’پاکستان کی درخواست پر‘ امریکہ اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر کیسے اور کن شرائط پر تیار ہوئے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 08, 2026

منگل اور بدھ کی درمیانی رات تھی۔ پاکستان کی گھڑیاں تین بج کر 32 منٹ دکھا رہی تھیں، امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شام کے 6:32ہو رہے تھے اور ایران میں رات کے دو بج کر دو منٹ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ اور 28 منٹ باقی رہ گئے تھے۔ وہ دھمکی دے چکے تھے کہ ’آج رات پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔‘

ٹرمپ ایران سے بارہا یہ مطالبہ کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز کھول دے اور اسے ’پتھر کے دور میں واپس‘ دھکیلنے کی دھمکیاں دے چکے تھے۔

جبکہ ایرانی تہذیب کو مکمل ختم کرنے کی تازہ ترین دھمکی نے کئی خوفناک قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا۔ ہر کوئی یہی سوچ رہا تھا کہ امریکہ کوئی بہت ہولناک اور تباہ کن قدم اٹھانے جا رہا ہے۔

دنیا دم سادھے آنے والے وقت کا انتظار کر رہی تھی کہ پاکستانی وقت کے مطابق تین بج کر 32 منٹ پر امریکی صدر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے ایک پوسٹ کی گئی۔

اس پوسٹ میں دو ہفتے کی مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا: ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشلعاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں۔‘

امریکی صدر کی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ جنگ بندی دو طرفہ ہو گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے ان سے درخواست کی کہ وہ آج رات ایران پر حملے نہ کریں، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے رضا مند ہو۔

ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ معطل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے ہی تمام فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے سے ایک حتمی معاہدے پر بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔

پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انھیں ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔

امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ماضی کے تنازعات کے تقریباً تمام مختلف نکات پر امریکہ اور ایران میں اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم دو ہفتوں کی یہ مدت معاہدے کو حتمی شکل دینے اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مدد دے گی۔‘

تنازع میں شریک ملک اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے دو ہفتوں کے لیے حملے معطل کرنے کے مشروط فیصلے کی حمایت تو کی ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہو گا۔

اسرائیل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا: ’اسرائیل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے کہ ایران اب امریکہ، اسرائیل، اس کے عرب پڑوسیوں اور دنیا کے لیے جوہری، میزائل اور دہشت گردی کا خطرہ نہ بن سکے۔‘

بیان کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ان مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستان کی کوششیں

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی کریں تاکہ سفارت کاری جنگ کے حتمی خاتمے تک پہنچ سکے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’سفارت کاری کو اپنا راستہ مکمل کرنے دینے کے لیے، میں صدر ٹرمپ سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے ایرانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ نیک نیتی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دیں۔‘

اس اپیل کے بعد پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اس حوالے سے پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’فی الحال، صورتحال ایک نہایت نازک اور حساس مرحلے سے ایک قدم آگے بڑھ چکی ہے۔‘

رضا امیری نے تجویز دی کہ ’اگلے مرحلے میں ضروری ہے کہ احترام اور باہمی شائستگی کو ترجیح دی جائے اور بیان بازی اور غیر ضروری تکرار کی جگہ سنجیدگی لے۔‘

انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور نتیجہ خیز نیک نیتی پر مبنی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔‘

جنگ بندی کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کو جمعے کو اسلام آباد میں 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل کے لیے مدعو کیا ہے۔

’وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہہ دل سے شکریہ‘

اور پھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کا باضابطہ اعلان بھی کر دیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے ایک سرکاری بیان جاری کیا گیا، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا: ’اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے میں اپنے معزز بھائیوں، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنھوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔‘

انھوں نے لکھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پوسٹ پر برادرانہ درخواست کی اور امریکہ نے 15 نکاتی تجاویز کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کی، اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجاویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

عباس عراقچی نے لکھا: ’اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر ایران کے خلاف حملے روکے جاتے ہیں تو ہماری مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔‘

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا ممکن ہو گا، تاہم اس کے لیے ایرانی فوج سے باہمی رابطہ رکھنا ہو گا۔

ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟کیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟دبئی میں سیاحت کی صنعت پر جنگ کے اثرات اور ملازمت پیشہ تارکینِ وطن کی مشکلاتامریکہ اور ایران کے درمیان 15 روزہ مذاکرات جمعے کے روز سے پاکستان میں شروع ہوں گےAFP via Getty Imagesوزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ سے پائیدار امن ممکن ہو گا

پاکستان نے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی معاہدے کے بعد مذاکراتی ٹیموں کو جمعے کے روز اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کے منتظر ہیں۔

شہباز شریف نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’انتہائی عاجزی کے ساتھ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ، اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر جگہ بشمول لبنان فوری طور پر جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں اس دانشمندانہ فیصلے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ہی میں ان کی مذاکراتی ٹیموں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد تشریف لائیں، تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید بات چیت کی جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دونوں فریقوں نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں تعمیری طور پر مصروف رہے ہیں۔‘

شہباز شریف نے کہا کہ ’ہمیں پوری امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے قیام میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔‘

ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ چالیس دنوں میں ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے، اور جنگ کے بیشتر اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔

بیان کے مطابق ایران نے ابتدا سے ہی فیصلہ کیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچا دیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایران نے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی متعدد ڈیڈ لائنز کو مسترد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دشمن کی کسی بھی مہلت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق اب جبکہ ایران کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہے، اور امریکہ اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کر چکا ہے، اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات جمعے کے روز اسلام آباد میں ہوں گے تاکہ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سیاسی سطح پر بھی مضبوط کیا جا سکے۔ بیان کے مطابق یہ مذاکرات زیادہ سے زیادہ 15 دن جاری رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔

ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا کیا ہے جس پر امریکہ مذاکرات پر تیار ہوا؟

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان نکات میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ اور ایران کے لیے اہم سیاسی و اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔

ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات:

عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی۔ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔

یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جسے ٹروتھ سوشل پوسٹ پر امریکی صدر نے بھی ’مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی سرزمین پر امریکی اہلکار کو ریسکیو کرنے کا مشن: ’بتایا گیا تھا کہ یہ انتہائی خطرناک مشن ہے، مجھے لگا کہ خطرہ مول لیا جا سکتا ہے‘ ’اربوں کی سرمایہ کاری چند ہزار ڈالرز کے ڈرونز کی مار:‘ ایران جنگ کے معاشی اثرات جھیلتے خلیجی ممالک کے پاس آگے کیا راستہ ہے؟مہینوں کی منصوبہ بندی اور عین وقت پر ملنے والی خفیہ اطلاع: خامنہ ای کو قتل کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟امریکی اڈوں کی موجودگی کے باوجود ایران کا رویہ عمان کے لیے ’نرم‘ کیوں ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More