Getty Images
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے کے بعد گزرنے والے ہفتوں میں جنگ کی پیش رفت کے حوالے سے ایک جنگ امریکہ کی عسکری طاقت کے بیانیے کے حوالے سے بھی جاری ہے۔
جنگ کے پہلے ہفتے سے ہی میں پینٹاگون کے اندر سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے دی جانے والی پریس بریفنگ میں شریک ہو رہا ہوں۔
صحافیوں کو دی گئی پہلی بریفنگ، جس میں انھوں نے امریکہ کے جنگی مقاصد واضح کیے، سے لے کر دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد تازہ ترین بریفنگ تک، دنیا کی سب سے طاقتور فوج کی قیادت کرنے والے ہیگسیتھ ٹی وی پر کی جانے والی بات چیت جیسی یک طرفہ گفتگو پینٹاگون کے پوڈیم پر پیش کرتے رہے ہیں۔
ان میں امریکی فوجی برتری کے مناظر کو نمایاں طور پر سراہا گیا۔ ہیگسیتھ نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ نے ایک ’واضح اور فیصلہ کن فوجی فتح‘ حاصل کی ہے۔
ایک اور بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ’پورا دن آسمان سے موت اور تباہی برسائی۔‘
تاہم جنگ میں پیش رفت اور اس کے نتیجے میں امریکہ کو پہنچنے والے نقصانات کی اصل حقیقت تک پہنچنے کے لیے کہیں گہری جانچ پڑتال درکار رہی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ نے آخر اس جنگ سے کیا حاصل کیا ہے اور ان کامیابیوں کے لیے اس نے کیا قیمت چکائی ہے۔
جوہری مسئلے پر محدود پیش رفت
صدر ٹرمپ کا اس جنگ میں بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا، ایک ایسی چیز جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی اس کا ارادہ ہی نہیں کیا۔
تاہم یہ مقصد کئی برسوں سے امریکہ کی قیادت میں ہونے والی سفارت کاری کا بھی حصہ رہا ہے۔ ٹرمپ کا ماننا تھا کہ 2015 میں اوباما کی ثالثی میں ایران کے ساتھ طے پانے والا عالمی جوہری معاہدہ، جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے، بہت کمزور تھا۔
اپنی پہلی مدتِ صدارت میں ٹرمپ نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ایران، جو اس معاہدے کی پاسداری کر رہا تھا، پر دوبارہ پابندیاں عائد کر کے عملاً امریکہ کو اس سے باہر نکال لیا۔
یہ سفارت کاری کے بجائے طاقت کے استعمال کا انتخاب تھا۔ بعد ازاں امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا، جس کے بعد صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں اور فوجی کارروائیوں کے درمیان پھنسے رہے۔ یہی طرزِ عمل بالآخر موجودہ جنگ پر ختم ہوا۔
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان غیر مستحکم جنگ بندی برقرار ہے اور ایسے میں جوہری معاملے پر ٹرمپ کے لیے کسی بھی نمایاں یا ٹھوس کامیابی کے شواہد بہت کم نظر آتے ہیں۔
BBC
ٹرمپ نے گذشتہ برس جون میں کہا تھا کہ اصفہان، فردو اور نطنز میں جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد ایران کی جوہری صلاحیتیں پہلے ہی ’مکمل طور پر تباہ‘ ہو چکی ہیں۔ تاہم اب مزید پانچ ہفتوں کی جنگ کے بعد بھی آج ایران اپناہتھیار بنانےکے درجے کی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملبے کے نیچے گیس سلنڈروں میں محفوظ ہے۔
جنگ کے تیسرے ہفتے میں عالمی جوہری نگراں ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے مجھے بتایا تھا کہ ایران کے جوہری عزائم کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی اب ایران کے ساتھ مل کر ’گہرائی میں دبی ہوئی… تمام جوہری دھول کو کھود کر نکالنے‘ پر کام کرے گا۔
تاہم اس معاملے پر تہران بدستور سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور یہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے متوقع مذاکرات میں ایک فیصلہ کن نکتہ ہوگا۔
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایران اب امریکہ کی طرف سے دوبارہ حملے کو روکنے کی کوشش میں جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے عزم میں مزید مضبوطی لا سکتا ہے۔
ایرانی اسلحے کا ذخیرہ
جب ٹرمپ نے اپنی مار-اے-لاگو رہائش گاہ سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے جنگ کا اعلان کیا تو ان کے بیان کردہ مقاصد میں حکومت کی تبدیلی بھی شامل تھی۔ انھوں نے ایران کے عوام سے کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری رکنے کے بعد وہ اپنی حکومت کا کنٹرول سنبھال لیں۔
