Reuters
منگل کی دوپہر جب پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر نے سوشل میڈیا پر پاکستان کی جانب سے ثالثی کی ’مثبت اور تعمیری کوششوں‘ کی ایک ’اہم اور نازک مرحلے میں‘ داخل ہونے کی شنید دی، تو اس کے کچھ ہی دیر بعد پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سعودی عرب میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر ڈرون و میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جس کی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ناصرف مذمت کی بلکہ اسے ’جارحیت‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایوانِ بالا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آخری لمحے تک فریقین کے درمیان معنی خیز رابطہ کاری کا ماحول بنانے کی کوشش کی ہے لیکن تازہ پیش رفت نے صورتحال کو کشیدہ بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران پر ایک بڑے اسرائیلی حملےاور پھر ایران کے سعودی عرب میں الجبیل پر حملے نے صورتحال کو مزید ’خطرناک اور حساس‘ بنا دیا ہے۔
یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معاہدہ کرنے کی غرض سے دی گئی مہلت ختم ہونے میں محض چند گھنٹے ہی باقی ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز نہ کھولنے اور معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ’آج رات پوری تہذیب‘ مٹا دینے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن یہ عمل کیسے آگے بڑھ رہا ہے اس بارے میں کوئی مصدقہ معلومات موصول نہیں ہو رہی ہیں۔
مصدقہ اطلاعات کی غیرموجودگی میں منگل کو پاکستان میں ایرانی سفیر رضا ایرانی مقدم کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ منظرِعام پر آئی جس میں کہا گیا کہ ’پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہو چُکی ہیں۔‘
ابھی اس پوسٹ پر تجزیے اور تبصرے ہی ہو رہے تھے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سعودی عرب میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی جس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی ’مذمت‘ اور ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا جبکہ منگل کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کے حملے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں پاکستان کو یقینی طور پر ایک پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف وہ اپنے دفاعی شراکت دار سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کر رہا ہے۔
ایسے میں یہ سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ اس صورتحال میں پاکستان کے ایران کے خلاف مذمتی بیانات اور اسلام آباد میں ایرانی سفیر کے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کے اشارے کیا معنی رکھتے ہیں؟
جنگ بندی کے لیے ثالثی پر پاکستان کی خاموشی اور ایرانی سفیر کے اشارے
ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے پاکستان گذشتہ کئی ہفتوں سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف دنیا بھر کے رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں، وہیں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اپنے ایرانی ہم منصب سمیت دیگر شخصیات کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں۔
تاہم اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر کسی بھی پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا جا رہا بلکہ زیادہ تر خبریں امریکہ ذرائع ابلاغ میں شائع ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کار اور سابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا معاملہ بہت حساس ہے اور پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ کئی ممالک اس مصالحت سے خوش نہیں ہیں اور اسے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
سینیئر صحافی کامران یوسف کا کہنا ہے کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف اور وزارتِ خارجہ کی کوششوں کی تفصیلات کچھ بیانات کی صورت میں ضرور سامنے آتی ہیں لیکن اس کے علاوہ ’عسکری اور انٹیلجنس کی سطح پر زیادہ فعال رابطے جاری ہیں، لیکن وہاں سے کوئی معلومات سامنے نہیں آ رہیں کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ یہ حساس معاملہ ہے اور وقت سے پہلے معاملات کو ظاہر کرنے میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔‘
شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات اور ایران جنگ کے پس منظر میں پاکستان کے سٹریٹیجک خدشات’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارامریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ، پانچ نکاتی اعلامیہ اور چین کا ممکنہ کردار: ایران جنگ رُکوانے کے لیے چین ’ضامن‘ بن سکتا ہے؟
