضے میں لینے کا ممکنہ امریکی منصوبہ اِتنا خطرناک کیوں ہے؟مہینوں کی منصوبہ بندی اور عین وقت پر ملنے والی خفیہ اطلاع: خامنہ ای کو قتل کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