چند ہی دنوں کے بعد انھوں نے حکومت سے ’غیرمشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ کیا، جو کہ اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ سطح کی شخصیات کو ہلاک کیا لیکن ان کے بیٹے مجتبیٰ کو ان کا جانشین نامزد کر دیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں کم ’انتہاپسند‘ اور کہیں زیادہ ’ذہین‘ ہے۔ انھیں امید تھی کہ وہ ایران میں بھی وینزویلا جیسا ہی طرزِ عمل دُہرائیں گے، جہاں ان کی فوج نے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک کی جیل میں ڈال دیا تھا، جس کے بعد کاراکاس میں باقی ماندہ قیادت واشنگٹن کی مرضی کے تابع ہو گئی تھی۔
تاہم اب تک تہران میں ایسی کسی پیش رفت کے شواہد نظر نہیں آتے۔
’اچھے کی امید رکھیں‘: اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟کیا امریکہ-ایران جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو ملنا انڈیا کے لیے دھچکا ہے؟’اسرائیل دہشتگردوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا‘: پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان پر اسرائیل کا ردِعملجنگ بندی میں لبنان کی شمولیت پر ’غلط فہمی‘ کا تنازع کیا ہے؟
ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہکے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اس کی روایتی فوجی قوت کو تباہ کر دیا ہے، جس میں میزائلوں، لانچرز، ڈرونز، اسلحہ ساز فیکٹریوں اور بحریہ کو ’مکمل طور پر ختم کرنا شامل ہے۔‘
تاہم میزائل اور ڈرون ذخائر کے معاملے میں اس دعوے کو لیک ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس کے ذریعے چیلنج کیا گیا ہے، جن کے مطابق ایران حقیقت میں جنگ سے پہلے کے اپنے ذخیرے کا تقریباً نصف حصہ اب بھی برقرار رکھتا ہے۔ بی بی سی ان میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
جنگ کی قیمت
اس جنگ کے دوران اب تک 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بہت تیزی سے استعمال ہوا، جس میں بڑی تعداد میں ٹوماہاک میزائل بھی شامل ہیں، جبکہ جنگ پر آنے والی لاگت کا اندازہ روزانہ ایک ارب ڈالر سے زائد لگایا جا رہا ہے۔
اسی دوران امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف بے مثال فوجی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی برتری کے باعث فضائی مہم مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لی گئی، جس کے نتیجے میں تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا۔
تاہم داخلی سطح پر بھی اس جنگ کی ٹرمپ کو سیاسی قیمت چکانی پڑی ہے۔ عوامی سرویز مسلسل یہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ امریکی عوام کی ایک اقلیت ہی اس جنگ کی حمایت کرتی ہے۔
کانگریس میں ٹرمپ کی حمایت بڑی حد تک جماعتی بنیادوں پر منقسم رہی ہے، جہاں ریپبلکن ارکان ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
تاہم رواں ہفتے کے آغاز تک کچھ ارکان نے سوشل میڈیا پر ایک پوری تہذیب کو تباہ کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی کی کھلے عام مخالفت شروع کر دی تھی۔
Getty Imagesاس جنگ کے دوران اب تک 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں
جنگ کے دوران ٹرمپ کی ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ تحریک میں شامل بااثر شخصیات، جیسے پوڈکاسٹ ہوسٹ اور صحافی ٹکر کارلسن، واضح طور پر ان سے اختلافِ رائے کرتے ہوئے نظر آئے۔
اتوارکو جب ٹرمپ نے ایرانی انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکیوں میں اضافہ کیا تو مارجوری ٹیلر گرین، جو کبھی ان کی حامی تھیں لیکن بعد میں علیحدہ ہو گئیں، نے کہا: ’یہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کا عمل نہیں ہے، یہ ایک برائی ہے۔‘
ٹرمپ کی تحریک کے اندر موجود دراڑیں بھرنے کے اس وقت بہت کم آثار دکھائیدے رہے ہیں۔
اسی دوران ڈیموکریٹس بھی ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف ان کے توہین آمیز بیانات پر یکساں طور پر برہم تھے۔
انھوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بارے میں سوالات کے جواب دے کہ آیا جنگ کے پہلے روز ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کے پیچھے امریکی میزائل تھا یا نہیں، جس میں کم از کم 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 110 بچے شامل تھے۔
اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کے بدترین واقعات میں سے ایک ہوگا۔