سابق سفارتکار آصف درانی بھی کامران یوسف سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’جب تک مذاکرات کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچتے اس بارے میں زیادہ معلومات شیئر نہیں کی جاتیں۔‘
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کے مابین بات چیت جاری ہے اور دونوں ممالک پاکستان کی بات سن رہے ہیں۔‘
تجزیہ کاروں کے خیال میں ایرانی کے سفیر کا یہ بیان اہم ہے کیونکہ جہاں وہ پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کر رہے ہیں وہیں یہ اس چیز کی جانب بھی اشارہ ہے کہ تمام مشکلات اور پچیدہ صورتحال کے باوجود بھی سفارتکاری سے معلاملات آگے بڑھنے کی اُمید موجود ہے۔
کامران یوسف کے مطابق ’پاکستان میں تعنیات ایرانی سفیر ماضی میں ایران کے سیکورٹی اداروں سے منسلک رہے ہیں اور اُن کا شمار اُن افراد میں ہوتا ہے، جنھیں ایران میں منصوبہ ساز اندرونی حلقوں تک رسائی حاصل ہے اس لیے اُن کا یہ بیان زیادہ اہم ہے۔‘
ان کے مطابق ’ایرانی سفیر نے اپنے بیان میں یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ پاکستان کی جانب کی جانے والی ثالثی کو کوششں میں کسی بریک تھرو یا کامیابی کا امکان موجود ہے۔‘
جنگ بندی میں شدید مشکلات لیکن کیا امریکہ اور ایران کسی ایک نکتے پر اتفاق کر سکتے ہیں؟
گذشتہ دو ہفتوں سے پاکستان کی قیادت میں ثالثی کے ذریعے جنگ بندی ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان اور جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے بنیادی نکات پر اختلاف ثالثی کی راہ میں ایک رُکاوٹ ہے۔
ایران اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکی تجاویز ایران کو دی گئی تھیں، جس کے بعد ایران نے اُن تجاویز کا جواب امریکہ کو دیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ’مستقل بنیادوں پر ختم کرنے‘ کے مقصد سے پاکستان کو امن تجاویز پیش کی ہیں۔
ارنا کے مطابق ایرانی وفد نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں، جنھیں جمع کروانے سے قبل ایرانی قیادت نے تقریباً دو ہفتوں تک تفصیلی جائزے کے بعد حتمی شکل دی۔
تجزیہ کار کامران یوسف کا کہنا ہے کہ ’اب تک سامنے آنے والی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے تحت، آبنائے ہرمز کھولی جائے اور پھر جامع معاہدے کے لیے بات چیت شروع ہو، جبکہ ایران نے اپنے 10 نکات میں عارضی جنگ بندی کو مسترد کیا ہے اور وہ جامع مذاکرات کے ذریعے مستقل جنگ بندی چاہتے چاہتا ہے۔‘
دیگر مطالبات میں خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا خاتمہ اور نقصانات کی ادائیگی کے لیے ہرجانہ وغیرہ شامل ہے۔
سابق سفارت کار آصف درانی کا کہنا ہے کہ ’ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات کے لیے بلند اور مشکل شرائط رکھیں ہیں اور اگر مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے تو کسی نکتے پر متفق ہونا پڑے گا۔‘
Getty Imagesلیکن اس صورتحال میں بریک تھرو کیسے مل سکتا ہے؟
کامران یوسف کا کہنا ہے کہ ’ان حالات میں آبنائے ہرمز ہی وہ واحد نکتہ ہے جس کے ذریعے بات چیت میں کوئی بریک تھرو مل سکتا ہے۔‘
کامران کے مطابق ’مذاکرات کے دوران اس معاملے پر بات ہو سکتی ہے اور عارضی جنگ بندی کے دوران یہ ممکن ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کم سے کم اُن جہازوں کے لیے کھول دے جو جنگ سے قبل وہاں پہنچے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ایران کے اس اقدام کو اعتماد سازی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور صدر ٹرمپ بھی اسے اپنے کامیابی کے طور پر امریکی عوام کے سامنے پیش کر سکتے ہیں اس طرح کسی ڈیل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے۔‘
پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ اپنے آپ کو سپر پاور کہتا ہے، ایران میں بہت تباہی ہو گئی ہے اور اب امریکہ کو چاہیے کہ اپنی انا کے بجائے مسئلے کے حل کی جانب بڑھے۔‘
کامران یوسف کے خیال میں ’جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا اور امریکہ بھی کہتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیے جائیں گے تو اس معاملے تو ایران اور امریکہ کسی حد تک ایک نکتے پر ہیں۔‘
’معاہدہ نہ ہونا تباہ کُن ہو گا‘
تجزیہ کاروں کے خیال میں سفارتکاری میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے لیکن اگر کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آتی تو یہ ایک تباہ کن صورتحال ہو گی۔
سابق پاکستانی سفیر عاقل ندیم کے مطابق پورا مشرقِ وسطیٰ اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران خلیجی ممالک پر حملے کر رہا ہے، دنیا کی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں اور اگر حملوں میں شدت آتی ہے تو مزید تباہی ہو گی۔‘
سابق سفیر عاقل نجم کا کہنا ہے کہ جنگ نہ رُکی تو آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ خلیج عدن میں باب المندب کی بحری گزرگاہ بھی بند ہو سکتی ہے۔
کامران یوسف کا کہنا ہے کہ ’اگر جنگ بندی میں پیش رفت نہیں ہوتی اور امریکہ کے حملوں میں ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ بہت تباہ کن ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایران جواب میں خلیجی ممالک کو ہدف بنائے گا اور مزید تباہی ہو گی جو امریکہ سمیت کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہے۔‘
آصف درانی کے خیال میں پاکستان اب بھی اس جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور اگر جنگ مزید طور پکڑتی ہے تو پاکستان کی عوام کے ساتھ حکومت کے لیے بھی مشکلات بڑھیں گی۔
اس صورتحال میں ایران کے سعودی عرب پر حملے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں۔ جہاں پاکستان ثالثی کی کوششیں تیز کر رہا ہے، وہیں اس کے جانب سے ایرانی حملوں کی مذمت بھی کی جار ہی ہے۔
’ضرورت پڑی تو پاکستان سعودی عرب کے دفاع کو تیار ہو گا‘
پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ برس ایک دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہو گا۔ خارجہ پالیسی اور سکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کے تناظر میں اسلام آباد کو ایران کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے تازہ حملے پریشان کر رہے ہیں۔
خیال رہے پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور فوج نے منگل کو جاری کردہ اپنے الگ الگ بیانات میں سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور سعودی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان ’مشکل کے اس وقت میں سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔‘
یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے منسلک خارجہ اور سکیورٹی امور پر تحقیق کرنے والے محمد فیصل کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف مذمتی بیانات ’پاکستان کو درپیش چیلنجز کی عکاسی کرتے ہیں، ابھی بھی اس کی ترجیج کشیدگی کو کم کرنا اور ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کو کم کرنا ہی ہے۔‘
محمد فیصل کہتے ہیں کہ ’ان بیانات سے قبل بھی پاکستان ایران کو یہ باور کروا چکا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو پاکستان ریاض کو دیے گئے اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان ثالثی کے ذریعے اس تنازع کا حل چاہتا ہے لیکن اب وہ یہ اشارے بھی دے رہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سعودی عرب کا دفاع کرنے کو تیار ہے۔‘
کنگ فیصل سینٹر فور ریسرچ اینڈ اسلامِک سٹڈیز سے منسلک محقق عمر کریم بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سعودی عرب پر حالیہ ایرانی حملوں سے شاید پاکستان کی جنگ بندی کی کوششوں کو تو دھچکا نہ پہنچے لیکن ’یہ پاکستان کی طرف سے واضح اشارے ہیں کہ سعودی عرب پر حملے روکنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر امن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں، کیونکہ اس سے تنازع مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ حالیہ بیانات کو ’آپ پاکستان کی طرف سے وارننگ سمجھ لیں، لیکن ابھی بھی مذاکرات کی کامیابی ہی پاکستان کی پہلی ترجیح ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اُن کی رائے میں ’یہ اشارے ایران کو جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور اس لیے بھی کہ ایران آگاہ رہے کہ سعودی عرب پر مزید حملوں کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان بظاہر یہ واضح کر رہا ہے کہ ایسی صورتحال میں اس کی پوزیشن کیا ہو گی۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات اور ایران جنگ کے پس منظر میں پاکستان کے سٹریٹیجک خدشاتاسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ، پانچ نکاتی اعلامیہ اور چین کا ممکنہ کردار: ایران جنگ رُکوانے کے لیے چین ’ضامن‘ بن سکتا ہے؟’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارجنرل عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب: پاکستان کے فوجی سربراہان عہدہ سنبھالتے ہی سعودی عرب کیوں جاتے ہیں؟