میں نے اس بارے میں ہیگسیتھ اور سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو دونوں سے سوال کیے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کر رہا ہے، لیکن تقریباً چھ ہفتے گزرنے کے باوجود اب تک کوئی نتائج جاری نہیں کیے گئے۔
اس ہفتے کئی امریکی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ کابینہ موجودہ صدر سے اختیارات واپس لینے کے لیے آئین کی 25ویں ترمیم کو نافذ کرے۔
دوسری جانب انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی دھمکیوں نے ایران کو پسپا ہونے پر مجبور کیا اور ان کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا: ’صدر ٹرمپ کی امریکہ کے مفادات کو کامیابی سے آگے بڑھانے اور امن کی ثالثی کرنے کی صلاحیت کو کبھی کم نہ سمجھیں۔‘
اس حوالے سے واضح فیصلہ ممکنہ طور پر نومبر میں امریکی عوام دیں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معاشی اثرات کے باعث امریکہ میں پہلے ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے اثرات جلد ہی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آنے کی توقع ہے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر عوامی غصہ اس سال کے وسط مدتی انتخابات کو ٹرمپ کی جماعت کے لیے مشکل بنا سکتا ہے۔
یہ صورتِ حال جنگ کے باعث مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں رپبلکنز ایوانِ نمائندگان پر اپنا کنٹرول کھو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر سینیٹ بھی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے لیے یہ ایک بہت بھاری قیمت ثابت ہو گی۔
ایران کی جانب سے روایتی فضائی جنگ کے جواب میں شورش پسندانہ حکمتِ عملی اختیار کیے جانے کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی بحران کے پیشِ نظر ٹرمپ کو ردِعمل دینا پڑا۔ اس طرح آبنائے ہرمز کو کھلوانا بھی ٹرمپ کے جنگی مقاصد میں شامل ہوگیا، جو جنگ کی شروعات سے پہلے کھلی ہوئی تھی۔
امریکی اتحادیوں کی تضحیک
جب ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالا تو ٹرمپ اس کے جواب میں بار بار اپنا مؤقف بدلتے رہے کہ اس عمل کا جواب کیسے دیا جائے۔ وہ اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کا مطالبہ کرنے سے لے کر، یہ کہنے تک پہنچ گئے کہ امریکہ کو ان کی مدد کی ضرورت نہیں۔
پھر دوبارہ ان سے مدد کی اپیل کی اور آخرکار مدد نہ کرنے پر دیرینہ اتحادیوں کو ’بزدل‘ قرار دینے لگے۔
نیٹو کے اندر پہلے ہی کمزور پڑتی ہوئی ہم آہنگی ایران کی جنگ کے باعث اور بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹرمپ نے اس اتحاد پر اپنے حملے دوبارہ تیز کر دیے ہیں، جس نے باضابطہ طور پر اس تنازع میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بات چیت کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ گفتگو ’نہایت صاف گو اور کھری‘ تھی۔
صدر ٹرمپ کا خیال ہو سکتا ہے کہ امریکی فوج کی برتری طویل مدت میں امریکہ کے ایک سپر پاور کے طور پر کردار کو محفوظ رکھے گی۔ تاہم یورپی ممالک پہلے ہی ایسے راستوں پر غور کر رہے ہیں، جن کے ذریعے وہ اس طاقت پر اپنا انحصار کم کر سکیں، جسے وہ اب ناقابلِ بھروسا محافظ سمجھتے ہیں۔
یہ چین کے لیے ایک ممکنہ معاشی اور سٹریٹجک فائدہ ہے اور اسی نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ناقدین میں تشویش اور بے چینی پیدا کی ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کی حقیقی قیمت کا تعین ابھی ہونا باقی ہے اور اگر یہ جنگ بندی یا مذاکرات ناکام ہو گئے تو یہ قیمت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
’اچھے کی امید رکھیں‘: اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟کیا امریکہ-ایران جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو ملنا انڈیا کے لیے دھچکا ہے؟’اسرائیل دہشتگردوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا‘: پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے بیان پر اسرائیل کا ردِعملترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی مدد کیسے کی؟’قابلِ قبول‘ وینس اور پاسدارانِ انقلاب کا ’سیاسی چہرہ‘ قالیباف: ایران اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیمیں اور بات چیت سے جڑی اُمیدیںجنگ بندی میں لبنان کی شمولیت پر ’غلط فہمی‘ کا تنازع کیا ہے؟